واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک کو امریکا میں کام جاری رکھنے کے لیے مزید 90 دن کی مہلت دے دی ہے۔ اب اس چینی ایپ کو کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کی نئی ڈیڈ لائن 17 ستمبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ وہ ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر چکے ہیں۔ اس حکم کے مطابق اگر ٹک ٹاک نے مقررہ وقت میں اپنا امریکی حصہ کسی امریکی خریدار کو نہ دیا، تو اسے ملک میں بند کر دیا جائے گا۔
یہ تیسری بار ہے کہ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ مؤخر کیا ہے۔ اس سے پہلے 2024 میں امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے مجبور کیا تھا کہ وہ اپنے امریکی اثاثے کسی مقامی ادارے کو فروخت کرے، اور ابتدائی ڈیڈلائن 19 جنوری 2025 رکھی گئی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی 2024 کی الیکشن مہم کے دوران سوشل میڈیا پر بہت انحصار کرتے رہے ہیں، اور انہوں نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک کی مدد سے وہ نوجوان ووٹرز تک بہتر انداز میں پہنچ سکے۔
ٹک ٹاک نے ٹرمپ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ امریکی صارفین کے لیے پلیٹ فارم کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کمپنی کے مطابق، وہ صدر ٹرمپ کی حمایت کے شکر گزار ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے حوالے سے کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے، اور ٹک ٹاک اس کشمکش کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