پھیلتی نظر آتی جنگ

09:58 AM, 20 Jul, 2026


موجودہ امریکی صدر پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تو خطے میں خواہ مخواہ کی جنگوں کو بند کرانے کا نعرہ لے کر آئے تھے۔ یہ ان کا وہ چہرہ تھا جو امریکیوں کے ساتھ ساتھ دنیا کو دکھانے کے لئے تھا۔ ان کا حقیقی چہرہ اس وقت دنیا کے سامنے آیا جب انہوں نے سابق صدر اوبامہ کے زمانے میں ایران کے ساتھ کیا گیا۔ نیوکلیئر معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کر دیا اور ایران پر حملے کے منصوبے بنانے لگے۔ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جارحیت مسلط کی منہ کی کھائی اور فقط چند روز میں ایران کو فتح کرنے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ دنیا میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے امریکی بحری بیڑے ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنے تو یہ بحری بیڑا اپنی دم دبا کر نہیں بھاگا بلکہ دو ایٹمی ملکوں کی ہمیشہ سے لہراتی دم ان کی ٹانگوں میں کہیں پھنسی نظر آئی۔ معاملہ یہاں ختم ہو سکتا تھا لیکن ”گریڈی ڈاگ“ کو ایرانی تیل کی خوشبو نے چین نہ لینے دیا حالانکہ ایران کے بہترین دوست چین نے امریکی صدر کو مزید کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ امکان تھا کہ ڈونلڈ اس مشورے پر کان دھرتے لیکن کچھ ممالک نے فرمائش کر دی کہ اس موقع کو نہ گنوایا جائے اور ایران کو مکمل تباہ کر دیا جائے۔ ایک دو ملک تو ایسے تھے جو ایران پر ایٹم بم برستا دیکھنا چاہتے تھے۔ یاد رہے ان ممالک میں اسرائیل کے علاوہ دو ملک تھے جنہوں نے یہ فرمائش کئی مرتبہ دھرائی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر پہلی ناکام مہم جوئی کے بعد سے ایک سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے۔ وہ سوال یہ تھا کہ ایرانی سرنڈر کیوں نہیں کر رہے۔ انہوںنے یہ سوال اپنی کچن کیبنٹ کے وزیروں، مشیروں اور اپنے چہیتے جرنیلوں سے بھی پوچھا لیکن کوئی انہیں تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ کئی ماہ بعد جناب آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر مختلف شہروں میں چار کروڑ افراد کی والہانہ شرکت سے امریکی صدر کے سوال کا جواب تو ان کے سامنے آگیا ہے لیکن اب وہ اسے سمجھنا نہیں چاہتے یا شکست در شکست نے ان کا ذہن اس قدر ماﺅف کر دیا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ کیلئے سیاست سے آﺅٹ ہونے تک کوئی عقل کی بات نہ سمجھ سکیں اور امریکہ امریکیوں یا دنیا میں بسنے والے انسانوں کی بھلائی کیلئے کوئی ڈھنگ کا کام نہ کر سکیں۔ عقل پر پتھر پڑنا اسی کو کہتے ہیں ورنہ ایسے لوگ ہر وقت پتھروں سے بھری بالٹی سر پر اٹھائے کہیں نظر نہیں آتے۔
جنگی نکتہ نظر سے اہم اہداف کونشانہ بنانے کے بعد اور کوئی بڑی کامیابی نہ ملنے کے بعد امریکی صدر کی طرف سے ایران کے سول سٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔ یہ دھمکی یقینا کوئی پاگل ہی دے سکتا تھا پھر اس دھمکی کے بعد اس پر عمل کرتے ہوئے پلوں پر بمباری اور پانی کے ذخائر پر حملے کئے گئے جن کے بعد ایران نے دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا تھا کہ ان حملوں کے بعد وہ بھی ایسے ہی جوابی حملے کرے گا لیکن کسی نے اس بیان کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ جوابی حملوں میں کویت کے پانی صاف کرنے والے پلانٹ اور بجلی پیدا کرنے والے پاور ہاﺅس کو نشانہ بنایا گیا جس سے پہنچنے والے نقصان کے سبب کویت کے بعض شہر مکمل اندھیرے میں ڈوب گئے۔ پانی صاف کرنے والے پلانٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ اب کویت میں زیرو سٹاک سے پینے کاپانی مہیا کیا جا رہا ہے۔ مزید حملوں کے خطرے اور پانی کی قلت کے خطرے کو بھانپتے ہوئے آج کویت میں وہی منظر ہے جو عرصہ دراز قبل عراق کے کویت پر حملے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد کویت سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بیشتر کا رخ سعودی عرب کی طرف ہے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جو امریکہ یا یورپی ممالک کی طرف نکل رہے ہیں۔ اس افراتفری کے بعد کویت میں زندگی رک جائے گی۔ کویت میں امریکی فوجی اڈے پر تسلسل سے ایرانی میزائل گر رہے ہیں اور تباہی پھیلا رہے ہیں۔ انہی ایام میں ایسے امریکی اڈے بھی تباہ کر دیئے گئے جہاں اس سے قبل کبھی کسی نے حملہ نہیں کیا تھا۔ یہ اڈے عراق کے شہر بصرہ اور اربیل کے ہیں جہاں ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے تباہی مچا دی اور بڑی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اپنی پسند کا ایجنٹ حکومت کا سربراہ بنانے کے بعد امریکہ کا خیال تھا کہ اب شام مکمل طورپر اس کے قبضے میں ہے اور یہاں سے امریکہ یا امریکی فوج کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی لیکن شام کے اس بڑے امریکی اڈے پر برسنے والے ڈرونز اور میزائلوں نے امریکی سپاہ کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ یہاں سے بچ رہتے فوجیوں اور اہم سازو سامان کو جنگی بحری جہازوں پر لاد کر انہیں قدرے فاصلے پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
عراق اور شام کے امریکی فوجی اڈوں کی تباہی جیسا منظر بحرین میں نظر آتا ہے جہاں ایران کے ٹوٹے ہوئے پلوں کا حساب برابر کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب اور بحرین ایک پل کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس پل کو تباہ کر کے دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت کا آسان راستہ بند ہو گیا ہے۔ اس پل کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ کھڑا کرنے کے انتظامات شروع کئے جا رہے ہیں لیکن ایسا ہی ایک اور حملہ ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟ امریکہ کی سخت سنسرشپ کے سبب امریکہ کو پہنچنے والے نقصانات کو بہت کم بتایا جا رہا ہے لیکن سیٹلائٹ سے جاری کردہ تصاویر کے علاوہ بی بی سی جیسے ادارے کی طرف سے مہیا کی جانے والی معلومات کے علاوہ امریکہ کے اندر بیٹھے دانشور اور دفاعی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ ایران نے مختلف ممالک میں امریکی اڈوں سفارتخانوں اور اسلحہ کے ذخیروں کو نہایت درستگی سے نشانہ بنایا ہے اور 228سے زیادہ اہمیت کے حامل اڈے مکمل طور پر تباہ کر دیئے ہیں۔ امریکہ نے ایران کی طرف سے تازہ ترین جملوں سے ہونے والی تباہی سے قبل عندیہ دیا تھا کہ وہ اسی سال دسمبر تک عراق سے اپنی فوجیں نکال لے گا لیکن اب وہ ماہ ستمبر تک یہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر نکلنے کا اعلان کر چکا ہے۔ کچھ ایسا ہی فیصلہ بحرین کے حوالے سے سامنے آسکتا ہے جبکہ یو اے ای کی بعض ریاستوں کے حوالے سے کسی حیران کن فیصلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہاں بھی پانی و بجلی مہیا کرنے والے پلانٹ ایرانی بیلاسٹک میزائلوں کے نشانے پر آچکے ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ کا ایسے میں آنے والا بیان اہمیت کا حامل ہے۔ وہ کہتے ہیں ہماری اپنے عرب بھائیوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن وہ بھی اپنے ہوائی اڈے ہم پر حملوں کیلئے امریکہ کو پیش نہ کریں بصورت دیگر ہم اپنے دفاع میں ایسے حملے جاری رکھیں گے۔ جنگ سمیٹنے کی بجائے پھیلتی نظر آتی ہے۔

مزیدخبریں