فیلڈ ماشل صاحب کو خدائے پاک نے عزت بخشی اور وہ پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں کہ جن کے اعزاز میں کسی امریکی صدر نے ظہرانہ دیا اس کے بعد نیویارک ٹائمز نے اس ملاقات پر کیا سٹوری شائع کی لیکن اس سے پہلے اس ملاقات کے حوالے سے جو منفی پروپیگنڈا اور بکواسیات کر کے دل کے پھپھولے پھوڑے جا رہے ہیں ان کا کچھ پوسٹ مارٹم کر لیں ۔یہ شرلیاں اسی جگہ سے چھوڑی جا رہی تھیں کہ جہاں سے پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا گیا ۔اب بھی دنیا کی اکلوتی سپر پاور کے صدر کہ جس نے جی سیون کانفرنس کے موقع پر ہندوستان کے وزیراعظم مودی کو لفٹ نہیں کرائی اور اس سے ملاقات نہیں کی لیکن اگر وہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ملاقات کی دعوت دیتا ہے تو یہ پاکستان کے لئے عزت کی بات ہے لیکن اس پر ” پٹ سیاپا “ کہاں پڑ گیا کہ جنھوں نے ٹرمپ کی پوری الیکشن کمپین چلائی اور کروڑوں ڈالر چندہ دیا لیکن بدلے میں بے انتہاترلے منت کے باوجود بھی کسی کی رہائی کے لئے ایک ٹویٹ تک نہیں کیا ورنہ تو حالت یہ تھی کہ ” نئی خبر آئی سی ٹرمپ ساڈا بھائی سی “۔ پھر ایک مخالفت ہوتی ہے کہ زبانی کلامی کی جائے لیکن یہاں پر تو فیلڈ مارشل صاحب کی آمد پر واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاج بھی رکھا گیا جس میں پوری کوشش کے بعد بھی چند بندوں سے زیادہ لوگ جمع نہیں ہو سکے۔
جو سب سے بڑی شرلی چھوڑی جا رہی ہے وہ یہ کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف پاکستان میں فوجی اڈوں کی بات کی ہو گی لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں اور پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ میں جو اگر مگر if & Butsکے بغیر انتہائی واضح موقف اپنایا ہے کیا پاکستان کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس پر 360ڈگری کا یو ٹرن لے لے ۔ جہاں تک اڈوں کی بات ہے تو ایران کے اطراف میں چاروں طرف جو ممالک ہیں ان میں امریکن اڈے ہیں ۔ امریکن محکمہ دفاع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کم و بیش 40ہزار امریکی فوجی ہیں ۔ سب سے بڑا فوجی اڈا العدید ایئر بیس قطر میں ہے جو 1996میں بنایا گیا تھا اس کے علاوہ بحرین ، کویت ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، شام ، اردن ، مصر ، قبرص اور عراق میں بھی امریکن فوجی اڈے ہیں ۔ ان اڈوں کی موجودگی میں وہ پاکستان سے مزید فوجی اڈے کیوں مانگے گا ۔ اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان کے لئے بھی تو مانگے تھے تو یہ ممالک افغانستان سے کچھ فاصلے پر ہیں۔ روس چین جو اطراف کے ممالک تھے ان میں بھی نہیں تھے اور پھر امریکہ اور نیٹو فورسز کو افغانستان میں ایک لمبے عرصہ کے لئے رہنا تھا جبکہ ایران میں نہیں رہنا اور جنگ بندی کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے ۔ اس کے علاوہ پاکستان میںایک بڑے طبقے کی ایران کے ساتھ مذہبی عقیدت کے جذبات ہیں تو پاکستان اتنی بڑی آبادی کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ سب سے اہم کہ جس طرح ہندوستان سے پاکستان کو خدائے پاک نے فتح مبین عطا کی تو اس میں چین کا بہت بڑا کردار ہے تو چین اور روس جو امریکہ کو للکار رہے ہیں اور پاکستان کے دفاع کا بہت زیاددہ دارو مدار جو کسی وقت امریکہ پر تھا اور اس وقت امریکہ کے کہے کو ٹالنا ہمارے لئے واقعی مشکل ہواکرتا تھا اس لئے کہ ہر طرح کی جنگی ٹیکنالوجی امریکہ سے لی ہوتی تھی اور ان کے فاضل پرزہ جات بھی اسی سے لینا ہوتے تھے لیکن اب ہمارے دفاع میں چینی جنگی ٹیکنالوجی بنیادی کردار ادا کر رہی ہے تو کیا پاکستان اتنا بڑا رسک لے سکتا ہے کہ وہ ہندوستان کے بعد چین ، ایرن اور روس سب سے دشمنی مول لے لے جبکہ افغانستان کا بارڈر پہلے ہی غیر محفوظ ہے تو ایسا کوئی انتہائی احمق ہی کر سکتا ہے اور یہ جتنی شرلیاں چھوڑی جا رہی ہیں ان سب کی حقیقت آنے والے چند دنوں میں کھل کر سامنے آ جائے گی ۔
اب بات کرتے ہیں کہ نیویارک ٹائمز نے کیا کہا ہے تو اس ملاقات کے حوالے سے جتنی خبریں اور پروپیگنڈا ہو رہا تھا نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں اسے اڑا کر رکھ دیا ہے ۔ اس میں کہا ہے کہ امریکن صدر نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور عنقریب ٹرمپ ایرانی قیادت کو وائٹ ہاﺅس آنے کی دعوت دیں گے اور ایرانی قیادت اسے قبول بھی کر لے گی تو اگر امریکی صدر کا ذہن اس ملاقات کے بعد بدلا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ غالب امکان یہی ہے کہ اس میں فیلڈ مارشل صاحب کے مشورے کا عمل دخل ہو کیونکہ ایسے تو کوئی نہیں کہتا کہ ایران کو پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔ اب آخر میں تین پاکستانی اور تین امریکی صدور کے رویوں کا مختصر ذکر ۔ بھٹو صاحب امریکن دورے پر گئے تو کینیڈی نے ملاقات کے دوران کہا کہ مسٹر بھٹو اگر تم امریکہ میں ہوتے تو آپ میری کابینہ میں وزیر ہوتے تو بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ اگر میں امریکہ میں ہوتا تو مسٹر کینیڈی آپ میری کابینہ میں وزیر ہوتے ۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ فیلڈمارشل سے ملنا ان کے لئے اعزاز کی بات ہے جبکہ خان صاحب نے کہا تھا کہ انھیںایسا لگ رہا ہے کہ وہ دوبارہ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات
09:06 AM, 20 Jun, 2025