سپین فٹبال کا نیا حکمران

09:48 AM, 21 Jul, 2026

فیفا ورلڈ کپ تقریباً ایک ماہ اور ایک ہفتہ اپنی رنگینیاں اور رونقیں بکھیر کر اختتام کو پہنچ گیا۔ سپین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ٹورنامنٹ کی سب سے فیورٹ ٹیم ارجنٹائن کو شکست سے دوچار کر کے آئندہ چار سال کے لیے فٹبال کی دنیا پر حکمرانی کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔
سپین اور ارجنٹائن کے درمیان فائنل دیکھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں لگا کہ ارجنٹائن عالمی چیمپئن ہے۔ کھیل کا سارا وقت سپین کی ٹیم کھیل پر حاوی رہی۔ ہسپانوی ٹیم کی مہارت، نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی دیدنی تھی۔ سپین نے نہ کوئی فاو¿ل کیا، نہ کہیں کمزوری دکھائی اور نہ ایک لمحے کے لیے کھیل پر اپنی گرفت کمزور ہونے دی۔ وہی ارجنٹائن جسے انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میچ کے بعد فیورٹ سمجھا جا رہا تھا اور اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے تھے، سپین کے سامنے بالکل بے بس نظر آیا۔ اس قدر بے بس کہ رواں ورلڈ کپ میں مخالف ٹیم کے گول پر ایک بھی حملہ نہ کر پانے کا منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں لگا کہ یہ وہ ٹیم ہے جس میں میسی نام کا ایک سپرسٹار بھی کھیلتا ہے جس کے میدان میں آتے ہی حریف ٹیموں پر دہشت طاری ہو جاتی ہے، جسے دنیا کے بڑے بڑے سپورٹس تجزیہ کار ”گوٹ“ قرار دیتے ہیں اور جو گولڈن بوٹ کی دوڑ میں بھی شامل ہے۔
بلاشبہ میسی بہت شاندار کھلاڑی ہے، اس کے نام پر بہت بڑے بڑے ریکارڈز ہیں اور اسے میدان میں کھیلتے دیکھنا بجائے خود ایک منفرد تجربہ ہے لیکن کھیلوں اور خاص طور پر فٹبال سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ گیارہ ارکان پر مشتمل ٹیم میں ایک شخص کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی چاہے وہ کتنا بڑا سپر سٹار ہی کیوں نہ ہو۔ ٹیم کی کارکردگی میں ٹیم ورک ہی سب سے اہم ہوتا ہے جسے سپین نے اپنے کھیل سے بخوبی ثابت کیا۔ سپین کی ٹیم میں کوئی ایک بھی کھلاڑی میسی جتنا قدآور نہیں تھا، اس کے باوجود سپین اپنے ٹیم ورک کے زور پر آگے بڑھتا رہا اور کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کیا۔ لامین یمال نامی جس نوجوان کھلاڑی کو سپین کے سپرسٹار کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، وہ ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول کر سکا۔
سپین ٹیم ورک پر یقین رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اگر حالیہ ورلڈ کپ کے دوران سپین کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ کسی قابل ذکر کھلاڑی کی ٹیم میں عدم موجودگی کے باوجود اس نے تین ایسی ٹیموں کو شکست دی ہے جو سپر سٹارز پر انحصار کر رہی تھیں۔ ان میں ارجنٹائن کے علاوہ فرانس اور پرتگال کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ان تینوں ٹیموں میں میسی، امباپے اور رونالڈو جیسے نامور کھلاڑی شامل تھے لیکن ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی سپین کے خلاف کوئی گول سکور نہیں کر سکا۔ جبکہ سپین نے کوئی نمایاں کھلاڑی نہ ہونے کے باوجود ان تینوں ٹیموں کے خلاف گول کیے۔
