دریائے جہلم پر تعمیر ہونے والا کیروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی و تکنیکی تعاون کی ایک روشن اور خوبصورت مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے توانائی کے بحران کے حل میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ انجینئرنگ، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی شراکت داری کے میدان میں بھی ایک نمایاں سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ خصوصاً اس منصوبے کے ڈائیورڑن ٹنلز کی کامیاب تکمیل ایک ایسا مرحلہ ہے جس نے اس پورے پراجیکٹ کو عملی کامیابی کی جانب فیصلہ کن طور پر گامزن کیا۔
کیروٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ 720 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ابتدائی منصوبوں میں شامل تھا۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ”رن آف دی ریور“ طرز پر مبنی ہے، جس میں بڑے ذخائر بنانے کے بجائے دریا کے قدرتی بہاو¿ کو استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار سے ماحولیاتی اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور مقامی آبادی کی نقل مکانی بھی انتہائی محدود رہتی ہے، جو اسے ایک منفرد، کامیاب اور پائیدار توانائی منصوبہ بناتا ہے۔اس منصوبے کے بنیادی اجزا میں ڈیم، پاور ہاو¿س، ہیڈریس ٹنلز، ٹیل ریس ٹنلز اور ڈائیورژن ٹنلز شامل ہیں۔ ان میں سے ڈائیورژن ٹنلز کی اہمیت سب سے زیادہ حساس مرحلے میں سامنے آتی ہے کیونکہ انہی کے ذریعے دریا کے بہاو¿ کو عارضی طور پر موڑ کر مرکزی ڈھانچے کی تعمیر ممکن بنائی جاتی ہے۔ کیروٹ منصوبے میں تین ڈائیورژن ٹنلز تعمیر کیے گئے جن میں سے ہر ایک کی لمبائی تقریباً 447 میٹر ہے۔ یہ ٹنلز اس طرح ڈیزائن کیے گئے کہ وہ دریائے جہلم کے تیز اور متغیر بہاو¿ کو محفوظ انداز میں سنبھال سکیں۔
ڈائیورژن ٹنلز کی تعمیر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے کا سب سے پیچیدہ اور خطرناک مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔ کیروٹ پاور پراجیکٹ میں بھی یہی صورتحال درپیش تھی۔ دریائے جہلم کے اطراف کا علاقہ پیچیدہ ارضیاتی ساخت کا حامل ہے، جہاں سخت چٹانیں، فالٹ لائنز اور غیر مستحکم زمینی پرتیں موجود ہیں۔ ان حالات میں ٹنل بورنگ نہایت مہارت، جدید مشینری اور مسلسل نگرانی کا تقاضا کرتی ہے۔ کئی مواقع پر زیرِ زمین پانی کے دباو¿ نے کھدائی کے عمل کو متاثر کیا، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات نے بھی انجینئرز کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ لیکن ہر مشکل پر احسن طریقے سے قابو پا لیا گیا۔
ہائیڈرولوجیکل چیلنجز بھی اس منصوبے کا ایک اہم پہلو تھے۔ دریائے جہلم کا بہاو¿ موسمی تغیرات کے باعث کبھی انتہائی تیز اور کبھی نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں دریا کے پانی کو عارضی طور پر موڑنا ایک نہایت حساس عمل تھا، کیونکہ کسی بھی غلطی کی صورت میں نہ صرف تعمیراتی کام متاثر ہو سکتا تھا بلکہ بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی تھی۔ اسی لیے ڈائیورژن ٹنلز کے ڈیزائن میں پانی کے دباو¿، بہاو¿ کی رفتار اور حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ہائیڈرولک ماڈلنگ کا استعمال کیا گیا۔
وقت کی پابندی اس منصوبے کا ایک اور اہم چیلنج تھا۔ چونکہ یہ سی پیک کے” Early Harvest Projects“ میں شامل تھا، اس لیے اس کی بروقت تکمیل نہایت ضروری تھی۔ چائنا تھری گورجز کارپوریشن نے محدود وقت میں نہ صرف ٹنلز کی تعمیر مکمل کی بلکہ پورے منصوبے کو بھی مقررہ مدت کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ یہ کامیابی کمپنی کی اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی، وسائل کے مو¿ثر استعمال اور جدید انجینئرنگ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ کیروٹ پاور منصوبے کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی مالیاتی ساخت ہے۔ یہ منصوبہ ”Build- Own- Operate-Transfer (BOOT)“ ماڈل کے تحت تعمیر کیا گیا، جس کے تحت چینی کمپنی ایک مخصوص مدت تک اس منصوبے کو چلائے گی اور بعد ازاں اسے پاکستان کے حوالے کر دے گی۔ اس ماڈل نے نہ صرف سرمایہ کاری کو ممکن بنایا بلکہ پاکستان کو فوری مالی دباو¿ سے بھی بچایا۔
توانائی کے شعبے میں اس منصوبے کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے بحران کا شکار رہا ہے، جس کے باعث صنعتی پیداوار، تجارتی سرگرمیاں اور عوامی زندگی شدید متاثر ہوئی۔ کیروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جیسے منصوبے نہ صرف بجلی کی فراہمی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ توانائی کے متبادل اور ماحول دوست ذرائع کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 3.2 ارب یونٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، جو لاکھوں گھروں اور صنعتوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
ماحولیاتی نقطہ نظر سے بھی یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چونکہ یہ رن آف دی ریور منصوبہ ہے، اس لیے اس میں بڑے ذخائر بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی، جس سے ماحول پر منفی اثرات انتہائی کم ہوئے۔ مزید یہ کہ ہائیڈرو پاور ایک صاف توانائی کا ذریعہ ہے، جو کاربن اخراج میں کمی کا باعث بنتا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔سماجی و اقتصادی اثرات کے حوالے سے بھی کیروٹ توانائی منصوبہ ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوا ہے۔ اس منصوبے نے تعمیراتی مرحلے میں ہزاروں مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا، جبکہ اس کے بعد بھی علاقے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملا۔ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بہتری نے مقامی معیشت کو تقویت دی ہے۔ چائنا تھری گورجز کارپوریشن کی کارکردگی اس منصوبے میں خاص طور پر قابلِ تعریف رہی ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس نے دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے، تھری گورجز ڈیم، کو کامیابی سے مکمل کیا۔ کیروٹ توانائی منصوبے میں بھی اس کمپنی نے اپنی عالمی معیار کی مہارت کا مظاہرہ کیا اور مشکل ترین حالات میں بھی انجینئرنگ کے اعلیٰ اصولوں کو برقرار رکھا۔
ڈائیورژن ٹنلز کی بروقت تکمیل نے اس منصوبے کے دیگر مراحل کو تیز تر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر یہ مرحلہ تاخیر کا شکار ہوتا تو پورا منصوبہ متاثر ہو سکتا تھا۔ تاہم کامیاب حکمت عملی اور مو¿ثر عملدرآمد کے ذریعے اس اہم مرحلے کو بروقت مکمل کیا گیا، جو اس منصوبے کی مجموعی کامیابی کی بنیاد بنا۔ کیروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نہ صرف ایک انجینئرنگ شاہکار ہے بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات کی دلکش عملی تصویر بھی ہے۔ اس منصوبے نے یہ ثابت کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مو¿ثر منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے بڑے سے بڑے چیلنجز کو بھی کامیابی کے ساتھ عبور کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں ایسے مزید منصوبے پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے، معیشت کو مستحکم بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
کیروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ انجینئرنگ کا شاہکار
09:06 AM, 20 Mar, 2026