بے شمار لوگ پاکستان سے جانا چاہتے ہیں اور بیشمار لوگ پاکستان واپس نہیں آنا چاہتے ،دْکھ دونوں کا ایک جیسا ہے ،وہ اس یقین کامل میں مبتلا ہیں پاکستان میں اْن کے ساتھ کوئی ظلم زیادتی ناانصافی ہوئی کوئی ادارہ ایسا نہیں جو اْنہیں بروقت انصاف فراہم کرے گا یا بغیر رشوت یا سفارش کے کرے گا ،ریاست کے چار ستون ہوتے ہیں جن پر وہ پورے قد اور وزن کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ،سب سے پائیدار ستون ان میں عدلیہ کا ہوتاہے ،کہتے ہیں کسی مْلک یا معاشرے کا صرف ’’نظام عدل‘‘ درست ہو اْس کے باقی سارے نظام خود بخود درست ہو جاتے ہیں ،پاکستان میں یہ نظام سب سے زیادہ ننگاہے ،چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد لوگوں کو اپنی عدلیہ پر تھوڑا بہت جو اعتماد تھا وہ بھی اب اْٹھا ہوا محسوس ہوتا ہے ،یہ اعتماد اب شاید ہی کبھی بحال ہوگا ،یہ جو عمران خان اور اْس کی جماعت کے لوگ چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف بہت باتیں کرتے ہیں میں پورے وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں یہ لوگ دوبارہ اقتدار میں آگئے یہ چھبیسویں آئینی یا غیر آئینی ترمیم ختم کرنے کا کوئی تصور بھی اْن کے ہاں نہیں ہوگا ،کیونکہ یہ آئینی یا غیر آئینی ترمیم جتنا فائدہ موجودہ سیاسی و اصلی حکمرانوں کو پہنچا رہی ہے اْتنا ہی فائدہ یہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو پہنچائے گی ،پاکستان کا المیہ ہی یہی ہے یہاں کسی بھی شعبے میں ہونے والی تباہی واپس نہیں ہوتی ،بلکہ بعد میں اس تباہی میں اضافہ ہی ہوتا ہے ،صحافت ہی کو لیجئے ،کتنی مشکل سے آزادی صحافت حاصل کی گئی تھی ،اب بربادی صحافت عروج پر ہے اورہم نے اسے بخوشی قبول کر لیا ہے ،یہ قبولیت’’مفت‘‘ میں نہیں ہوئی ،یہ بربادی صحافت بھی اب شاید کبھی واپس نہیں ہوگی ،یاد رہے صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے ،کچھ صحافی اس وقت سیاسی و اصلی حکمرانوں کے باقاعدہ’’ڈھولچی‘‘ بنے ہوئے ہیں ،اْنہیں اپنی ساکھ کی کوئی پروا ہی نہیں ہے ،جو حکم اْوپر سے ناز ل ہوتا ہے اْس کے مطابق وہ بول اور لکھ دیتے ہیں ،آج کل یہی اْن کا’’نظریہ‘‘ہے ،وہ یہ سمجھتے ہیں نظریہ پاکستان بدل سکتا ہے تو جدید تقاضوں یا لفافوں کے مطابق ’’نظریہ صحافت‘‘کیوں نہیں بدل سکتا ؟ پہلے یہ بات سیاسی لوٹوں کے حوالے سے مشہور تھی’’ہم پارٹی نہیں بدلتے حکومت اپنی پارٹی بدل لیتی ہے‘‘ ،اب صحافتی لوٹوں کا نظریہ بھی اسی قسم کاہے ،تو یہ ہے ریاست کے چوتھے ستون کی حالت زار۔۔ اب آتے ہیں ریاست کے پہلے ستون مقننہ یعنی پارلیمنٹ کی طرف ،پارلیمنٹ آج تک کوئی ایسا کارنامہ نہیں کر سکی جس سے پاکستان کو کوئی بڑا فائدہ ہوتا اور دْنیا میں اْس کا نام بھی روشن ہوتا ،ارکان پارلیمنٹ بار بار ایک ہی کارنامہ کئے جاتے ہیں اور وہ اپنی تنخواہوں میں ہوش ربا اضافہ ہے ،یہ واحد کارنامہ ہے جس میں اپوزیشن بھی حکومت کا ساتھ دیتی ہے ،پچھلے دنوں ارکان پارلیمنٹ کی کوئی کام نہ کرنے کے عوض ایک بار پھر تنخواہیں بڑھائی گئیں تو اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی نے اس پر شدید احتجاج کیا ،بعد میں اْنہوں نے بھی اس اضافے کو ہنسی خوشی قبول کر