طوفانوں کے مقابل کھڑا فیلڈ مارشل 

09:10 AM, 20 Mar, 2026

قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب حالات کا جبر ایک غیر معمولی قیادت کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک ایسا ہی باب اس وقت لکھا جا رہا ہے جب افواجِ پاکستان کی قیادت عاصم منیر کے ہاتھ میں آئی ۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک اندرونی انتشار، معاشی مشکلات اور بیرونی دبا¶ کے بھنور میں گھرا ہوا تھا۔ سیاسی محاذ پر تلخی اپنی انتہا کو چھو رہی تھی اور ریاستی اداروں کے خلاف ایسی زبان استعمال ہو رہی تھی جو ماضی میں کم ہی دیکھی گئی۔
سابق وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی اور ان کی جماعت تحریک انصاف کی سیاست نے ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو غیر معمولی حد تک بڑھا رکھا تھا۔ جلسوں، بیانات اور سوشل میڈیا کی یلغار نے ریاستی اداروں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ ایسے میں یہ سوال ہر محبِ وطن کے دل میں اٹھ رہا تھا کہ کیا پاکستان اس طوفان سے نکل پائے گا؟ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف نے جن حالات میں عہدہ سنبھال اُس وقت پاکستان چاروں اطراف سے دکھائی دینے اور دکھائی نہ دینے والے دشمنوں کے درمیان گرا تھا۔ معاشی بد حالی، عالمی تنہائی، سابق وزیر اعظم عمران احمد خان کی نالائقیوں ، نرگسیت اور انا نے ہر طرف ہاہاکار مچا رکھی تھی۔ بے یقینی کی ایسی فضا تھی کہ حکومت تو چھوڑیں خود ریاست کا وجود خطرے میں تھا۔ ان کے آرمی چیف بننے سے پہلے تحریک انصاف نے ان کے خلاف گھٹیا چیف مخالف تحریک چلا رکھی تھی۔ عمران نیازی فیض حمید کو آرمی چیف دیکھنا چاہتے تھے تاکہ دونوں ایک دوسرے کے پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف جرائم کو معاف کر سکیں لیکن واصف علی واصف نے لکھا تھا کہ” پاکستان اللہ کا نور ہے اور نور کو زوال نہیں۔“ دیکھتے دیکھتے بے یقینی کی فضا نے پاکستان کی بڑی اکثریت کو اپنے حصار میں لے لیا ۔ ابھی پاکستانی عوام مہنگائی اور پاکستان بچانے کی کشمکش میں تھی کہ پاکستان تحریک انصاف نے 9مئی کو افواج ہاکستان کے 2سو کے قریب مقامات پر ایک منظم سازش کے زریعے اپنی غیر اعلانیہ سپاہ فتنہ الخوارج،فتنہ الہندوستان اور عمران نیازی کے کلٹ میں پھنسے ذہنی مریضوں کے ذریعے ہلا بول کر تاریخی جناح ہاﺅس ¾ شہداءکے مجسمے اور یادگاریں مسمار کردی گئیں، کور کمانڈر ہا¶س جو بابائے قوم کے نام سے منسوب تھا اسے جلا دیا، لوٹ مار کی اور دنیا بھر میں پاکستان مخالفوں کو پاکستان کے خلاف زبان درازی کیلئے مواد فراہم کر دیا۔ آرمی چیف عاصم منیر کی اعلیٰ حکمت عملی کے نتیجہ میں پی ٹی آئی لاشیں وصول کرنے میں مکمل ناکام رہی جو ان کا اصل منصوبہ تھا۔ اک طوفان بدتمیزی تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا لیکن تحمل کے ساتھ اس سازش کے ایک ایک کردار سے نمٹا جا رہا ہے ، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا گیا، سزائیں ہوئیں، مقدمات کا سلسلہ تاحال جاری ہے لیکن دوسری طرف ٹی آئی فتنہ الخوارج کی پراکسی بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی ہے جبکہ فتنہ الہندوستان کیلئے یہی خدمات بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں دے رہی ہیں جو پی ٹی آئی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور اُن کے بیرونی آقا پاکستان سے باہر بیٹھ کر سازشوں میں مصروف ہیں ۔ ہندوستان کو تو گزشتہ سال فیلڈ مارشل نے ناکوں چنے چبوا دیئے جس کا اعتراف دنیا نے کیا اور آرمی چیف حافظ عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنا دیا گیا وہ کسی بھی جمہوری فورم سے بننے والے پہلے آرمی چیف ہیں۔ آج امریکی صدر ان کی عظمت کے گن گاتے نہیں تھکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس فیلڈ مارشل سے اس کا سامنا ہے وہ پاکستان کے سابق آرمی چیفس سے بالکل مختلف انسان ہے اور بقول اقبال
