پاکستان اور کسی حد تک قطر کی پُر خلوص کوششوں، لگا تار رابطوں اور مسلسل بھاگ دوڑ کے نتیجے میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پُزشکیان کے ساتھ پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے بطورِ ثالث دستخط کیے تھے، کو امریکہ اور ایران کی طرف سے قصہ پارینہ بنا دیا گیا ہے۔ اس پر سوائے افسوس اور دُکھ کے اظہار کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ یہ فریقین یعنی امریکہ اور ایران کے ناشکرا پن، ضد، ہٹ دھرمی اور بدنیتی پر مبنی اندازِ فکر و عمل کا نتیجہ ہے کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت کے نکات کو سامنے رکھتے ہوئے باہم مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھا کر پائیدار اور دیر پا امن اور مفاہمت کا راستہ تلاش کرتے لیکن انہوں نے اس کی بجائے باہم سرپرِ پیکار ہونے کو ترجیح دی۔ کوئی مانے نہ مانے، ایران جس طرح خلیجی ریاستوں کو امریکی اڈوں کی موجودگی کی آڑ میں نشانہ بنا رہا ہے اس سے خطے میں جہاں جنگ کے پھیلنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں وہاں انجامِ کار گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔ خلیج کی ریاستیں اگر کمزور ہوتی ہیں یا اپنی حفاظت کے لیے امریکہ پر اور زیادہ انحصار کرتی ہیں یا ایران کو اپنے وجود کے لیے مستقل خطرہ سمجھتے ہوئے حفظ ماتقدم یا آخری چارہ کار کے طور پر اسرائیل کے ساتھ دستِ تعاون بڑھاتی ہیں جس کے امکانات موجود ہیں تو پھر اس سے یقینا گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل کا راستہ کھلتا ہے۔
امریکہ اور ایران آپس میں لڑ رہے ہیں، پچھلے آٹھ نو دنوں میں ایران کا کتنا نقصان ہوا ہے اور اُس نے اپنے میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکہ یا اُس کے حلیف خلیجی ممالک کویت، بحرین، قطر اور اس کے ساتھ اُردن اور شام میں فوجی تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کی تفصیل دہرانے کی بجائے اس تاثر جس کا اظہار پاکستان میں عوامی سطح پر ہوتا رہا ہے اوراب ریاستی سطح پر بھی سامنے آ چکا ہے کہ ایران بالخصوص وہاں کی مذہبی قیادت جس میں پاسدارانِ انقلاب پیش پیش ہیں نے مفاہمت کے لئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور بے پناہ بھاگ دوڑ کی وہ قدر نہیں کی جو انہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ہماری اعلیٰ ترین سیاسی اور عسکری قیادت ایران کے ساتھ مسلسل رابطوں میں رہی۔ ہمارے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی چھ بار ایران کے دورے پر گئے اور وہاں اعلیٰ قیادت سے اُن کی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ چیف آف آرمی و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی کم از کم دو بار ایران کا دورہ کیا۔ اسی طرح ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پاکستان کے دورے پر آئے۔ اُن کے علاوہ بھی ایرانی قیادت سے اعلیٰ ترین سطح پر ٹیلی فون پر بھی رابطے برقرار رہے۔ اس دوران معاملات و مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لئے ہماری طرف سے اُن کی منت سماجت سے لے کر انہیں اُونچ نیچ سمجھانے اور پاکستان کی نازک پوزیشن کا احساس دلانے کا اظہار بھی ہوتا رہا۔ ان ساری باتوں کے باوجود ایرانیوں کی طرف سے بعض اوقات ایسے رویے سامنے آتے رہے جیسے اُن کے نزدیک ہماری باتوں، وضاحتوں، احساسات اور تحفظات کی کوئی اہمیت نہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور اس کے بعد فریقین کے درمیان جنگ کا سلسلہ چلنا شروع ہوا تو پاکستان سمیت متعدد ممالک کا خیال تھا کہ اس کے نتیجے میں جہاں ایران میں زیادہ تباہی پھیلے گی وہاں خطے کے ممالک میں بھی جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔ اس صورتحال کا ادراک اور احساس کرتے ہوئے پاکستان نے خلوصِ دل سے اور ترکیہ، قطر اور مصر جیسے ممالک کے تعاون سے یہ کوششیں شروع کیں کہ کسی طرح امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی ہو اور اُس کے بعد اُن کے درمیان امن کے قیام اور باہمی تنازعات کو ختم کرنے کے لئے کوئی مستقل معاہدہ بھی طے پا جائے۔ چودہ نکات پر مبنی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت تھی لیکن ایران نے اسلام آباد میں آ کر اس پر دستخط کرنے کی بجائے اس پر آن لائن یا ڈیجیٹل دستخط کرنے کو ترجیح دی اور پھر ابتدائی مذاکرات کے لئے بھی اسلام آباد کے بجائے سویٹزر لینڈ کے ایک سیاحتی مقام کا چناو¿ کیا تو گویا یہ ساری باتیں یا واقعات پاکستان کی اہمیت اور قدر و منزلت کو کم کرنے کی بالواسطہ کوششیں ہی تھیں۔
دیکھا جائے تو پاکستان جو نیک نیتی سے چاہتا تھا اور اب بھی چاہتا ہے کہ ایران اور خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب کے درمیان جنگ کی صورت نہ بننے پائے کہ پاکستان ایک دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کا اتحادی ہے اور سعودی عرب پر کسی بیرونی حملے کی صورت میں اُس کی مدد کرنے کا جہاں اُس سے وعدہ کر رکھا ہے وہاں اُس نے سعودی عرب میں پاکستانی مسلح افواج کے دستے اور J-17 تھنڈر طیاروں کا ایک سکوارڈن بھی تعینات کر رکھا ہے۔ گویا سعودی عرب کے دفاع کی ذمہ داریوں میں پاکستان عملی طور پر شریک ہے۔ صورتحال کے اس تناظر میں ہونا تو یہ چاہیے کہ ایران پاکستان کی اس نازک پوزیشن کا احساس کرتے ہوئے پاکستان کو کسی آزمائش میں ڈالنے سے گریز کرے لیکن یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ایران کا اب تک جو رویہ اور طریقہ کار ہے وہ اس کے منافی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حکومتی یا دفاعی اداروں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی طرف سے ایران کو یہ وارننگ دی جا چکی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے لئے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے اور ایران بذاتِ خود یا شمالی یمن میں اپنے پراکسیز ”حو ثیوں“ کے ذریعے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات یا دوسرے مقامات کو نشانہ بناتا ہے تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر اس کا جواب دینے کے لئے مجبور ہو گا۔
اچھا ہوا کہ ”حوثیوں“ نے جنہیں چند دن قبل ایران نے کھلم کھلا یہ پیغام دیا کہ وہ یمن کے جنوب مشرق میں ”باب المندب“ کے تنگ سمندری راستے کو جو بحیرہ قلزم کو بحیرہ عرب سے ملاتا ہے اور اُس کے قریب ہی سعودی عرب کی جنوبی بندرگاہ ینبو ع (ینبع) موجود ہے، وہاں تیل کی تنصیبات اور باب المندب سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔ ”حوثی“ اگر ایران کے اشارے پر ایسا کر گزرتے تو انہیں پھر اس ایسا خمیازہ بھگتنا پڑتا جو ہمیشہ یاد رہتا اس لیے کہ سعودی عرب کے جنوب میں بھی یمن کی سرحد پر پاکستانی فوجی دستے تعینات ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت ۔۔۔
09:54 AM, 21 Jul, 2026