میرے نزدیک سوشل میڈیا نے اب جو گند پھیلانے کی رفتار پکڑ رکھی ہے وہ صرف میرے لئے ہی نہیں بلکہ پوری قوم کو بھی حیران کئے ہوئے ہے کہ اب آپ صرف چند لمحوں میں گھر بیٹھے اپنی بات پوری دنیا کے آگے رکھ دیتے ہیں جس کی روشنی میں آج ہر شخص صحافی بن گیا ہے یعنی نہ اب آپ کو صحافت کی ڈگری کی ضرورت ہے اور نہ آپ دفتر کی کمی محسوس کرتے ہیں اور نہ آپ کو صحافت کے تجربے کے حصول کے لئے پاپڑ بیلنے کی ضرورت ہے۔ آپ اپنے گھر سے جو چاہیں بول سکتے ہیں اور جب چاہیں کسی کی پگڑی اتار دیں، شریف خاندانوں کو بدنام کردیں اور یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ آپ کی ایک لگائی غلط پوسٹ پورے خاندان کی عزت کو داﺅ پر لگا سکتی ہے۔
شامی صاحب! اس سے جو خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ان کے آثار تو بڑے تباہ کن ہیں؟
دیکھیں! اخبار میں ایک ڈکلیئریشن ہولڈر ہوتا ہے پھر ایک ایڈیٹر ہر خبر کی چھانٹ پرت درست کرتا ہے تو پھر وہ خبر کی تحقیق کرکے اس کو شائع کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح الیکٹرانک میڈیا میں ایک لائسنس ہولڈر ہوتا ہے پھر رپورٹر سے ڈائریکٹر نیوز، پروگرامنگ کے ہیڈ ہوتے ہیں اور اینکر سے نیوز کاسٹر تک سب آپ کے اور وہ قانون کے آگے جوابدہ ہوتے ہیں۔ اب قانون کا نفاذ ہو نہ ہو یہ الگ بات ہے مگر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بات بات کا جواب تو دینا ہی ہے۔ ان سب کو پتہ ہے کہ ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد سزا اور جرمانے کا عمل بھی سامنے ہے مگر سوشل میڈیا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کوئی شخص دنیا کے کسی کونے سے آپ کے ساتھ کیا کچھ کر جائے۔ کیا اس کا نام اور کام فیک ہے اس کی شناخت بھی نہیں ہو سکتی نہ یہ پتہ ہے کہ اس کے نقاب کے پیچھے کون چھپا ہوا ہے اور سوشل میڈیا پر بیٹھے اور بولنے والے کسی قانون کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتے۔ وہ سامنے ہوں گے تو قانون کا سامنا کر سکیں گے وہ تو پس پردہ سب کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالے ہوئے ہیں۔ وہ سو آنکھیں بند کرکے برے طریقے سے جھوٹ کا پھیلاﺅ کر رہے ہیں اور اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ کبھی کبھی بولا گیا جھوٹ سچ نظر آنے لگتا ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ اور امریکہ جیسے ملک میں فسادات ہو چکے ہیں حالانکہ وہ ہمارے مقابلے میں کئی گنا آزاد معاشرے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں بھی سوشل میڈیا اپنا خوف پھیلائے ہوئے ہے جبکہ ہمارے جیسے معاشرے میں تو یہ بہت بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ میرے نزدیک جب تک سوشل میڈیا کو قانون کے سامنے جواب دہ نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک آپ کو آنے والے وقتوں میں بہت سی مزید تباہیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شامی صاحب! کیا آپ مانتے ہیں کہ اب تو تحقیقاتی خبر دفن نہیں کر دی گئی؟ جو آیا اگل دیا، لکھ دیا؟ اور بول دیا۔ آج کی صحافت میں تو فالواپ جیسی ضروری چیزیں بھی ختم ہو چکی ہیں اور اس زمانے کی پریس ریلیز اب نیوز چینلز کی بریکنگ نیوز بن چکی ہے۔
دیکھیں وہ پکڑ اور خوف کا زمانہ تھا۔ یہاں تو نہ سامنے بندہ اور نہ کوئی قانون ہے تھر پھر آپ کس کو کیسے پکڑیں گے۔ اب تو لوگ میرے نام سے بھی غلط قسم کی پوسٹیں لگا دیتے ہیں۔ ایسی خبریں جب نیوز روم کو بھیجتا ہوں تو وہاں سے نوے پرسنٹ جواب آتا ہے کہ یہ فیک ہیں تو میں سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں یعنی میرے جیسا بندہ بھی اس بات کی تمیز ہی نہیں کر سکتا کہ کونسی خبر ٹھیک اور کونسی درست ہوگی؟ اب تو عالم یہ ہے کہ ہمارے ہاں مختلف لوگوں کے جعلی پیغامات لگائے جا رہے ہیں۔ میرے نزدیک سوشل میڈیا جھوٹ کا ایک بہت بڑا طوفان ہے۔ جو ہماری معاشرت اور تہذیب کو اپنا تباہ کن زد میں لئے ہوئے ہے۔
اور آخری بات....
سوشل میڈیا کے حوالے سے شامی صاحب سے میرا یہ مکالمہ تھا۔ میری رائے میں شامی صاحب جیسے صحافت کے نامور لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں اس کے لئے وقف کر دیں اور جنہوں نے حق اور قلم کی بلندی کی خاطر شاہی قلعے کی سزائیں اور جیلوں کی سلاخیں دیکھی ہوں اور وہ ڈکٹیٹرز کے زمانوں میں حق کے خلاف آواز اٹھانے پر مجرم ٹھہرائے گئے ہوں اور انہوں نے قلم کے بدلے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈلوائیں ہوں.... جب وہ کہہ اٹھیں کہ سوشل میڈیا پر اٹھنے والے طوفان کو کوئی نہیں روک سکتا اور ہمارے لئے تو قانون ہے مگر ان کے لئے کوئی قانون نہیں جس کے آگے وہ جوابدہ ہو سکیں.... شامی صاحب کے اس موقف کے بعد ہمارے اوپر صحافت کی پاسداری کا جو لقب ہم نے اپنے سینوں پر لگا رکھا ہے اس کو اتار پھینک دیں۔
مجیب الرحمان شامی.... اور سوشل میڈیا (آخری حصہ)
09:06 AM, 21 Jun, 2025