پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی والا ملک ہے، مگر آج بھی ناخواندگی، بے روزگاری اور غربت جیسے سنگین مسائل اس کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ خواندگی کی شرح تقریباً 60 سے 62 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ دیہی علاقوں اور خواتین میں یہ شرح مزید کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ UNICEF کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی بھی محدود ہے۔ایسے میں اگر کوئی ہاتھ نوجوانوں کو سہارا دینے کے لیے اٹھتا ہے، تو وہ واقعی روشنی کی ایک کرن محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ حقیقی مدد کیا ہے؟ ایک معروف کہاوت ہے کہ کسی کو روز مچھلی کھلانے کے بجائے اسے مچھلی پکڑنا سکھا دیں۔اسی سوچ کے تحت الخدمت فاﺅنڈیشن نے 2022 ءمیں "بنو قابل" پروگرام کا آغاز کیا، ایک ایسا اقدام جو نوجوانوں کو ہنر، تعلیم اور خود انحصاری کے ذریعے بااختیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پروگرام اب کراچی سے نکل کر لاہور، اسلام آباد، پشاور، گوادر اور کوئٹہ سمیت ملک کے کئی شہروں تک پھیل چکا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیولپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، پائتھن پروگرامنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت 28 جدید کورسز بالکل مفت کرائے جا رہے ہیں۔بنو قابل کے آغاز پر ایک انٹری ٹیسٹ لیا جاتا ہے، جس میں ایک وقت میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔ مجھے الخدمت کا حصہ ہونے کی بدولت اکثر ان انٹری ٹیسٹس میں جانے کا موقع ملا۔ ہر بار ایک نیا تجربہ اور نیا مشاہدہ میرا منتظر ہوتا تھا۔ آنکھوں میں چمک اور امید لیے ہزاروں افراد ایک ہی بینر تلے ٹیسٹ دیتے نظر آتے ہیں۔بنو قابل کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں، ہر عمر کا فرد اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے موقع پر آپ کو سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی نظر آتے ہیں، اور بڑی عمر کے افراد بھی، جو اپنی عمر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امید کے ساتھ ٹیسٹ دینے میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سی خواتین اپنے ننھے بچوں کو گود میں لیے امتحان دے رہی ہوتی ہیں۔اسلام آباد میں ایک خاتون، جو اپنے چھوٹے سے بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھیں، میں نے پوچھا کہ آپ اتنے کم عمر بچے کے باوجود یہاں کیسے آ گئیں؟ انہوں نے مسکرا کر کہا:"اکیلا بچہ گھر نہیں چھوڑ سکتے، اور اپنا مستقبل سنوارنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہمیں یہ موقع مل رہا ہے تو ہم اسے چھوڑ کیسے سکتے ہیں؟"ان کی ہمت اور عزم دیکھ کر میں ششدر رہ گیا، اور دل سے دعا نکلی کہ اللہ انہیں کامیاب کرے۔گجرات میں میں نے کچھ خواتین پولیس اہلکاروں کو دیکھا، جو ایک گروپ کی صورت میں ٹیسٹ دینے آئی تھیں۔ سوات میں میری ملاقات ایک خصوصی فرد اعجاز اللہ حق بھائی سے ہوئی، جو ویل چیئر پر ٹیسٹ دینے آئے تھے۔ ویسے تو مختلف شہروں میں کئی خصوصی افراد اس ٹیسٹ میں شریک ہوتے ہیں، مگر ان کے چہرے پر مستقل مسکراہٹ دیکھ کر میں ان سے بات کیے بغیر نہ رہ سکا۔ جب میں نے پوچھا کہ آپ نے کون سا کورس منتخب کیا ہے، تو وہ مسکرا کر بولے:"سب میں رجسٹر کیا ہے، میں سب کورسز کرنا چاہتا ہوں۔"پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگے:"کیونکہ مجھے زندگی میں پہلی بار ایسا موقع ملا ہے کہ میں اس ویل چیئر کے باوجود اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہوں اور اپنے مستقبل کو روشن کر سکتا ہوں۔"ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب میں نے ایک نوجوان سے پوچھا: "آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟"اس کا سادہ سا جواب تھا:"بس ایک موقع چاہیے، باقی محنت ہم کر لیں گے۔"یہ جملہ شاید پاکستان کے لاکھوں نوجوانوں کی ترجمانی کرتا ہے۔آج "بنو قابل" کے تحت 150 سے زائد آئی ٹی لیبز قائم ہو چکی ہیں، 13 لاکھ سے زائد نوجوان رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جبکہ 87 ہزار طلبہ کورس مکمل کر چکے ہیں اور بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو مفت لیپ ٹاپ بھی دیئے جا رہے ہیں۔ ان میں سے تقریبا ً70 فیصد نوجوان روزگار یا فری لانسنگ سے منسلک ہو چکے ہیں۔اسی کی ایک زندہ مثال کراچی سے تعلق رکھنے والے محسن ہیں، جو موبائل ایپ ڈویلپمنٹ کے طالب علم ہیں۔ وہ کہتے ہیں:"میں بے روزگار تھا اور اس الجھن میں تھا کہ کیا کروں۔ میرے ایک دوست نے مجھے 'بنو قابل' کے بارے میں بتایا اور میں نے فوری طور پر رجسٹریشن کرا لی۔ بنو قابل پروگرام کے ذریعے مجھے صحیح راستہ ملا اور میں نے موبائل ایپ ڈویلپمنٹ کے کورس میں داخلہ لیا۔ یہاں آنے کے بعد مجھے بہترین اساتذہ اور مینٹورز ملے۔آج میں نہ صرف پاکستانی کمپنیوں کے لیے ایپس بنا رہا ہوں، بلکہ جنوبی افریقہ سمیت کئی دوسرے ممالک کے لیے بھی کام کر رہا ہوں۔ اس کے علاوہ، میں 'بنو قابل آئی ٹی سنٹر 'میں بطور مینٹور بھی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ بنو قابل نے مجھے یہ احساس دلایا کہ میں جو کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ شکریہ، بنو قابل۔"یہ صرف ایک پروگرام نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے-- ایسی سوچ جو خیرات کے بجائے خود کفالت کو فروغ دیتی ہے۔ خاص طور پر خواتین اور خصوصی افراد کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اقدام صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا بھی ذریعہ بن رہا ہے۔اگر یہی رفتار اور نیت برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے نوجوان نہ صرف اپنے لیے بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی ایک مضبوط ستون ثابت ہوں گے۔"بنو قابل" واقعی ایک گیم چینجر ہے کیونکہ یہ صرف خواب نہیں دکھاتا، بلکہ انہیں حقیقت میں بدلنے کا ہنر بھی سکھاتا ہے۔
بنو قابل خواب سے تعبیر تک
09:11 AM, 20 Mar, 2026