شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
صحافت عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف ایک ایسی آواز ہے جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یا نہیں ہونا چاہئے۔ یہ جمہوری کہلاتی ہے اور اسی کا ایک اہم ترین ستون ہے اور اسی کے ذریعے معاشرے بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے ایوانوں کو ہلا کے رکھ دیتی ہے اور یہی صحافت جوڑ توڑ کے ہنر بھی سکھاتی ہے۔ مجیب الرحمن شامی کو صحافت کی دنیا میں بڑی قدر و منزلت کی نگاہ دیکھا جاتا ہے اور پاکستان کے بہترین صحافیوں میں ان کو دیکھا اور سنا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اٹھنے والے طوفان بدتمیزی، یہ سلسلہ کب اور کہاں تک چلے گا میں کئی دنوں سے مختلف طبقات کے لوگوں سے بات کر رہا تھا اور شامی صاحب سے ایک مکالمے کی صورت میں بہت سی باتیں اپنے پیارے پڑھنے والوں تک پہنچانے کی سوچ لے کر کہ آج صحافت کہاں کھڑی ہے؟ اگر اس کا وجوڈد ہے تو کہاں ہے؟ میرے خیال میں آج کل کے دور میں صحافت کے نام پر جو بکواسیات اور گند سودا بیچا جا رہا ہے اور جگہ جگہ صحافت کے نام پر جو دکانیں کھل گئی ہیں اور ان دکانوں کے اندر سے جو گند باہر فروخت کیا جا رہا ہے اور اس گند کی کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ ہمارے زمانہ سے لے کر اب تک صحافت میں بڑی ہوشربا تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ آج میرے لئے تینوں فارمیٹ کی صحافت کو بے لگامی کی طرف جاتا دیکھ کر میرے اندر مایوسی اور دکھ ہوتا ہے۔ اس لئے کہ میں سن ستر، اسی اور سن نوے کی صحافت کے دور کا چشم دید گواہ ہوں۔ میرے نزدیک اس زمانے میں صحافت صرف کوالٹی اور اس کی درست سمت کے تعین اور ان اخلاقی اقدار کی احیاء جو کبھی اس پیشے کا خاصا تھیں، نمایاں نظر آتی تھی۔ آج کے دور میں ہمارے صحافی ان باتوں سے بہت دور بلکہ وہ ان میں ذرا برابر کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ایک طرف آج کے دور میں ٹی وی چینلز کے ہوشربا اضافے نے تو دوسری طرف رپورٹنگ کے شعبے کے معیار کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ کوئی بھی رپورٹر خبر فائل کرتے وقت خبر کی دسترس سے باہر نکل کر بریکنگ کے چکر میں بعض اوقات اخلاقیات کی سرحدیں بھی عبور کر جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہاں بہت سارے صحافی ایک ہی خبر کے لئے مقابلہ آرائی میں مصروف نظر آتے ہیں اور اس سے زیادہ دکھ اس بات کا بھی ہے کہ مدیر کی بالادستی کو کمرشل ازم اور ذاتی مفادات کے لئے قربان کر دیا گیا ہے اور اس سے زیادہ دُکھ کی ایک اور بات یہ کہ بعض لوگ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنوی حاصل کرنے کے لئے وہ اپنے پیشے سے ناانصافی کرتے ہوئے کئی بری مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ ایک پرنٹ میڈیا کا وہ دور تھا جب مالکان کی طرف سے ہمیں اس بات کی اجازت تھی کہ سیاسی اور دیگر معاملات پر بے لاگ تبصرے اور رپورٹنگ کریں اور بڑی بات یہ تھی کہ اس زمانے کے صحافی خود بھی اخلاقی حدود و قیود میں رہنے کا احساس رکھتے تھے اور یہ بات بھی تسلیم شدہ تھی کہ ان دنوں شخصیات کی نہ تو پگڑیاں اچھالی جاتیں اور نہ ان کے کردار پر رکیک حملے ہوتے تھے۔ میرے نزدیک کل کے مقابلے میں آج صحافت اب پیشہ نہیں رہا بلکہ بری روایات میں ڈھلتی نظر آ رہی ہے۔
بے رنگی صحافت اپنے ہی بنے جال میں اس قدر پھنس چکی کہ اب خود اس کو اپنی شناخت کرانا منوانا اور کہلوانا مشکل ہو گیا ہے۔ خاص کر جب سے ہمارے صحافتی سسٹم میں گٹر سوشل میڈیا نے قدم جمائے، اس وقت سے وہ اپنے گندے ناخنوں کے ذریعے پورے صحافتی ماحول کو زخمی کئے ہوئے ہے اور صحافت کو جس قدر ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے اور اس کی مثال ڈھونڈنا بھی مشکل ہو گیا ہے اور اگر اس گٹر میڈیا بارے بابائے صحافت مجیب الرحمن شامی بھی بول پڑیں تو پھر میرے جیسے صحافی جنہوں نے صرف لفظ کی حرمت کی پاسداری کرنا سیکھا اور اسی لفظ کی آج کے دور میں جس طرح صبح سے رات گئے تک اس کی بے حرمتی ہوتی دیکھ رہے ہیں وہاں دکھ نہیں بلکہ اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اب میں آتا ہوں اس ملاقات کی طرف جس کا لب لباب درج بالا باتوں میں کر چکا ہوں۔ مجیب الرحمن شامی بابائے صحافت تعارفی لفظوں کی دسترس سے بہت دور جا چکے ہیں۔ ان کی صحافت کے کئی ادوار کا میں بحیثیت شاگرد گواہ ہوں کل جب میں ان کے روبرو تھا اور کئی سوالات لئے ان سے سوشل میڈیا کے موجودہ رویوں کے بارے سوالات کر رہا تھا تو ان کے چہرے پر دکھ کے تاثرات کم از کم میں نے پہلی بار دیکھے تو مجھے یوں لگا کہ ہم آج کے دور کی صحافت کو شاید آخری دھکا دے رہے ہیں۔ میری استاد محترم مجیب الرحمن شامی سے ملاقات ان کے آفس روزنامہ پاکستان میں ہوئی۔ یوں بھی میرے لئے ان سے کی گئی ہر ملاقات کا مقصد ان سے سیکھنے کے عمل سے گزرنا بھی ہوتا ہے۔ اب یہ میری خوش قسمتی کہ ہر فون کال پر ان سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو گند پھیلایا جا رہا ہے اور اس گند کے برے اثرات اس نسل کو کہاں لے جا رہے ہیں۔ میرا ان سے یہ پہلا سوال تھا۔ شامی صاحب یہ بتائیں کہ آج صحافت کے رنگ بدلتے دور یعنی پرنٹ سے الیکٹرانک سے سوشل اور اب ڈیجیٹل میڈیا کے اندر جو بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں خاص کر سوشل میڈیا کو تو گٹر میڈیا تک کا نام دے دیا گیا اور یقینا ابھی تک وہ میچور میڈیا نہیں بن سکا۔ آپ اس کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟میرے سوال کے جواب میں شامی صاحب بولے… (جاری ہے)
مجیب الرحمان شامی… اور سوشل میڈیا (پہلا حصہ)
09:53 AM, 20 Jun, 2025