نیا سنہری دور

09:12 AM, 20 Jun, 2026


تاریخ رقم ہو چکی، پاکستان کا اقبال بلند ہو چکا، ایسا نہ پہلے کبھی ہوا اور شاید نہ اب کبھی ایسا ہو سکے گا کہ ایک ملک نے، ایک قوم نے، ایک لیڈر نے، ایک جرنیل نے بڑی عالمی جنگ کو وقوع پذیر ہونے سے روکا ہو۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ایسا محیرالعقول کام کر دکھایا دو اقوام، دو تہذیبوں کی نمائندہ اقوام، 47 سال سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھیں، ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کی نہ صرف منصوبہ سازیاں کرتی رہتی تھیں بلکہ عملاً ایک دوسرے کے ساتھ حالت جنگ میں تھیں، پاکستان انہیں اکٹھا کر کے مذاکرات کی میز پر اور پھر کھانے کی میز تک لے آیا۔ نصف صدی سے جاری جنگ و جدل اور دشمنی کا باب بند ہو گیا ہے۔ کم از کم حال کی گھڑی امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے۔ بھارت، اسرائیل اور یو اے ای کے علاوہ ہر قابل ذکر ملک نے اس معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کو سراہا ہے۔ پاکستان کی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ویلڈن پاکستان۔
اس سارے عمل میں اسرائیل ایک ایسا عامل ہے جو تباہی و بربادی کا کھلے عام داعی رہا ہے، نیتن یاہو اور ہمنوا یہ جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس طرح اسرائیل کو صہیونی قیادت کو اپنے گھناﺅنے مقاصد کی تکمیل کی مہلت ملتی رہی ہے۔ 28 فروری سے لے کر مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے تک اسرائیل لبنان میں مصروف جنگ رہا ہے۔ وہ ان علاقوں میں پیش قدمی کرتا رہا ہے جہاں اسے قابض ہونا تھا۔ وہ ان علاقوں کو ہڑپ کرنے کی کاوشیں کرتا رہا جو اس کے گریٹر اسرائیل کے نقشے میں شامل ہیں۔ وہ غزہ میں بھی من مانیاں کرتا رہا دنیا کی نظریں ہرمز اور اس سے متعلق معاملات پر لگی رہیں اور وہ لبنان میں اپنا کھیل کھیلتا رہا، وہ آخری وقت تک مذاکرات کو ناکام بنانے کی کاوشیں کرتا رہا ہے کیا ہمیں معلوم ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد کیوں نہیں ہو سکی؟ حالانکہ یہ بات طے تھی اور عملاً ثالث کی جگہ پر ہی فریقین جمع ہوتے ہیں، اکٹھے ہوتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں جاری تحریک میں ’را‘ اور ’موساد‘ کے ایجنٹوں کی شمولیت کی خبروں کے باعث اس بات کا امکان موجود تھا کہ تقریب کسی تخریب کاری کا نشانہ بن سکتی ہے۔ اسی لئے اسے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا منتقل کیا گیا۔ پھر تخریب کاری کے خطرات کے پیش نظر اسے سوئس پہاڑوں کے ایک تفریحی مقام برگن سٹاک منتقل کیا گیا یہ ایک بلند و بالا تین اطراف سے پانی میں گھرا ہوا، قلعہ نما ایک محفوظ ترین مقام تھا۔ یہاں تقریب کے انعقاد کے انتظامات بھی کر لئے گئے تھے، اردگرد کے علاقے و ہوٹلز خالی بھی کرا لئے گئے تھے۔ ایک بار پھر تخریب کاری کے خطرات کے باعث یہاں بھی تقریب کا انعقاد ملتوی کیا گیا اور پھر الیکٹرانک دستخطوں کے ذریعے معاملات انجام پذیر ہوئے۔ اسرائیل کی منفی سوچ، جنگجویانہ پالیسی عالمی امن کے لئے حقیقی خطرہ ہے۔ اب پاکستان کے ساتھ اس کی براہ راست ٹکر ہونا طے ہے، پاکستان کی کاوشوں کے باعث اسرائیل کی چھیڑی گئی جنگ جس میں امریکہ کو کودنا پڑا، اسرائیلی مفادات کے عین مطابق تھی۔ گو ایران نے اس جنگ میں استقامت کا ثبوت دیا، ایرانی راکٹوں، میزائلوں اور ڈرونز نے پانسہ پلٹ کر رکھ دیا لیکن جنگ کی طوالت ایران کے لئے بھی فائدے مند نہیں تھی، جنگ کی طوالت کی صورت میں امریکہ ایران کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے کچھ بڑا بھی کر سکتا تھا اسرائیل یہی کچھ چاہتا تھا کہ ایران کو نیست و نابود کر دیا جائے۔ پاکستان کی ثالثی کاوشوں کے باعث جنگ بندی ہو گئی۔ اسرائیلی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اسرائیل امریکہ کو توکچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اب بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان پہنچائے گا۔ بھارت پہلے ہی افغانستان میں ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان میں تخریب کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے کو بھی سپورٹ کر رہا ہے، کشمیر کی حالیہ تحریک میں بھی بھارتی اثرات دیکھے گئے ہیں۔ بھارت پہلے ہی سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی کا اعلان کر چکا ہے اس لئے قوی امید ہے کہ وہ پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کرنے کی کاوشیں کرے گا۔ جاری محاذوں کو اسرائیلی معاونت سے مزید گرم و فعال کر کے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کاوشیں کی جائیں گی۔ پاکستان کو اس وقت اقوام عالم کی مکمل تائید حاصل ہے پاکستان کو بدلے ہوئے حالات میں اپنے قومی معاملات کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مسئلہ کشمیر اور اندرون ملک دہشت گردی کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ عالمی برادری کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔ سفارتی سطح پر ان معاملات کونمایاں کر کے معاملات کو اپنے حق میں کرنے کی سعوری و عملی کاشیں کی جانی چاہئیں۔
معاشی معاملات کو درست کرنے کے لئے سب سے پہلے عالمی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کی منصوبہ سازی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ 138 ارب ڈالر سے زائد کا عالمی قرضہ معافی تلافی کے ذریعے ختم کرانا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔ عالمی قرض معاف کرنے کی مثالیں پہلے بھی موجود ہیں۔ ہمیں اس حوالے سے منظم طریقے سے آگے بڑھنا چاہئے۔ قرض مانگنا اور امداد حاصل کرنا کبھی بھی معاشی خوشحالی کی بنیاد نہیں بن سکتا ہے۔ ہمیں اپنی معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی منصوبہ سازی کرنی چاہئے۔ ایران ہمارا نیادوست بنا ہے۔ 47 سال کے بعد ہمارے تعلقات ایک نئے موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے توانائی کے شعبے کے مسائل حل کرنے میں ایران کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور وہ اس کام کے لئے آمادہ و تیار ہے۔ گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر فوری طور پر عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی تعمیر نو میں ہم شراکت دار بن کر نہ صرف ایران کی تعمیرنو میں حصہ ڈال سکتے ہیں بلکہ اپنے لئے بھی بہتری کا سامان حاصل کر سکتے ہیں۔ مین پاور ایکسپورٹ بہت اہم شعبہ ہے۔ ایران ہمارے لئے، ہماری ترقی کے لئے ایک اہم عامل کی حیثیت میں ابھرا ہے۔ برادرانہ تعلقات کا ایک سنہرا دور شروع ہو چکا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ، اپنی معیشت کو درست کریں، اپنی اندرونی حالت ٹھیک کریں۔ دنیا ہمارے سامنے ہے، مواقع بھی ہیں اور دستور بھی ہے۔ شرط صرف آزمائش کی ہے۔ صرف عمل کی ہے۔

مزیدخبریں