سپین کی یہ خوبی بھی قابل ذکر ہے کہ اس نے پہلے میچ سے فائنل تک اپنا سفر نہایت صاف ستھرے انداز میں آگے بڑھایا۔ سپین نے اس ٹورنامنٹ میں کل آٹھ میچ کھیلے اور لیکن وہ کسی تنازع کی زد میں آئی نہ اس پر کسی قسم کا کوئی الزام لگا۔ فیفا نے نیدرلینڈز کی ٹیم کو فیئر پلے کا ایوارڈ دیا لیکن دیکھا جائے تو اس کی اصل مستحق بھی سپین ہی کی ٹیم تھی۔ اس کے مقابلے میں اگر ارجنٹائن کی کارکردگی دیکھی جائے تو وہ کئی تنازعات کی زد میں رہا۔ اگر فائنل ہی کی بات کر لی جائے تو ارجنٹائن کے کوچ سمیت چار کھلاڑیوں کو خطرناک فاو¿ل کھیلنے پر ییلو کارڈ جبکہ ایک کھلاڑی کو دو بار پیلا کارڈ ملنے پر ریڈکارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں سپین کی طرف سے کسی کھلاڑی نے کوئی فاو¿ل پلے نہیں کیا۔ وہ سب صاف ستھری اور نپی تلی فٹبال کھیلتے رہے۔
ارجنٹائن کے اگر فائنل سے پہلے کھیلے گئے میچوں کا جائزہ لیں تو وہ سب مختلف تنازعات کی زد میں آتے رہے۔ ارجنٹائن پر سب سے پہلا الزام تو یہ لگا کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے کیونکہ وہ غیر ضروری طور پر اس کی حمایت کر رہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ فیفا نے ایسی منصوبہ بندی کی ہے کہ ارجنٹائن کو فائنل تک رسائی کے لیے کسی مضبوط حریف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مختلف میچوں میں ریفریز کا ارجنٹائن کی مخالف ٹیموں کے ساتھ رویہ اور ارجنٹائن کے حق میں نتائج سے بھی ان الزامات کو تقویت ملتی رہی۔ خاص طور پر مصر کے خلاف میچ کے بعد یہ اعتراض بہت شدت کے ساتھ سامنے آیا جبکہ سوئٹزرلینڈ کی ٹیم نے بھی ارجنٹائن سے شکست کے بعد اسی قسم کے تحفظات کا اظہار کیا۔
فیفا کے خلاف اس قسم کی شکایات ہارنے والی دیگر ٹیموں کی طرف سے بھی سامنے آتی رہیں جن میں پرتگال کا کروشیا کے خلاف شکست پر ردعمل یا بوسنیا کے خلاف امریکی کھلاڑی کو ریڈ کارڈ دکھانے کا واقعہ قابل ذکر ہیں جس پر خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر کو ٹیلی فون کر کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔
فیفا کے بارے میں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کسی ٹیم کے ساتھ ملی ہوئی ہے یا کسی ریفری پر بھی کسی ٹیم کو کوئی خاص رعایت دینے کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ریفریز کو اس قدر تیز رفتار کھیل کے دوران فوری طور پر فیصلے کرنا ہوتے ہیں جن میں غلطی کا امکان موجود رہتا ہے تاہم اب تو وی اے آر جیسی ٹیکنالوجی بھی ریفریز کی مدد کے لیے متعارف کرا دی گئی ہے، اس لیے فیفا کو ہر صورت میں شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے اور ایسے فیصلے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جن پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
حالیہ فیفا ورلڈ کپ اپنے تمام تر تنازعات کے باوجود ایک بہت شاندار ایونٹ رہا۔ پوری دنیا سے 48 ملکوں نے حصہ لیا اور 104 میچز کھیلے۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے اس کی مشترکہ میزبانی کی اور پہلے روز سے آخری دن تک لوگوں کی اس میں دلچسپی برقرار رہی۔ اب جبکہ وہ تمام ٹیمیں بھی ہار چکی ہیں جنہیں فیفا یا ریفریز کی حمایت سے جتوانے کے دعوے ہوتے رہے اور آخر میں سپین جیسی بہترین اور غیر متنازع ٹیم ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر پر سجانے میں کامیاب ہوئی جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تو فیفا ورلڈ کپ پر اردو کی یہ ضرب المثل پوری طرح صادق آتی ہے کہ ”انت بھلا سو بھلا“۔

مزیدخبریں