سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھارت نے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے بلوچستان کو ہدف بنایا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، بلوچستان میں موجود قدرتی وسائل کی کثرت اور دوسری، اس کی غیر معمولی جغرافیائی اہمیت۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کی سرحدیں ایک جانب ایران اور دوسری جانب افغانستان سے ملتی ہیں، اسی لیے اسے سونے کی چڑیا بھی کہا جاتا ہے۔ بھارت نے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے لیے بلوچستان کے الحاق سے متعلق من گھڑت کہانیاں گھڑیں۔ بلوچ عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ صوبے کے وسائل پر صرف بلوچوں کا حق ہے، مگر ان سے یہ حق چھینا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ”بلوچ آزادی“کے نام نہاد نعرے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دئیے گئے، دہشت گرد تنظیمیں تشکیل دی گئیں اور انہیں اسلحہ، تربیت اور فنڈنگ فراہم کی گئی۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس کی ایک واضح مثال ہے۔ بلوچستان میں جیسے ہی سی پیک اور ریکوڈک جیسے قومی اہمیت کے حامل منصوبوں پر کام شروع ہوا، دہشت گردی میں اچانک تیزی آ گئی۔ بھارت نے اپنی پروردہ تنظیموں کے ذریعے ان منصوبوں کو نشانہ بنایا اور چینی و پاکستانی انجینئرز پر حملے کرائے۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد صرف ایک تھا، بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل کو روکنا، کیونکہ بلوچستان کی ترقی سے ان کا ”محرومی“ اور ”پسماندگی“ کا پراپیگنڈا زمین بوس ہو جائے گا۔ یہی وہ چورن ہے جسے بیچ کر وہ بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسا رہے ہیںاور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔
یکم مئی کو آواران مالار میں تعمیراتی منصوبے کو نقصان پہنچایا، 3 مئی کو دشت بلنگور کے علاقے سورک میں مقامی ٹھیکیدار کے ٹریکٹروں کے ٹائر برسٹ کر دئیے جبکہ 4 مئی کو خاران کے زرین جنگل میں تعمیراتی مشینری کو نذر آتش کیا، 5 مئی کو مسلح دہشت گردوں نے گوادر کے علاقے ریکانی میں زونگ موبائل ٹاور کو نذر آتش کیا، 6 مئی کو پروم کے علاقے جائین میں مقامی تاجر کا اشیائے خورونوش سے بھرے ٹرک کو نقصان پہنچایا، 23 مئی کو ساجدی بازار کولواہ میں مواصلاتی نظام پر حملہ کر کے مشینری کو نقصان پہنچایا، 31 مئی کو بی ایل ایف کے دہشتگردوں نے کولواہ کے علاقے شاہو باتل میں مواصلاتی نظام پر حملہ کر کے تمام مشینری کو نذر آتش کر دیا، 9 جون کو جیونی پانوان کے کوہ سربازار میں موبائل ٹاور کو آگ لگا دی، 15جون کو خضدار کے علاقے وڈھ بازار میں صادق ہوٹل کے قریب یوفون ٹاور پر حملہ کر کے مشینری نذر آتش کر دی، 17 جون کو خضدار کے علاقے وڈھ میں حبیب ہوٹل کے قریب مقامی ٹھیکیدار کے ٹرک پر حملہ کر کے انجن اور ٹائروں کو نقصان پہنچایا، 20 جون کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں بلوچستان ہوٹل کے قریب مقامی ٹھیکیدار کے جنریٹر ٹرکوں پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا، 22 جون کو خضدار کے علاقے وڈھ ڈھکلو میں مقامی ٹھیکیدار کی دو گاڑیوں پر حملہ کر کے سامان کو نقصان پہنچایا، 26 جون کو بی ایل اے نے مستونگ میں تین مختلف مقامات پر مقامی ٹھیکیدار کی گاڑیوں پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا، 28 جون کو مستونگ میں تعمیراتی گاڑیوں پر حملہ کر کے نذر آتش کر دیا گیا، 6 ستمبر کو بی ایل ایف نے آواران کے علاقے پیر اندر، جھکرو میں تعمیراتی مشینری کو تباہ کیا، 7 ستمبر کو بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے سوراب میں مقامی روڈ کی تعمیراتی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، 9 ستمبر کو آواران تابیلہ شاہراہ ”انگریزی چڑھائی“ کے مقام پر تعمیراتی مشینری کو نذر آتش کیا، 21 ستمبر کو ڈھاڈر میں مقامی گیس پائپ لائن کو دھماکے میں اڑا دیا گیا، 27 ستمبر کو قلات کے علاقے خزینئی میں مقامی ٹھیکیدار کی تعمیراتی گاڑی پر حملہ کر کے نقصان پہنچایا، 17 اکتوبر کو بی ایل ایف نے مستونگ کھڈ کوچہ سول ٹھیکیدار کے ٹرکوں کو نذر آتش کیا، 21 اکتوبر کو بی این اے نے تربت سے تمپ جاتے ہوئے مقامی روڈ کے ٹھیکیدار کی گاڑی پر فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا، 31 اکتوبر کو بی ایل ایف نے کوہلو کے علاقے لاسئے زئی میںکے قریب ببرتاک کے مقام پر سول ٹھیکیدار کی کمپنی پر حملہ کیا، 3 دسمبر کو بی ایل اے نے پنجگور میں مقامی تاجر کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا، اور 3 دسمبر کو بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) نے گورکوپ میں مقامی روڈ کی تعمیر پر مامور سکیورٹی گارڈ پر حملہ کیا، 23 دسمبر کو بی ایل ایف نے کونال کے علاقے کلیٹری میں سول ٹھیکیدار کی تعمیراتی مشینری کو نقصان پہنچایا۔ گذشتہ سال 2025 میں مجموعی طور پر 35 مقامی ترقیاتی منصوبوں ان پر کام کرنے والے مزدوروں ،مشینری اور مواصلاتی نظام پر حملے کیے گئے۔ (جاری ہے)
فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر حملے
09:57 AM, 20 Jul, 2026