انسانی تاریخ طاقت، دولت اور اقتدار کی مسلسل کشمکش کی تاریخ ہے۔ زمانہ قدیم میں فرعون، نمرود، قیصر اور کسریٰ جیسی شخصیات طاقت، جبر اور استبداد کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں فوج، خزانہ، قانون اور اقتدار ہوتا تھا، اور وہ اپنی مرضی کو ہی قانون بنا دیتے تھے۔ وقت بدلا، سلطنتیں ختم ہوئیں، بادشاہتوں کی جگہ جمہوریت نے لے لی، آئین وجود میں آئے، پارلیمانیں قائم ہوئیں اور عوام کو ووٹ کا حق ملا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اقتدار عوام تک منتقل ہو گیا، یا طاقت نے صرف اپنا چہرہ تبدیل کیا ہے؟ اکیسویں صدی میں دنیا بظاہر جمہوری اصولوں کے تحت چل رہی ہے، مگر بہت سے سیاسی و معاشی ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج طاقت کا مرکز عوام نہیں بلکہ سرمایہ، ٹیکنالوجی، اطلاعات اور عالمی مالیاتی نیٹ ورکس بنتے جا رہے ہیں۔ دنیا کی ایک بڑی دولت چند سو افراد اور چند ہزار کارپوریشنوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہو چکی ہے۔ یہی ادارے معیشت، میڈیا، ڈیجیٹل دنیا، مصنوعی ذہانت، مواصلات، ادویات، خلائی تحقیق اور توانائی کے شعبوں پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔آج اگر کسی شخص کے پاس اربوں انسانوں کا ڈیٹا، عالمی مواصلاتی پلیٹ فارمز اور بے پناہ سرمایہ موجود ہو تو اس کی طاقت ماضی کے کئی بادشاہوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دانشور جدید دور کو کارپوریٹ سلطنتوں کا دور قرار دیتے ہیں۔ ماضی میں فرعون دریائے نیل اور مصر پر حکمرانی کرتا تھا، جبکہ آج بعض عالمی ادارے پوری دنیا کے ذہنوں، رویوں اور معلومات کے بہا پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایلون مسک اس دور کی سب سے نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ٹیسلا، اسپیس ایکس، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کی جدت، وژن اور جرات قابلِ تحسین ہے۔ لیکن ان کی مثال اس نئے عالمی رجحان کو بھی واضح کرتی ہے جہاں ایک فرد یا محدود طبقہ ایسی معاشی اور تکنیکی طاقت حاصل کر لیتا ہے جو کئی ریاستوں کے برابر یا بعض اوقات ان سے بھی زیادہ مثر دکھائی دیتی ہے۔ یہی صورتحال دیگر عالمی ارب پتیوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان کے ساتھ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہی سرمایہ کاروں نے جدید دنیا کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیاں، خلائی تحقیق، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، جدید ادویات اور عالمی مواصلاتی نظام انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب دولت، معلومات اور ٹیکنالوجی چند ہاتھوں میں جمع ہو جائیں تو کیا جمہوریت کا توازن برقرار رہ سکتا ہے؟دنیا کے مختلف ممالک میں انتخابی مہمات پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ میڈیا ادارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز عوامی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لابنگ، سیاسی فنڈنگ اور معاشی دبا کے ذریعے پالیسی سازی پر اثرات مرتب کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً عام شہری کے ووٹ کی قانونی حیثیت تو برقرار رہتی ہے، مگر عملی طور پر فیصلہ سازی پر طاقتور طبقوں کا اثر بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین آج کے نظام کو ایک شخص ایک ووٹ کے بجائے ایک ڈالر ایک ووٹ کے نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اس عالمی رجحان سے الگ نہیں۔ یہاں جمہوریت موجود ہے، انتخابات ہوتے ہیں، اسمبلیاں قائم ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور اشرافیہ بھی موجود ہے۔ سرمایہ دار، جاگیردار، سردار، گدی نشین، بڑے مذہبی خانوادے، میڈیا مالکان، بیوروکریسی اور مختلف ریاستی ادارے سیاسی عمل پر مختلف سطحوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چنانچہ عوامی حکمرانی اور اشرافیائی اثر و رسوخ کے درمیان کشمکش پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مستقل موضوع رہی ہے۔ حالیہ سیاسی منظرنامے میں استحکام پاکستان پارٹی کی مثال اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہے۔ ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسی جماعتیں کس طرح مختصر وقت میں قومی سیاست میں اہمیت حاصل کر لیتی ہیں، جبکہ ان کے عوامی ڈھانچے اور انتخابی بنیادیں محدود ہوتی ہیں۔ بعض حلقوں کے نزدیک یہ سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جبکہ دوسرے اسے طاقت کے غیر منتخب مراکز کے اثر و رسوخ سے جوڑتے ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو، یہ سوالات پاکستانی سیاست میں عوامی اعتماد کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہیں۔پاکستان میں طاقت صرف سرمایہ تک محدود نہیں۔ یہاں مذہبی اثر و رسوخ، خاندانی سیاست، جاگیرداری، بیوروکریٹک طاقت اور ادارہ جاتی قوت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر شعبے میں ایک الگ اشرافیہ موجود ہے۔ کوئی سرمایہ کے ذریعے اثر انداز ہوتا ہے، کوئی مذہبی تقدس کے ذریعے، کوئی میڈیا کے ذریعے اور کوئی انتظامی اختیارات کے ذریعے۔ نتیجتا عام آدمی اکثر خود کو طاقت کے اس وسیع نظام کے مقابلے میں کمزور محسوس کرتا ہے۔تاہم اس ساری بحث میں ایک اہم نکتہ فراموش نہیں ہونا چاہیے۔ مسئلہ امیر افراد یا کامیاب کاروباری شخصیات کا وجود نہیں بلکہ طاقت اور وسائل کا غیر معمولی ارتکاز ہے۔ اگر سرمایہ تحقیق، روزگار، صنعت اور انسانی فلاح کے لیے استعمال ہو تو وہ ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن اگر وہ قانون سازی، میڈیا، سیاست اور عوامی رائے پر غلبے کا وسیلہ بن جائے تو جمہوریت کے بنیادی اصول متاثر ہونے لگتے ہیں۔اسلامی تعلیمات بھی طاقت اور
دولت کے ساتھ جوابدہی کو لازم قرار دیتی ہیں۔ حضرت عمر کا یہ قول کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے سوال ہوگا دراصل حکمرانی کے تصورِ احتساب کی اعلی ترین مثال ہے۔ اسلام دولت کی مخالفت نہیں کرتا، بلکہ دولت کے ارتکاز، استحصال اور ناانصافی کی مخالفت کرتا ہے۔ اسی لیے زکو، صدقات، عدل، شوری اور احتساب کو اسلامی معاشرت کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔آج دنیا کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ جدید ترقی، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے فوائد کو برقرار رکھتے ہوئے طاقت کے ارتکاز کو کیسے روکا جائے۔ آزاد میڈیا، مضبوط عدلیہ، شفاف انتخابات، مثر احتساب، معیاری تعلیم اور باشعور شہری معاشرہ ہی اس مسئلے کا دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر عوام علم، شعور اور کردار کی قوت سے محروم رہیں گے تو طاقت کے مراکز بدلتے رہیں گے مگر طاقت کا ارتکاز ختم نہیں ہوگا۔اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا دنیا واقعی آزاد انسانوں کی دنیا بن رہی ہے یا چند طاقتور افراد، اداروں اور طبقات کے زیرِ اثر ایک نئی غلامی جنم لے رہی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہر فرعونیت، خواہ وہ تاج پہن کر آئے یا کارپوریٹ بورڈ روم میں بیٹھ کر، ہمیشہ عارضی ثابت ہوئی ہے۔ پائیدار قوت صرف عدل، جوابدہی اور عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر دنیا نے اس اصول کو فراموش کر دیا تو ترقی کے تمام دعووں کے باوجود انسان ایک نئی اور زیادہ پیچیدہ غلامی کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔
دنیا چند امیر ترین افراد کی نئی غلامی میں
09:10 AM, 20 Jun, 2026