پہلگام واقعہ کی آڑ میں بھارت نے 7 مئی سے 10 مئی تک 4 دنوں تک ننگی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں مختلف مقامات کو اپنے میزائلوں اور ڈورنز سے نشانہ بنانے کی ضرور کوشش کی لیکن بھارت کو پاکستان کی طرف سے اس کاجو جواب ملا ہے اتنا کاری ، ٹھوس ، جاندار، لاجواب اور بے مثال ہے کہ بھارت اتنے دن گزرنے کے باوجود اپنے زخم ہی نہیں چاٹ رہا ہے بلکہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف اس کے حکمران اور فوجی کمانڈر اپنے گوڈی میڈیا کی مدد سے جھوٹی ، فرضی اور خیالی کامیابیوں کا تذکرہ کر کے اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ بھارتی عوام اپنے حکمرانوں اور فوجی جرنیلوں کے کامیابی کے جھوٹے دعووں سے متاثر ہوتے ہیں یا نہیں لیکن دنیا بہر کیف بھارتی دعوئوں اور کامیابی کی جھوٹی اور فرضی کہانیوں کو ماننے یا اُن سے متاثر ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بھارتی حکمران جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں جدید ترین رافیل طیاروں سمیت اپنے کم از کم چھ طیاروں کی تباہی کو چھپا سکیں۔ بھارتی طیاروں کی تباہی ، اُن کے ملبے کے ڈھیر اور اُن کے ہوا بازوں کی اپنے طیاروں کے نشانہ بننے پر اُن سے چھلانگیں لگانے اور زخمی حالت میں فوجی ہسپتالوں میں پہنچائے جانے کے شواہد اتنے نمایاں، واضع اور ٹھو س ہیں کہ کسی کے بس کی بات نہیں کہ ان کو جھٹلا سکے۔ عالمی میڈیا میں ان کے بارے میں خبریں اور تفصیلات بار بار سامنے آ چکی ہیں جن کو جھٹلانا ممکن نہیں۔ یہی حال بھارت کے S-400 ریڈار سسٹم کی تباہی اور ناکارہ ہونے کا ہے اس کے پاکستانی میزائلوں نشانہ بننے کے بعد یہ سسٹم کسی کام کا نہ رہا۔ پھر 10 مئی صبح فجر کی نماز کے بعد اگلے چار ، پانچ گھنٹوں میں بھارت کے آدم پور، پٹھان کوٹ، بٹھنڈا اور اودم پور کے ہوائی اڈوں سمیت اُس کے 26 فوجی ٹھکانے اپنی تنصیبات سمیت جس طرح ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوئے اور بیاس کے کنارے اُس کے براہموس میزائلوں کے اڈے کو جو شدید نقصان پہنچا ، یہ سب کچھ اتنا نمایاں ، واضح اور ٹھوس ہے کہ دُنیا کے لیے اِسے تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔
بھارت مسلسل یہ دعویٰ کیے جا رہا ہے کہ 10 مئی کو دونوں ممالک کے درمیان جنگی کاروائیوں کو روکنے کے لیے سیز فائر پاکستان کی درخواست پر ہوئی۔ یہ سراسرجھوٹ اور غلط بیانی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اس حقیقت کا اظہار کر چکے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر امریکہ کی مداخلت اور ایما پر ہوئی۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خطرات کو بھانپتے ہوئے دونوں ملکوں کی حکومتوں اور مقتدر حلقوں سے رابطے کیے اور انہیں سیز فائر کے لیے آمادہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ میڈیا کو دئیے گئے اپنے انٹرویوز میں ایک سے زائد بار سیز فائر میں امریکہ کے کردار اور مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سیز فائر کے لیے امریکہ کے ساتھ ان دونوں ممالک کی تجارت کے معاملے کا تذکرہ کر کے اس سے بھی استفادہ کیا ہے ۔
