اور معاہدہ طے پا گیا

09:10 AM, 20 Jun, 2026

خدائے بزرگ و برتر نے پاکستان کی عزت میں مزید اضافہ کر دیا۔ پاکستانی قیادت کی انتھک اور مخلصانہ کوششیں بالآخر رنگ لے آئیں اور امریکہ ایران امن معاہدہ طے پا گیا جس پر جنگ کے دونوں فریق ملکوں امریکہ اور ایران کے صدور نے دستخط کر دیئے جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور ثالث معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔ اس تاریخ ساز پیش رفت پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف دی آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، وزارت خارجہ کے حکام خصوصی خراج تحسین کے مستحق ہیں جنھوں نے وقت کی نبض کو پہچانا اور بروقت قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کو تیسری جنگ عظیم جیسے بحران کی طرف جانے سے بچا لیا۔۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے اس معاہدے کا اعلان کیا تھا اور اعلان سے اگلے روز قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی قوم کو بھی خراج تحسین پیش کیا تھا کہ اس نے مشکل وقت میں معیشت پر آنے والے دباو¿ کا ثابت قدمی سے سامنا کیا۔
یہ ایک خوبصورت اتفاق ہے کہ اسلام آباد میمورنڈم کے نام سے ہونے والا یہ امریکا ایران امن معاہدہ چودہ نکات پر مشتمل ہے جو ہمیں قائد اعظم کے چودہ نکات کی یاد دلاتا ہے جو انھوں نے 1928کی نہرو رپورٹ کے جواب میں 28مارچ 1929کو پیش کیے تھے۔ ان چودہ نکات کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے آئینی حقوق اور سیاسی مفادات کا تحفظ تھا۔ امریکہ ایران معاہدے کے چودہ نکات کا مقصد بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ ان نکات کا مقصد نہ صرف اہل ایران کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ہے بلکہ خلیجی ممالک اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے پائیدار امن کے قیام کا حصول بھی ہے کیونکہ فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ اس معاہدے پر عمل درآمد میں اسرائیل رکاوٹ بن سکتا ہے جو ابھی تک شر انگیزی سے باز نہیں آ رہا۔ 
اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ایران نے بھی اس معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں جبکہ اس سے پہلے صرف امریکہ کی طرف سے ایسے دعوے سامنے آ رہے تھے اور ایران کی طرف سے مسلسل تردید سننے کو مل رہی تھی۔ معاہدہ نافذ تو ہو چکا تاہم اس پر عمل درآمد میں اب بھی کچھ رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے شہر برجن سٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات موخر کر دیئے گئے۔ معاہدے پر ایرانی صدر کے دستخط کے باوجود ایران کے شکوک و شبہات بدستوربرقرار ہیں اور اسی لیے ایرانی قیادت امریکہ کو خبردار کر رہی ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں امریکہ کو سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری طرف امریکی قیادت امن معاہدے کے حوالے سے نہ صرف خاصی پرامید اور پریقین بلکہ پرعزم ہے کہ یہ معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکراتی کوششوں میں پیشرفت کیلئے مشرقِ وسطیٰ کے تمام فریقین اپنے عزم پر قائم رہیں۔ عالمی مارکیٹیں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاکس میں اضافے کو پسند کررہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں کمی ہونا امریکا کیلئے کامیابی ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے بھی اسے صدی کی سب سے بڑی سفارتی فتح قرار دیا تھا۔
امریکی نائب صدر نے بھی امن معاہدے کے حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار کیا اور اسرائیل کو کسی قسم کی شرارت سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا۔ بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ صدر ٹرمپ پر تنقید کرنے والے اسرائیلی وزرا کو ہوش میں آکر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے، معاہدے اور ٹرمپ پر اسرائیلی تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔ 
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی تاریخ ساز پیش رفت کا سہرا پاکستان کے سر بندھے گا۔ ہماری اس کوشش کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ اسی حوالے سے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں جتنی عزت دی ہے اس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کو ایسی عزت کی تلاش میں صدیاں گزرجاتی ہیں جو پاکستان کو ملی۔ دنیا میں آج کسی ملک کا نام عزت سے گونج رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کرنے کا جانفزا مژدہ بھی سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ امن معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے اثرات پاکستانی قوم کو بھی منتقل کیے جائیں گے۔ عوام نے جس طرح مہنگائی کےطوفان کاسامناکیاوہ اپنی مثال آپ ہے۔ جنگ بندی کے بعد اب تیل کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں۔ وعدہ کیا تھا پٹرول کی مد میں وصول کی گئی ایک ایک پائی قوم کو لوٹائیں گے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ پٹرول 299 اور ڈیزل 311 روپے فی لٹر کر دیا گیا ہے۔ یہ کمی پاکستانی قوم کی توقعات کے مطابق ہو گئی ہے اور یقینا اس سے گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑھنے والی قیمتوں کا ازالہ ہو سکے گا۔ یوں تو امریکہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی دباو¿ سے ساری دنیا کے عوام متاثر ہوئے ہیں تاہم پاکستانی قوم کو اس کا اچھا خاصا بوجھ سہنا پڑا۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً ڈیڑھ گنا اضافہ ہو گیا۔ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئے۔ عوام کو بجلی اور گیس کی ترسیل میں کسی حد تک مسائل پیدا ہوئے۔ اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے لوگوں کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی کیے گئے تاہم وہ آٹے میں نمک کے برابر تھے اور ان کے ثمرات ہر شہری تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکے۔ اب امریکہ ایران امن معاہدے کے نتیجے میں پاکستانی پر امید ہیں کہ حکومت گزشتہ چند ماہ کے دوران آنے والے مہنگائی کا طوفان پر قابو پانے کے موثر اقدامت کرے گی تاکہ اس امن معاہدے کے فیوض و برکات پاکستانی عوام تک بھی بھر پور طریقے سے پہنچ سکیں۔

مزیدخبریں