ہو حلقہءیاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کی مکمل تفسیر و تشریح ہیں۔ مختصر ترین عرصہ میں آرمی چیف نے بھارت کے دانت بھی کھٹے کیے، فتنہ الخوارج کا تکبر اور زعم خاک میں ملا دیا۔ فتنہ الہندوستان کو پہاڑوں سے دھکیل دیا، خارجہ پالیسی اور معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔ غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی بھرپور مذمت، سیاسی اور اخلاقی مدد کی اور سب سے بڑھ کر امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ میں ایسا لاثانی اور لافانی کردار ادا کیا جیسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔یقینا یہ تعریفی کلمات ملک دشمنوں کی طبیعتوں پر گراں گزریں گے لیکن پاکستانیوں کی بڑی اکثریت پاکستان کے ساتھ ہے یعنی اپنے فیلڈ مارشل کی جرا¿ت اور عسکری فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کے پی کے کی حکومت کو طالبانی موقف کی حمایت پر سخت پیغام دیا جائے کہ یہ سیاسی نہیں عسکری معاملہ ہے۔ نفرت پھیلانے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے اور قوم کو بتا دیا جائے کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے درمیانی موقف یا میانہ روی کا بیانیہ بدترین منافقت ہوتی ہے۔ دہشت گردی میں شہید ہونے والے بلاشبہ پاکستانی قوم کے بیٹے ہیں لیکن فیلڈ مارشل آرمی چیف بھی اپنے جوانوں کا باپ ہوتاہے اور باپ اپنے بیٹوں کی شہادت کی تذلیل کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کرتا کہ ایسے لوگ دین کے دشمن بھی ہوتے ہیں اور وطن کے بھی، یہ کسی معافی کے مستحق نہیں ہوتے۔ 
 جنرل عاصم منیر کے بارے میں ان کے ساتھی افسران ایک بات اکثر کہتے ہیں کہ وہ خاموش مزاج مگر فیصلہ کن شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایسے سپاہی ہیں جن کے سینے میں قرآن کا نور بھی ہے اور وطن کی محبت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے پاکستانی انہیں صرف ایک فوجی کمانڈر نہیں بلکہ ایک ایسے محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں جو ریاست کے وقار کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔قوموں کی تاریخ میں کچھ نام وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں اور کچھ ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔ آنے والی نسلیں یہ مطالعہ ضرور کریں گی کہ جب پاکستان کے بہادر بیٹے ہندوستان سے نبرد آزما تھے تو پاکستان کے ساتھ کون کھڑا تھا اور ہندوستان کو حملوں کی دعوت کون دے رہا تھا۔ 
پاکستانی عوام کو اپنے آرمی چیف پر فخر ہے کہ جس کے سینے میں وہ کلام مکمل محفوظ ہے جو آخری نبی محمد صلی علیہ والہ وصلم پر نازل ہوا، جس کی پیشانی پر ہندوستان کو بدترین شکست دینے کا نور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اقوام عالم کو نظر آ رہا ہے ۔ وہ دنیا کے عظیم جرنیلوں میں شمار ہوتے ہیں وہی جرنیل جن کا ہم کتابوں میں پڑھتے رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر خوارج کی سزا کا تعین خود نہیں کرتے بلکہ قرآنی احکامات کے مطابق ان کی سزا تجویز کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی کو ایرانیوں سے سبق سیکھنا چاہیے کہ احتجاج کرتی قوم کیسے جنگ کی صورت میں ایک جان ہو کر دشمن کے مد مقابل کھڑی ہو چکی ہے۔ آج پاکستان اور اس کے دشمنوں کے درمیان اگر کوئی سب سے مضبوط دیوار کھڑی ہے تو وہ عظیم فوج ہے جس کے فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہیں۔

مزیدخبریں