لیا اور سپیکر قومی اسمبلی کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا کہ جس رْکن قومی اسمبلی نے بڑھی ہوئی تنخواہ نہیں لینی وہ لکھ کر دے اْسے پرانی تنخواہ ملے گی ،کوئی ایک غیرت مند رْکن اسمبلی ایسا نہیں تھا جس نے چار لفظ لکھ کر سپیکر کے منہ پر مارے ہوں ،آئندہ بھی پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی حکومت کے ہر اْس عوام دشمن فیصلے پر لبیک کہیں گے جس کا اْنہیں ذاتی طور پر کوئی فائدہ پہنچ رہا ہوگا ،علاوہ ازیں چھبیسویں ’’آئینی ترمیم‘‘کے موقع پر ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت نے جو گھناؤنا کردار ادا کیا اْس کے بعد ریاست کے اس پہلے ستون کو کتنا مضبوط یا مؤقر کہا جاسکتا ہے ؟ مقننہ عوام کے حقوق اور آئین کی پاسداری کے لئے ہوتی ہے ،مگر یہاں عوام کے حقوق اور آئین کی پامالی کا ’’اعزاز‘‘ اسی مقننہ نے حاصل کیا ،اپنی مسلسل بے توقیری پر خاموشی کا اعزاز بھی اس مقننہ نے بخوشی قبول کر لیا ،اب ذرا آتے ہیں ریاست کے آخری ستون انتظامیہ کی طرف ،اچھے لوگ ہر شعبے میں ہوتے ہیں ،مقننہ عدلیہ اور صحافت میں بھی ہیں ،یہ جو اپنے چاروں ستونوں کے انتہائی کمزور یا ہلے ہونے کے باوجود ریاست ان پر لڑکھڑا رہی ہے ،ہوا میں معلق ہے یا گر کر تباہ نہیںہو رہی اس کی واحد وجہ ہر شعبے کے وہ اچھے لوگ ہیں جو اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے بڑے سے بڑے نقصان کی پروا نہیں کرتے ،انتظامیہ کی حالت یہ ہے افسران چاہے پولیس کے ہوں سول ہوں یا غیر سول یعنی وہ ہوں جو یہ کہتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہیں کرتے ’’ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں‘‘ زیادہ تر پیسے کو ہی اپنا دین ایمان بنایا ہوا ہے ،میں اکثر سوچتا ہوں اتنا پیسہ یہ قبر میں تو لیجا نہیں سکتے ممکن ہے وہ یہ وصیت فرما دیں ہماری دو قبریں ساتھ ساتھ بنائی جائیں ایک میں ہمیں ایک میں ہمارا لْوٹا ہوا مال دفن کیا جائے ،یہ پیسہ قبر میں ان کے کسی کام تو نہیں آنا البتہ ایک تسلی اْنہیں ضرور رہے گی کہ حرام کی یہ کمائی قبر میں بھی وہ اپنے ساتھ لے آئے ہیں ،بیرون مْلک جائیدادیں بنانے کے حوالے سے پہلے ہمارے کچھ جرنیل یا سیاہ ست دان ہی بدنام تھے اس مقابلے میں سرکاری افسران اب بہت آگے نکل گئے ہیں ،لوگوں کے جائز ناجائز کام یہ پاکستان میں کرتے ہیں اور اس کی رشوتیں یہ بیرون مْلک پکڑتے ہیں ،یہ طریقہ واردات آج کل بڑا کامیاب جا رہا ہے ،بیشمار سول و پولیس افسران کی ایسی کئی وارداتیں میرے ذاتی نوٹس میں ہیں ،میں ان پر لکھنا شروع کروں کئی برسوں تک کسی اور موضوع پر لکھنے کا شاید موقع ہی نہ ملے ،کوئی شعبہ ایسا نہیں بچا جس کی تباہی میں انتظامیہ یعنی افسران نے اپنا حصہ نہ ڈالا ہو،سی ایس ایس کے امتحان کے حوالے سے پاکستان کے چار صوبوں سے انتہائی پڑھے لکھے نوجوانوں کا نمائندہ وفد گزشتہ روز میرے پاس آیا میں نے اْن سے کہا ’’ان حالات میں آپ کی کیا مدد یا خدمت میں کر سکتا ہوں ؟ سوائے اس کے بھینسوں ،سانڈوں یا گدھوں کے آگے میں بین بجا دْوں ،وہ میں اپنے اگلے کالم میں بجا دْوں گا،اگے تیرے بھاگ لچھئے ۔
(جاری ہے)
پڑھے لکھے نوجوانوں کا دْکھ
09:45 AM, 20 Mar, 2025