نہ جانے انسانی سرشت میں یہ بات ہے کہ اسے جس بات سے منع کیا جائے اسی جانب دوڑتا ہے پابندیاں لگائی جائیں تو انہیں توڑتا ہے اس گتھی کا حل ابھی تک حضرت انسان تلاش نہیں کر سکا اور نہ ہی سائنس اس گتھی کو سلجھا سکی ہے۔اب یہی دیکھیے موت کو دلکش بنا کر جب پیش کیا جاتا تو جانتے بوجھتے بھی کہ اس دلکشی کے پردے میں موت چھپی ہے انسان پھر بھی اسے نہ صرف منہ لگاتا ہے بلکہ اپنے سینے کے اندر انڈیلتا بھی ہے۔ قائدے اور قانون انسان کو ’’کینڈے‘‘ میں رکھنے کے لئے بنائے جاتے ہیں لیکن جب ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا یا لچک دکھائی جاتی ہے تو یہی قائدے و قانون صرف کتابوں کی حد تک رہ جاتے ہیں۔اور پھر موت بانٹنے والے کاموں میں حکومتیں معاشرے اور بڑے بڑے مافیا شامل ہوں وہاں قاعدے قانون صرف دکھاوے کے لئے بنائے جاتے ہیں ان پر عملدرامد نہیں کیا جاتا۔کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں اسلحہ سازی ،منشیات سے جڑی ہوئی تمام چیزیں ،اور جنس کی خرید فروخت اتنے منافع بخش کاروبار ہیں کہ جنہیں ختم کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ جو کوئی ان کے انسداد کے لئے کام کرنا چاہے اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر کی حکومتیں معاشرئے اور افراد یہ جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی نہ صرف پینے والوں کے لئے مضر صحت ہے بلکہ اس سے متاثر وہ افراد بھی ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی ’’سوٹا ‘‘ تک لگایا نہیں ہوتا مگر پھر بھی اس کا استعمال دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے حالانکہ اس کے خلاف قانون بھی موجود ہے اور اس کے مضر اثرات سے بچائو کے خلاف کمپین بھی چلائی جاتی ہے، یہاں تک کہ عالمی دن بھی منائے جاتے ہیںطبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ سے زائد اموات کی وجہ تمباکو نوشی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر دنیا بھر میں ساٹھ لاکھ افراد کی ہلاکت کا سبب تمباکو نوشی ہے۔
تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والے ادروں کی مطابق اس وقت ملک میں ایک اندازے کے مطابق 22 سے 25 ملین افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 36 فیصد مرد جبکہ 9 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ ایک اور اندازے کے مطابق ملک میں سالانہ ایک لاکھ سے زائد افراد کی موت تمباکو نوشی کے باعث ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔پاکستان کا شمار دنیا کے ان 15 ممالک میں ہوتا ہے، جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں‘ کی رپورٹ یہ بتاتی ہیں کہ ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد دکانیں اور پان کے کھوکھوں پر سگریٹ با آسانی دستیاب ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں یعنی تمباکو نوشی کی جانب قدم بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سال ہے۔
انسانی صحت کے شعبے کے ساتھ جڑے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کے باعث بڑھتی اموات اور بیماریاں بے حد تشویش کا باعث ہیں، ’’نہ صرف دل کا دورہ، اسٹروک، ہائپرٹینشن، پھیپھڑوں کے متعدد امراض بلکہ بیس اقسام کے کینسر بھی تمباکو نوشی کے باعث لاحق ہو رہے ہیں۔ اگر تمباکو نوشی کو قابو نہ کیا گیا تو یہ صرف صحت ہی نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ صرف تمباکو نوشی ہی کم نقصان دہ نہیں لیکن اس کے عادی افراد کی اکثریت دیگر علتوں کا بھی شکار ہو جاتی ہے جس میں منشیات سر فہرست ہے۔ پاکستان میں منشیات کی بھی کئی اقسام ہیں اور یار لوگوں نے ان میں بھی دو نمبری شروع کر رکھی ہے جس کا نقصان انسانی جان کے لئے شدید تر ہے مگر ہمارے ہاں تو خوراک خالص نہیں ہے منشیات تو دور کی بات ہے یہ الگ موضوع ہے اس پر کسی اور کالم میں تفصیل سے بات ہو گئی فی الحال تمباکو نوشی کو ہی زیر بحث رکھا جائے حالانکہ یہ موضوع بھی کئی کالموں کا متقاضی ہے۔ بات ہو رہی ہے تمباکو نوشی کے نقصانات اور اس کے انسداد کی دنیا بھر میں سگریٹ فروخت کرنے والی کمپنیاں اپنے اپنے برانڈ کو جاذب نظر اور فروخت کرنے کے لئے اتنے دلکش انداز میں ایڈورٹائز کرتی ہیں کہ اچھا خاصا ذہن اسے پینے کی طرٖف راغب ہو جاتا ہے اور بچے تو کچھ زیادہ ہی متاثر ہوتے ہیں۔ جس طرح اسے فروخت کرنے کے حوالے سے اس کے اندر دلکشی پیدا کی گئی ہے اسی طرح اس سے دور رکھنے کے لئے اس کے نقصان دہ پہلو کو اجاگر کرنے سے اس بلائے جان سے چھٹکارا تو نہیں مگر کمی واقع ہو سکتی ہے۔
گو کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کی جانب سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ تمباکو نوشی کی جانب راغب کرتے رنگوں اور برانڈ ناموں کو سگریٹ کی ڈبیوں سے ہٹا دیا جائے تاکہ ان سے ’گلیمرائزیشن‘ کو کم کیا جا سکے۔ جسے ایک اچھی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی بھر پور تشہیر کی جانی چاہیے اس کے ساتھ اس بات کو بھی باور کرانا چاہیے کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے جسے صحت مند طریقے سے گزارنا ہر انسان کا بنیادی حق اور ذمہ داری ہے جو فرد اپنے اس حق اور ذمہ داری کو نہیں پہچانتا وہ دیگر ذمہ داریوں سے کیسے عہدہ برا ہو سکتا ہے؟۔ تمباکو نوشی کے خلاف ایک اچھی کوشش یہ سامنے آئی ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کو قابو کرنے کے لیے حال ہی میں ملک کے کئی بڑے ہسپتالوں کے معروف ڈاکٹروں نے کچھ عرصہ پیشتر ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے، جس میں زور دیا گیا ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی کی تیزی سے پھیلتی لت پر قابو پانے کے لیے انسداد تمباکو نوشی قوانین پر عمل درآمد کرایا جائے اس کوشش کا کیا بنا اس پر بھی خاموشی ہے لیکن اس طرح کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت آرڈیننس کے مطابق عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کی صحت کی حفاظت کے لیے بنائے گئے بل پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ تمام عوامی مقامات اور ذرائع آمدورفت میں تمباکو نوشی کی سخت ممانعت کی جائے اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو کسی بھی طرح کا تمباکو نہ فروخت کیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی کا رجحان یونہی بڑھتا رہا تو دنیا بھر میں 2030ء تک تمباکو نوشی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ 60 لاکھ سے بڑھ کر 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ حرف مکرر کے طور پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور صحت مند طریقے سے گزارنا بہر حال ہمارے اپنے اختیار میں بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
دھویں کی نذر ہوتی زندگی ؟
09:33 AM, 20 Mar, 2025