ایران کا جنوبی اسرائیل پر میزائل حملہ، کمانڈ اور انٹیلی جنس مراکز نشانہ، خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

10:05 AM, 20 Jun, 2025

تہران :ایران نے جنوبی اسرائیل پر براہِ راست میزائل حملے کیے ہیں، جن میں اسرائیلی فوج کے اہم کمانڈ اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے "آپریشن وعدۂ صادق سوم" کا حصہ تھے، اور ان کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

میزائل داغنے سے پہلے بحیرۂ مردار کے قریب ایرانی ڈرونز کی پروازیں دیکھی گئیں، جس کے بعد بیرشیبا شہر میں شدید دھماکے ہوئے۔ کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور درجنوں گاڑیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔ اگرچہ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے بیرشیبا کا ریلوے اسٹیشن بند کر دیا اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔ سائرن کی آوازیں شہر بھر میں گونجتی رہیں، جبکہ دفاعی نظام کئی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔

جوابی طور پر اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران پر رات بھر درجنوں فضائی حملے کیے، جن میں 60 طیارے شامل تھے اور 120 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایران کی میزائل فیکٹریوں کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکا میں یہودیوں کی ایک امن پسند تنظیم "یہودی با آوازِ امن" نے صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو مزید اسلحہ نہ دیا جائے۔ تنظیم نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور خطے کو جنگ میں دھکیل رہا ہے، جبکہ امریکا اسلحہ دے کر اس عمل میں شریک ہے۔

ادھر وینزویلا میں بھی ہزاروں افراد نے فلسطین اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مغربی ممالک کی دوغلی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔

مزیدخبریں