کشمیر میں ابھرتی سیاسی قوت

09:49 AM, 21 Jul, 2026

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے روایتی جماعتوں، بااثر خاندانوں، برادریوں اور شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ہر انتخاب میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتی ہیں اور اقتدار کی دوڑ زیادہ تر انہی کے درمیان محدود رہتی ہے۔ تاہم موجودہ انتخابی منظرنامہ اس اعتبار سے مختلف دکھائی دیتا ہے کہ ایک نئی سیاسی قوت، استحکام پاکستان پارٹی، خود کو ایک متبادل کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ وہ اکثریت حاصل کر لے گی لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نئی بحث، نئی حرکیات اور ایک نیا انتخابی زاویہ ضرور پیدا کر دیا ہے۔ ہر جمہوری معاشرے کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ ووٹر کے پاس صرف دو یا تین روایتی انتخاب نہ ہوں بلکہ اسے نئے سیاسی متبادل بھی میسر آئیں۔ گزشتہ کئی برس سے آزاد کشمیر کی سیاست میں یہی سوال زیر بحث تھا کہ کیا عوام روایتی جماعتوں سے ہٹ کر کسی نئی قوت کو آزمانا چاہیں گے؟ استحکام پاکستان پارٹی اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کی سب سے بڑی طاقت اس کی تنظیمی تشکیل اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیات کی شمولیت ہے۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی شمولیت نے نہ صرف پارٹی کو ایک نمایاں سیاسی چہرہ فراہم کیا ہے بلکہ تنظیمی اعتبار سے بھی اسے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ اسی طرح مختلف حلقوں میں مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے امیدواروں کی شمولیت نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ آئی پی پی صرف ایک علامتی جماعت نہیں بلکہ عملی انتخابی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔
پارٹی کے مرکزی صدر عبدالعلیم خان نے نسبتاً کم عرصے میں جس انداز سے تنظیم کو فعال بنانے کی کوشش کی ہے وہ سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کا اندازِ سیاست روایتی نعروں سے زیادہ تنظیم، رابطہ اور امیدواروں کے انتخاب پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی پی پی نے امیدواروں کے انتخاب میں مقامی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس انتخابی مہم میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود اور ان کی پوری ٹیم بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امیدواروں کے انٹرویوز، انتخابی حکمت عملی، تنظیمی رابطوں، انتخابی دفاتر کے قیام اور مختلف علاقوں میں کارکنوں کو متحرک رکھنے کے حوالے سے ان کی کوششیں نمایاں رہی ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی اصل طاقت صرف اس کا قائد نہیں بلکہ اس کی منظم ٹیم ہوتی ہے اور آئی پی پی نے اس حوالے سے اپنی موجودگی محسوس کرانے کی کوشش کی ہے۔
اسی طرح مہاجر نشستوں پر پنجاب تنظیم کی سرگرمیوں نے بھی انتخابی ماحول میں نئی جان ڈالی ہے۔ صدر آئی پی پی پنجاب رانا نذیر اور جنرل سیکرٹری محمد شعیب صدیقی پنجاب سمیت پوری تنظیمی ٹیم نے مہاجر کشمیری ووٹروں تک رسائی، انتخابی اجتماعات، رابطہ مہم اور کارکنوں کی تنظیم نو میں بھرپور محنت کا علم بلند کر رکھا ہے۔ مہاجر نشستیں ہمیشہ آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں اس لیے ان نشستوں پر مو¿ثر مہم کسی بھی جماعت کے لیے سیاسی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انتخابی سیاست میں امیدواروں کا انتخاب نصف کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی جماعت کے پاس مضبوط امیدوار نہ ہوں تو بہترین منشور بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ اس اعتبار سے آئی پی پی نے متعدد حلقوں میں ایسے امیدوار میدان میں اتارے ہیں جو اپنی ذاتی ساکھ، سماجی خدمات اور مقامی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقوں میں استحکام پاکستان پارٹی کو فتح یاب اور بعض حلقوںمیں سخت مقابلے کی جماعت سمجھا جا رہا ہے۔
ایک اور اہم پہلو جس نے انتخابی فضا کو متاثر کیا، وہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور موجودہ صدر آئی پی پی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس پر ہونے والا حملہ ہے۔ سب سے پہلے تو اس حملے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں کہ سیاست میں تشدد کا عناصر آمریت کی راہ ہموار کرتا ہے۔ شہید ہونے والے کارکن کیلئے مغفرت کی بہت سے سی دعائیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے میں آج بھی اللہ کے حضور آنسوو¿ں کا ہدیہ لیے کھڑا ہوں۔ امید ہے کہ مجرم جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ اگرچہ کسی بھی حملے یا تشدد کی سیاست کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی تاہم انتخابی نفسیات میں ایسے واقعات بعض اوقات متاثرہ فریق کے حق میں ہمدردی کی لہر پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ اس واقعے کا ووٹ پر کس حد تک اثر پڑتا ہے لیکن اسے انتخابی ماحول کے ایک اہم عنصر کے طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں برادری، مقامی اثر و رسوخ اور ذاتی تعلقات ہمیشہ اہم رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ نوجوان ووٹر اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والے افراد بھی خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نئی نسل عموماً ایسے سیاسی متبادل تلاش کرتی ہے جو روایتی تقسیم سے ہٹ کر کوئی نئی امید پیش کرے۔ آئی پی پی نے اپنی انتخابی مہم میں اسی پہلو کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے اورآئی پی پی کے منشور کا بڑا حصہ نوجوانوں کے مستقبل سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف آزاد کشمیر کی مضبوط اور جڑیں رکھنے والی جماعتیں ہیں لیکن تا دمِ تحریک انصاف اپنے انتخابی بائیکاٹ پر قائم ہے لیکن جیل میں موجود تحریک انصاف کے قائدین اس بائیکاٹ کے مخالف ہیں۔ پہلے سے موجود سیاسی جماعتوںکی تنظیمیں، ووٹ بینک اور سیاسی تجربہ کسی بھی نئی جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر پاتی اور مخلوط حکومت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں درمیانے حجم کی جماعتیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ انتخابات کا حتمی فیصلہ بہرحال عوام نے کرنا ہے۔ جلسوں کی رونق، سیاسی دعوے، انتخابی تجزیے اور میڈیا کی پیش گوئیاں اپنی جگہ لیکن بیلٹ بکس ہی اصل فیصلہ سناتے ہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی نے آزاد کشمیر کے سیاسی افق پر اپنی موجودگی درج کرا دی ہے اور اسے نظرانداز کرنا اب آسان نہیں رہا۔ اگر آئی پی پی اپنی تنظیم کو برقرار رکھنے، عوامی رابطے کو مزید مضبوط بنانے اور انتخابی نتائج کے بعد بھی مسلسل سیاسی سرگرمی جاری رکھنے میں کامیاب رہی تو ممکن ہے کہ موجودہ چھوٹی کامیابی آنے والے برسوں میں آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک مستقل اور مو¿ثر قوت کے طور پر اپنا مقام بنا لے۔ یہی کسی بھی نئی سیاسی جماعت کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ وہ محض انتخاب لڑنے تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی متبادل بن کر ابھرے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتخابی منظرنامے میں استحکام پاکستان پارٹی کو ایک ”ابھرتی ہوئی سیاسی قوت“ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں