طلال چوہدری کی خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی پر تنقید، دہشتگردی کے حوالے سے حکومتی موقف واضح

05:53 PM, 20 Mar, 2025

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے وزیروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی اور پیپلز پارٹی طالبان کے ساتھ لڑتے لڑتے ختم ہو گئیں، لیکن ہم ختم نہیں ہونا چاہتے اور نیا آپریشن نہیں ہونے جا رہا۔ طلال چوہدری نے اس بات کو محض ایک شوشہ قرار دیا۔

پریس کانفرنس میں طلال چوہدری نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود پی ٹی آئی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ سے باہر رہی، جو دہشتگردوں کے حوالے سے نرم رویہ اپناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ اپنے دور حکومت میں اس قسم کی میٹنگز میں شرکت سے گریز کیا جس سے دہشتگردوں کو پاکستان میں پناہ ملتی رہی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نئے آپریشن کے بارے میں اٹھائی جانے والی باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگردی کے واقعات کے باوجود ادارے کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں تو یہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری سے 16 مارچ تک 1141 دہشتگردی کے واقعات ہو چکے ہیں جن میں سے 1127 بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہوئے ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی اور ہر پاکستانی کو اپنے قومی فرض کو ادا کرنا ہوگا۔

مزیدخبریں