امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے طے پانے والی چودہ نکاتی مفاہمت جسے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کا نام دیا گیا ہے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پُز شکیان کے دستخطوں کے بعد اگلے روز وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی بطورِ ثالث دستخط کر دئیے ہیں۔ اس موقع پر ویڈیوز بھی جاری ہوئی ہیں۔ بلا شبہ یہ ایک یاد گار اور تاریخ ساز موقع ہے اور پاکستان اس پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے کہ اس کی کوششوں، کاوشوں، محنت، معاونت اور ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان پچھلے تقریباً چار مہینوں سے جاری خونریز تصادم ، دشمنی اور مخاصمت جس نے ساری دنیا کے امن کو داﺅ پر لگا رکھا تھا کے خاتمے کی راہ جہاں ہموار ہوئی ہے وہاں خطے کے ممالک بالخصوص خلیج کی عرب ریاستوں میں بھی اطمینان اور سکون کی فضا پید ا ہو گی جو ایرانی میزائل اور ڈورن حملوں کا آئے روز نشانہ بنتی چلی آ رہی تھیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخطوں کے موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان نے اپنی ٹویٹ میں جو کچھ کہا ہے اُسے اہم سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد ایم او یو (مفاہمتی یاداشت) پر فوری عملدرآمد ہو گا۔ میں نے بطورِ ثالث اس کی توثیق کی ہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہونگے۔ ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کے پابند ہیں۔ وزیرِ اعظم نے ایرانی صدر مسعود پُز شکیان کو مبارکباد دیتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد معاہدہ خطے میں خوشحالی کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ صدر کی سفارتکاری نے ممکنہ بڑے تصادم کو روکا ہے ۔ وزیر اعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا انہوں نے اپنے ٹویٹ میں آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی انتھک محنت ، بے لوث خدمات اور فیصلہ کن کردار سے تاریخی پیش رفت ممکن ہو سکی۔ وزیرِ اعظم نے مفاہمتی یاداشت کے طے پانے کے ضمن میں قطری قیادت ، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار
کی بھی تحسین کی کہ ان کی مخلصانہ کوششوں اور تعمیری کردار کی بدولت ہم امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لئے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کروانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف ہوں، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ہوں ، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہوں ، وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی ہوں، قومی سلامتی کے مشیر جنرل عاصم ملک ہوں یا وزارتِ خارجہ کے چھوٹے بڑے درجے کے ذمہ دار اہلکار ہوں ، بلا شبہ ان سب کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کی انتھک محنت ، بے لوث خدمات اور معاملے میں گہری دلچسپی کی بنا پر امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو صبح شام ایران کو بمباری کی دھمکیاں دینے سے نہیں تھکتے تھے اور جو ایران کے خلا ف اپنی جنگی کاروائیوں کے نتیجے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکنے کی بنا پر جھنجلاہٹ کا شکار نظر آتے تھے اُن سے کچھ بھی بعید نہیں تھا کہ وہ ایران کے خلاف کوئی بڑی کاروائی کر سکتے تھے۔ اسی طرح ایرانی قیادت کا رویہ بھی بیک وقت کئی طرح کے تضادات کی عکاسی کرتا نظر آتا تھا۔ صدر مسعود پُز شکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بیانات سے ایک وقت میں اگر مفاہمت کا پیغام جھلکتا تھا تو دوسرے وقت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ کمانڈ اور اُن کی عسکری قیادت کے بیانات کے دباﺅ میں آ کر اُن کے بیانات کا لب ولہجہ تبدیل ہو چکا ہوتا تھا۔ اسی طرح ایرانی سپریم کمانڈر کی خاموشی بھی آڑے آ رہی تھی۔ حالات و واقعات کے اس پس منظر اور پیش منظر اور معروضی صورتحال کے اس تناظر میں فریقین کو کسی متفقہ لائحہ عمل پر آمادہ کرنا بلا شبہ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ تاہم اخلاص نیت ہو، عزم صمیم ہو، کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو قدرت بھی مدد کرتی ہے۔ پاکستانی قیادت نے ناممکن کو ممکن کر دیکھایا ہے تو اس میں انہیں یقینا ربِ کریم کی طرف سے تائید اور حمایت حاصل رہی ہے۔
مفاہمتی یاداشت کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے سلسلے کے شروع ہونے کے بارے میں ملی جلی اور متضاد اطلاعات ہیں۔ ان اطلاعات کو اس بنا پر تقویت ملتی ہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخطوں کے حوالے سے زیورخ سویئٹزر لینڈ میں ہونے والی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔ اسی بنا پر وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف جن کے اس تقریب میں شرکت کے لئے سویئٹزر لینڈ جانے کا پروگرام تھا اور وزیرِ اعظم ہاﺅس کی طرف سے دھوم دھڑکے سے اس بارے میں اعلان بھی سامنے آ چکا تھا، کا دورہ بھی منسوخ ہو گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ دورے کو اس لیے منسوخ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں تاہم فریقین امریکہ اور ایران جب بھی چاہیں گے پاکستان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا۔ سفارتی ذرائع کی طرف سے وزیرِ اعظم کے سویئٹزرلینڈ کے دورے کی منسوخی کے بارے میں یہ وضاحت قرینِ قیاس نہیں سمجھی جا سکتی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پُز شکیان کے الیکٹرانک طور پر پہلے ہی دستخط ہو چکے تھے تو دھوم دھڑکے کے ساتھ وزیرِ اعظم سوئیٹزر لینڈ کے دورے کے بارے میں اعلان کرنے اور وہاں پاکستان کی میزبانی میں دستخطوں کی تقریب کے انعقاد کے بارے میں اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ خیر ہمارے حکومتی اہلکار اور ذمہ داران اس طرح کی بو العجبیاں نہ کریں تو پھرایک طے شدہ معاملے اور برسرِ زمین حقیقت کے بارے میں خواہ مخواہ کے شکوک و شبہات پیدا ہونے کی راہ کیسے ہموار ہو سکے۔
کچھ حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس میں پاکستان کے مقابلے میں قطری قیادت کا زیادہ کردار ہے۔ مفاہمتی یاداشت کے مطابق ایران کی معاشی ترقی اور تعمیرِ نو کے لیے تین سو ارب ڈالر کا جو منصوبہ بنے گا اور جس کی یو این او کی سلامتی کونسل سے منظوری لی جائے گی اُس پر عملدرآمد قطر اور دوسرے خلیجی ممالک کی معاونت اور عملی شرکت سے ہی ممکن ہو سکے گا۔ اس طرح قطر کے بطور ایک بڑے معاون، مدد گار اور شریک کار ہونے کی کی بات سمجھ میں آ سکتی ہے۔ خیر معاملات جیسے بھی ہوںاور اس مفاہمتی یاداشت پر امریکہ اور ایران کی طرف سے دستخطوں کی رضا مندی حاصل کرنے میں جس جس کا جتنا بھی کردار ہے وہ ضرور سامنے آ کر رہے گا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت.... تاریخی معاہدہ!
09:12 AM, 20 Jun, 2026