ماضی کے مقابلے میں بیشتر سرکاری ہسپتالوں کی عمومی صورت حال اور کارکردگی میں بہت حد تک بہتری آئی ہے مگر باوجود حکومتی سطح پر سر توڑ کوششوں کے سرکاری ہسپتال ابھی تک عوامی اعتماد جیتنے میں یکسرناکام ہیں ۔ ایک عرصے سے ان ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹرزایک خاص قسم کے ’’مردم بیزار مزاج ‘‘، ’’اکتائے ہوئے رویے‘‘، ’’جان چھڑاؤ پالیسی‘‘ اور ’’تیکھے لہجے‘‘ کا شکار چلے آرہے ہیںجبکہ اپنے پرائیویٹ کلینک، ہسپتال یا پرائیویٹ پریکٹس کی جگہ پر مریضوں کو چیک کرتے ہوئے ان کا مزاج ، رویہ اور طریقہ کاریکسر مختلف ہوتاہے۔
تاہم پرائیویٹ کلینکس یاہسپتالوں میں پیرا میڈیکل سٹاف کے مصارف، ڈاکٹرز کی فیس، کمرے اوربیڈ کا کرایہ، ادویات کی قیمت اور دوسرے متفرق اخراجات اس قدر زیادہ اور اس درجہ ہوش ربا ہیں کہ غریب آدمی وہاں جانے اور علاج کروانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔علاج تو بہت دور کی بات ہے ، صرف ایک رات کے اخراجات ہی اس کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔ مسیحائی کے نام پر وہاں لوٹ مار کا وہ بازار گرم ہے کہ الامان۔۔۔! ڈاکٹرز کی طرف سے لکھے جانے والے ٹیسٹ اور ان کو اپنی مخصوص نامزد کردہ لیبارٹری سے کروانے پر اصرار اور اوپر سے’’ مخصوص کمپنی‘‘ کی تیار کردہ ادویات کے استعمال پر زور،چیک اپ فیس ،’’ جتنا بڑا نام اتنی بھاری فیس اور زیادہ خرچہ‘‘،ان سب عوامل نے باہم مل کر علاج غریب کی پہنچ سے بہت دور کر دیا ہے۔
جبکہ دوسری طرف گلی ،محلے اور گاؤں میں اول تو کوالیفائیڈ ڈاکٹرز دستیاب ہی نہیں اور اگر ہوںبھی تو عطائیت کے فروغ تلے ان میں سے اکثریت کا چراغ بجھا بجھا سا دکھائی دیتا ہے۔ایسے میں عوام کے لیے فلاحی ڈسپنسریاں، بنیادی ہیلتھ یونٹس، تحصیل ہیڈ کوارٹر زاور ضلعی ہیڈ کوارٹرز جیسے سرکاری طبّی ادارے رہ جاتے ہیں جہاں مریض کی شنوائی کم اور خواری زیادہ ہوتی ہے۔ادویات اور علاج کے نام پر مریضوں کو بار بار چکر لگوائے جاتے ہیں اور کسی نہ کسی طور پر ان کو واپس لوٹا یا، دوسرے بڑے ہسپتال بجھوایا اور’’ٹل ٹلاؤ‘‘ پالیسی کے تحت ٹالا جاتا ہے۔اوپر سے ہماری غذائی عادات، مسلسل کھانے پینے میں مصروفیت، روزانہ کی بے قاعدہ روٹین، رات دیر سے سونا، صبح دیر سے اٹھنا ، بسیار خوری ، تن آسانی اور ایک غیر صحت مند طرز زندگی کے ساتھ ساتھ غیر صحت مند کھانا صرف اور صرف بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے جبکہ موجودہ حالات اور صورت حال میں یہی کچھ چل رہا ہے ۔پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے امراض، مریضوں کی تعداد، ماحولیاتی آلودگی اور معاشرتی گٹھن سے صورتحال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں اور ہمارا آنے والا کل کیسا ہوگا۔۔۔!
ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر کرنے ، نئے اور جدید ہسپتال بنانے کی بجائے حکومت ’’ہیلتھ کارڈ ‘‘ جیسے’’ وقتی فائدے‘‘، ’’لالی پاپ‘‘ اور ’’ڈنگ ٹپاؤ ، نام بناؤ ‘‘ جیسے کاموں میں مصروف ہے۔ تاہم ہیلتھ کارڈکے فوائد اور نقصانات سے ہٹ کر موجودہ معاشی و معاشرتی حالات میں جہاں عوام کی قوت خرید روز مرہ کی اشیاء سے بھی کم پڑ رہی ہیں ایسے میں صحت کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر کی اجارہ داری ایک المیہ سے کم نہیں۔ سرکاری سطح پر کسی بھی قسم کے ’’چیک اینڈ بیلنس ‘‘ کا کوئی فعال نظام موجود نہیں ہے ۔پرائیویٹ ہسپتال اور ڈاکٹرز من مانی فیس اور اخراجات وصول کر رہے ہیں۔انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ان میں سے بعض ہسپتال اس قدر مہنگے ہیں کہ عام آدمی وہاں سے علاج کروانے کاسوچ بھی نہیںسکتا بلکہ علاج تو درکنار اور بہت دور کی بات ہے وہ مشورہ تک کے لیے ان کی دہلیز پار نہیں کر سکتا۔۔۔!
اس لیے اس وقت پاکستانی عوام کے جو معاشی و معاشرتی حالات چل رہے ہیں باوجود ان باتوں اور مسائل کے کہ سرکاری ہسپتالوں میںبہت سی سہولیات کا فقدان ہے ، وہاں بے پناہ رش ہے ، پیرامیڈیکل سٹاف کی کمی ہے اور ڈاکٹر زکا رویہ درست نہیں ہے مگر سرکاری ہسپتال پھر بھی غنیمت ہیںجہاں ایمرجنسی یا روٹین میں کوئی فرد کوئی نہ کوئی امید لے کر جا سکتا ہے۔ یہ ہمارے سرکاری ہسپتال ہی ہیں جنہوں نے بے شمار مریضوں کو سنبھال رکھا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سنبھال رہے ہیں وگرنہ تو غیر صحت مند سیاسی، سماجی ،معاشی اور معاشرتی ماحول کی انتہائی ناگفتہ بہ اور ابتر صورت حال ذہنی ،جسمانی اور نفسیاتی مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
سرکاری ہسپتال پھر بھی غنیمت ہیں
09:37 AM, 20 Mar, 2025