بھارت تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن بھارت کو پہلگام واقعہ کی آڑ میں پاکستان کے خلاف اپنے ننگی جارحیت کے مقابلے میں جس ہزیمت ، پسپائی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اُس نے مئی کے ان دنوں کو پاکستان کے لیے یادگار بنا دیا ہے۔ یہ اللہ کریم کا خاص احسان ہے کہ پاکستان اس امتحان اور آزمائش میں سرخرو رہا ، اس کے وقار اور عزت میں اضافہ ہوا اور قوموں کی برادری میں وہ سر اُٹھا کر چلنے کے قابل ہوا۔ یہاں بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج خواہ بری فوج کے دستے ہوں ، اُن کا تعلق ائیر ڈیفنس سسٹم سے ہو یا پاکستان کی فضائیہ کے شاہین ہوں یا بحریہ کے جنگی جہاز یا مستعد نیوی ہو ، سب نے مل کر دُشمن کوہزیمت اور ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ چئیرمین جوائنٹ سٹاف کمیٹی جنرل شمشاد ساحر سے لے کر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر تک اور فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد سدھو سے لے کر چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف ہوں ان سب کا پاکستان کے لیے آزمائش کے ان انتہائی مشکل اور کڑے دنوں میں شاندار اور مدتوں یاد رہنے والا کردار رہا ہے۔ سروسز چیف نے بلا شبہ سب سے آگے رہ کر بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں انتہائی اہم ، دلیرانہ اور جاندار کردار ادا کیا ہے۔
سچی بات ہے کہ میں ذاتی طور پر سوچتا ہوں کہ یہ سب کیسے ہوااور یہ کامرانی پاکستان کے حصے میں کیسے آئی تو کوئی واضح جواب نہیں بن پڑتا ۔ ایک خیال ضرور ذہن میں اُبھرتا ہے کہ اللہ کریم اور اُس کے دین کے نام پر بننے والے اس ملک پاکستان نے بڑے زخم کھائے ہیں ،یہ دو لخت ہوا۔ یہ سیاسی اور انتظامی لحاظ سے عدمِ استحکام سے دوچار چلا آ رہا ہے ۔ اسے ناکام ریاست ہونے کے طعنے بھی سُننے پڑتے ہیں اور دہشت گردی کا ناسور اس کے لیے ایک مستقل عذاب کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ معاشی لحاظ سے یہ تباہی کے کنارے پر پہنچا ہوا ہے اور قوموں کی برادری میں اس کی ذرا بھی توقیر نہیں گردانی جاتی ہے۔ خرابیوں اور ذلت کی اس انتہاکا پچھلے کئی عشروں سے پاکستان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب اللہ کریم کو اس پر رحم آیا ، اُس کے پیارے حبیب ؐ کی نظرِ کرم ہوئی کہ اس مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سر اُٹھانے کا موقع ملا اور پاکستان کے لیے سر بلندی کی راہ ہموار ہوئی۔ پھر اللہ کریم جسے چاہتے ہیں عزت سے نوازتے ہیں شاید آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور اُن کے ہمعصر سروسز چیف کی قسمت میں یہ تھا کہ وہ بھارت کے مقابلے میں کامیابی اور کامرانی سمیٹیں اور تاریخ میں اُن کا نام امر ہو جائے اور رہتی دُنیا تک لوگ اُن کو اچھے لفظوں سے یاد کرتے رہیں۔
بات چلی ہے تو میں ضرور کہوں گا کہ میری عمر کے لوگوں کے نصیب میں اللہ کریم نے یہ سعادت لکھی تھی کہ ہم جنہیں پاکستان کے حوالے سے بڑے دُکھ سہنے پڑے ہیں انہیں پاکستان کی یہ بڑائی، عظمت اور عزت دیکھنی نصیب ہو۔ کم و بیش آٹھ عشروں پر مشتمل طویل حیاتی میں پاکستان کے بارے میں بہت کچھ اُونچ نیچ ، خوشیاں غم اور نشیب و فراز دیکھنے ، جاننے ، سُننے، سمجھنے اور پرکھنے کے مواقعے ملے اُمید افزائی اور یاس و نااُمیدی ساتھ ساتھ چلتے رہے ۔ اب سوچ کچھ ایسی ہو چکی تھی کہ پاکستان کی عزت اور وقار اور قوموں کی برادری بالخصوص عالمِ اسلام میں اس کے مقام اور مرتبے کے حوالے سے کوئی خاص اُمید نہیں رہی تھی۔ اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر کہ ہجری سال ۱۴۴۶کے ذیقعد کے مہینے کے ان دنوں میں پاکستان پوری توانائیوں اور عزت و وقار کے ساتھ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ انشاء اللہ یہ سلسلہ قائم رہے گا اور بھارت نے آئندہ بھی کوئی شرارت کی تو اُسے منہ کی ہی نہیں کھانی پڑے گی بلکہ زخم بھی چاٹنے پڑیں گے۔
بھارت زخم چاٹتا رہے گا… !
09:14 AM, 20 May, 2025