کے پی اور بلوچستان دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں اورہم ایک دوسرے کی پگڑیاں ا چھالنے میں مصروف ہیں دشمن ہمیں دہشت گردی کی آڑ میںمعاشی دہشت گردی کی طرف دھکیل رہا ہے اور ہم ملک اور قوم کے بجائے اپنے مفادات کیلئے مرے جا رہے ہیں کوئی نہیں دماغ لڑاتا کہ آنے والا گزرے کل سے زیادہ بھیانک آ رہا ہے آئے روز دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں ہمارے جوان شہادتیں دے رہے ہیںجبکہ دوسری طرف سیاستدان ہیں کہ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے کو تیار نہیں کوئی ن لیگ کا حامی ہے تو کوئی پیپلز پارٹی کا کوئی تحریک انصاف کا حمائتی ہے تو دوسرا جماعت اسلامی کاکوئی اے این پی پر جان چھڑکتا ہے تو کوئی عوام پاکستان پارٹی کیلئے واہ واہ کررہا ہے کوئی استحکام پاکستان پارٹی کا دلدادہ ہے تو کوئی ایم کیو ایم کیلئے صدقے واری ہے لیکن ان سب میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں جو پاکستان اور پاکستانیت کیلئے جیتا اور مرتا ہو ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو’’ انا‘‘ کے خول سے باہرنکلے اور ملکی سلامتی کیلئے جان لڑادے کوئی بھی ایسا نہیں جو کہے کہ ہاں میں ملک اور قوم کا سب سے بڑا خیر خواہ ہوں اور ملکی سلامتی کیلئے ذاتی مفادات کو پس پشت رکھتا ہوں سب اپنی اپنی دکانداری چمکا رہے ہیں سب نے اپنی اپنی سیاسی سرکس لگائی ہو ئی ہے لیکن سقوط ڈھاکہ ہو سانحہ اے پی ایس ہو سانحہ کرک ہویا سانحہ جعفر ایکسپریس ہو ہم نے کسی بھی قیامت صغریٰ سے سبق نہیں سیکھا اگر سیکھا ہے تو دشمن کو موقع دینا کہ وہ کب ہم پر حملہ آور ہواور ہمیں دہشت گردی کی آگ میں جھونک کر ہمیں معاشی دہشت گردی کی طرف دھکیلے؟ قومی سلامتی کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس میںاعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی خاتمہ کیلئے آج قومی اتفاق کی ضرورت ہے اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گردی ملک کے لیے ناسور بن گئی، ہم نے بیٹھ کر اس ناسور کا دیرپا اور پائیدار حل نکالنا ہے حسب روائت قومی سلامتی کے اس اہم اجلاس میں اپوزیشن نے شرکت نہ کی جس سے ان کی حب الوطنی عیاں ہو گئی ،فضل الرحمان ایک جہاندیدہ سیاستدان ہیں انہوں نے ہمیشہ پاکستانیت کی بات کی سربراہ جے یو آئی ف نے اجلاس میں شرکت کرکے ریاست کی پالیسیوں میں تسلسل کو ناگزیر قرار دیدیا، قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ریاست کو کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے افغانستان کے خلاف جنگ میں حصہ بننے کا نقصان پاکستان کو بھگتنا پڑا، نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں اتحادی بننے کا فیصلہ غلط تھا جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں اس اہم مسلے پر قومی یکجہتی کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے گھر میں اگر چپقلش ہو گی تو دشمن کو وار کرنے میں آسانی ہو گی جس طرح اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے اس سے کوئی اچھا تاثر نہیں ملا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سب کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھتے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے افسوس ایسا نہ ہو سکا جب دہشتگروں کیخلاف آپریشن کی بات ہوئی تو پی ٹی آئی نے مخالفت کی جب افغانیوں کونکالنے کی بات ہوئی تب بھی پی ٹی آئی نے مخالفت کی سردار اختر مینگل کو اجلاس میں بلایا گیا تھا لیکن وہ بھی نہیں آئے،کے پی اوربلو چستان کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں،اگر کوئی سیاسی رہنما اس کو حل کرسکتا ہے تو اس کو سامنے آنا چاہئے ،سب سے زیادہ ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ کی ہے جسے وہ بخوبی پوری کررہے ہیں آرمی چیف نے بھی عزم دہرایا کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں اس کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں یہی ہمارا موقف ہونا چاہیے تاکہ دشمن اور شرپسند عناصر کو واضع پیغام ملے،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کمیٹی کمیٹی کیوں کھیل رہی ہے یہ بات بھی جاننا ہو گی کہ تشدد کے جواب میں تشدد کے استعمال سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی،دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فوج اور سکیورٹی فورسز پرعزم ہیں ،اس حوالے سے فوج اپنا کام کرتی نظر آرہی ہے سیاستدانوں کو بھی اختلافات ختم کرنا ہونگے ،مولانا فضل الرحمن نے درست بات کی ہے ،دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قوم کو فوج کا ساتھ دینا ہو گا، انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پہلے بھی میٹنگز ہو چکی ہیں لیکن سیاستدانوں کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے کوئی زرلٹ نہ آیا ،اس قسم کے حالات میں جب کہ ملک سخت دہشت گردی کی زد میں ہے قومی اتفاق رائے سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا، ریاست اور دہشت گردی اکٹھے نہیں چل سکتے،دہشتگردی کو ختم ہونا ہو گا تاکہ ریاست آگے بڑھ سکے اور دنیا میں پاکستان کا نام معتبر ہو سکے اس وقت دنیا کی سیاست یہ رخ اختیار کر گئی ہے کہ ہندوستان امریکا کا دوست نظر آ رہا ہے اور چین کے ساتھ امریکا کا جو مسابقہ ہے اس کیلیے ان کا پارٹنر ہے ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگاکیونکہ دہشت گردی نے سی پیک کو بھی متاثر کیا ہے چین سے دوستی ہمالیہ سے اونچی ضرور ہے لیکن کیا اس دوستی کو قائم رکھنے کیلئے اسلام آباد نے عملی
طور پر بھی کچھ کیا؟ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے کوئی نا کوئی پالیسی بنا نا ہو گی، بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیاگیا تو کوئی نیا سانحہ ہو سکتا ہے اگر ہم مودی سے ہاتھ ملا سکتے ہیں تو قومی دھارے میں شامل ہونے والے ناراض بلوچوں سے کیوں نہیں؟ کے پی کے دہشت زدہ علاقوں سے منتخب ہو کر آنے والے ارکان اسمبلی سوٹ بوٹ پہن کر اسمبلی آتے ہیں اور تقاریرکرتے چلتے بنتے ہیں ان سے پوچھاجائے کہ عوام نے اس لئے منتخب کیا تھا کہ لمبی چوڑی تقریریں کرکے چلتے بنیں کیا ان کا حق نہیں بنتا کہ جس علاقے میں دہشت گردی زیادہ ہے وہاں کے لوگوں سے میل ملاپ بڑھا کرمشاورت کرکے دہشت گردی کے سدباب کیلئے کاوشیں کرنی چاہیں تاکہ کے پی اور بلوچستان جو دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے کہ مزید جلنے سے بچایا جا سکے۔
دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اتحاد ناگزیر
09:36 AM, 20 Mar, 2025