ٹرمپ اور عاصم منیر کی ملاقات

09:06 AM, 21 Jun, 2025

صدرٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات پر بھارت بے چین ہے ذرائع ابلاغ میں چیخ و پکار جاری ہے امریکی پرچم کی توہین کرتے ہوئے امریکہ کودہشت گرد قرار دیا جارہا ہے دراصل کئی گزرے برسوں کے دوران نریندرامودی ہم وطنوں کویقین دلا رہے تھے کہ حکومتی تعلقات کے ساتھ ٹرمپ سے اُن کے ذاتی مراسم ہیں شایداسی لیے بھارتیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہمیشہ بھارت رہے گااب ایسا نہیں ہو نے پر غم وغصے اور اشعال میں ہے حالانکہ ریاستوں کے باہمی تعلقات میں جذبات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ تعاون وتعلقات مفادات کے تابع ہوتے ہیں علاوہ ازیں دنیا فاتحین کو یاد رکھتی ہے شکست خوردہ جرنیل لاوارث ہوتے ہیں گزشتہ ماہ مئی کی پاک بھارت جھڑپوں میں پاکستان نے عسکری فتح حاصل کی جب کہ بھارت کے حصے میں شکست جیسی ذلت آئی جس سے ٹرمپ کی پہلی ترجیح بھارت نہ رہاٹرمپ اور عاصم منیر ملاقات سے عیاں ہوگیا ہے کہ امریکہ نے بھارتی ایماپر پاکستان کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کی دونوں جوہری طاقتوں سے بناکر رکھنے کی حکمتِ عملی اختیارکرلی ہے۔
پاک مریکہ تعلقات گزشتہ چند برسوں سے خوشگوار نہیں رہے لیکن ٹرمپ سے عاصم منیر کی دوگھنٹے پر محیط ملاقات نے سارامنظر نامہ ہی بدل دیا ہے میزبان صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا تو مہمان عاصم منیر نے جنگ بندی میں کردار پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیاجب ٹرمپ جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہیں اور پاکستان بھی اُن کی تائید کرتا ہے تو بھارتی حکومت پریشان ہوتی ہے کیونکہ وہ سیز فائر میں ٹرمپ کردار سے انکار کرتی ہے میزبان کے ساتھ سیکرٹری خارجہ مارکوروبیو اور مہمان کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم ملک کی موجودگی اشارہ ہے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے موقف اورضروریات کو سمجھاہے انسدادِ دہشت گردی میں امریکہ کی حمایت اورٹیکنالوجی کاتبادلہ پاکستان کی استعداد بڑھا سکتا ہے نیز ملاقات اب پاکستان خودکو ایک فعال ،متوازن اور دار ملک کے طورپر خود کودنیاسے منوانا آسان ہو سکتا ہے اِس کے لیے عالمی روابط میں بہتری،قومی ترقی اور بہتر خارجہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے اگر قومی قیادت فہم ودانش کا مظاہرہ کرے تو یہ ملاقات ہماری تاریخ کا ایساخوشگوار موڑ ثابت ہو سکتی ہے جس سے ملکی ترقی کے ساتھ ساکھ اور کردارمیں اضافہ ہو ۔
صدر ٹرمپ کاروباری شخص ہیں وہ جنگوں پر کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں اُن کے دورصدارت میں سرمایہ کار ی حاصل کرنے کے لیے بہت کام ہوا ہے وہ نفع کے حصول کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیںاِس میں شائبہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں آج بھی امریکہ کے لیے سب سے اہم اسرائیل ہے مگر دوسری مدتِ صدارت کے آغاز میں اِس خطے کے سرکاری دورے کے دوران اسرائیل نہ جانے کی وجہ وہاں سے مالی منفعت نہ ہوناہی تھا وہ سعودی عرب ،قطر اور عرب امارات گئے سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کار ی حاصل کی مہنگے ترین تحائف لیے اور میزبانوں کی تعریف میںچند ایک توصیفی جملے بول کر چلتے بنے اسرائیل نہ جانے کی ہوشیاری اُنھیں میزبانوں کی نگاہ میں محترم و مکرم بنا گئی حالانکہ ایران و اسرائیل جنگ میں ٹرمپ کی تڑپ سے واضح ہے کہ وہ قیمت پر اسرائیل کی فتح چاہتے ہےں پاکستان آجکل امریکہ کے لیے اِس لیے بھی اہم ہے کہ کرپٹوکونسل بنانے والا خطے کاپہلا ملک ہے مزید یہ کہ کرپٹومنصوبوں کے لیے دوہزار میگاواٹ بجلی وقف کرچکاہے صدرٹرمپ کے خاندان کا اِس کاروبار سے کیا تعلق ہے؟ کسی سے پوشیدہ نہیں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ہم آہنگی ہے اسی بناپر فیلڈ مارشل سے ملاقات کے اغراض و مقاصد ناقابلِ فہم نہیں ۔
صدرٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات ایران و اسرائیل مناقشے کے حوالے سے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی کُھل کر مذمت کرتے ہوئے ا یرانی بھائیوں کی سفارتی و اخلاقی مد دکے عزم کا اظہار کیا ہے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف تہران دورے کے دوران ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی اپنی حمایت کا یقین دلا چکے یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کے لیے قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے اسی لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لئے وائٹ ہاﺅس میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا اِس لیے ملاقات کاوقت بہت اہم ہے اورواقفانِ حال اِس بھاگ دوڑ کودنیاکے واحدجوہری مسلم ملک پاکستان کوایران کی عسکری امداد سے باز رکھنے کی مُہم کاحصہ قراردیتے ہیں لیکن یہ مقصدشاید ہی پوراہوکیونکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر دورہ امریکہ کے دوران نجی تقریبات میں ایران کی جس غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتے رہے وہ دراصل پاکستان کی اپنی بھی ضرورت ہے ۔
 ماضی میں چین اور امریکہ تعلقات قائم کرانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا اب ایک بارپھر دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت چین اور دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی ہے جس کی وجہ تجارتی غلبے کی دوڑ ہے دونوں ممالک ایک دوسرے کے برآمدی سامان پر محصولات بڑھارہے ہیں دونوں ہی دنیا کے معدنی ذخائر پر کنٹرول کے لیے کوشاں ہیں مستقبل میں بھی بظاہر امریکہ و چین کشیدگی میں کمی کے آثار نہیں اِن حالات میں پاکستان کی اہمیت اِس بناپر بڑھ گئی ہے کہ ماضی کی طرح یہ اب بھی امریکہ تعاون کرسکتاہے ایک ایسا ملک جس کی نہ صرف جنوبی ایشیا میں عسکری برتری ثابت شدہ ہے بلکہ سی پیک کی تکمیل سے مشرقِ وسطیٰ ،افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا گیٹ بننے جارہا ہے نیزمعدنیات کے وسیع ذخائر رکھتا ہے اِس کے ایران سے برادرانہ تعلقات ہیں یہ چین کابھی ایک ایسا بااعتماد دوست وشراکت دار ہے جو کچھ بھی منوا سکتاہے ایسی خوبیاں بھارت میں نہیں پاکستان کو توانائی مسائل کاسامنا ہے مگر اُس نے محض ٹرمپ خاندان کی خوشنودی کے لیے کرپٹو کونسل بنا کر دوہزارمیگاواٹ بجلی وقف کردی اِن سطور کی روشنی میں ملاقات کے اغراض و مقاصد کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔

مزیدخبریں