پاکستان کے خلاف نئی ’گریٹ گیم‘ اور اس کے محرکات

09:57 AM, 20 Jul, 2026

پاکستان کے تمام دشمن ”گریٹ گیم“ کی ہر صورت کامیابی کیلئے متحد ہو چکے ہیں۔ یقینا دہشت گردی کی یہ نئی اور شدید لہر اسی کا تسلسل ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار دہشت گرد گروپوں کے بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کا ہے۔ نیا اتحاد تشکیل دیا جا چکا ہے۔ اور اسے براس (BRAS) اتحاد کا نام دیا گیا ہے۔ کالعدم تنظیموں جیسے بی ایل ایل اے، بلوچ سٹینڈرڈ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) نے مل کر ایک چھتری تلے ’براس‘ اتحاد قائم کیا ہے۔ اس اتحاد کے تحت یہ گروپ فنڈز، انٹیلیجنس اور مل کر دہشت گردوں کی کمک تشکیل دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیک وقت کئی اضلاع میں حملے کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کا آپریشنل تعاون مضبوط ہوا ہے۔ نظریاتی و مذہبی اختلافات قوم پرست نظریہ رکھنے کے باوجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور بلوچ دہشت گرد گروپوں کے درمیان ایک ’ٹیکٹیکل اور کاروباری اتحاد‘ قائم ہو چکا ہے۔ دونوں کا مشترکہ ہدف ریاستِ پاکستان اور سکیورٹی ادارے ہیں۔ ٹی ٹی پی بلوچ عسکریت پسندوں کو خودکش بمبار تیار کرنے کی مہارت سکھا رہی ہے اور اس حوالے سے مکمل نیٹ ورکنگ فراہم کر رہی ہے۔ ٹی ٹی پی نے اپنی حکمتِ عملی بدلتے ہوئے بلوچستان کے مقامی لوگوں کو اپنے بیانیے کی طرف راغب کرنے اور بلوچ عسکریت پسندوں کے چھوٹے گروہوں کو اپنے ساتھ ضم کرنے کی مہم تیز کی ہے۔ جب مقصد پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا ہے تو یقینا تمام اختلافات بھلا کر یہ دہشتگرد اکٹھے ہوئے ہیں اور بھارت کی مالی و عسکری معاونت کے ساتھ افغانستان کو اپنا مرکز بناکر پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی کھیل نہیں ہے بلکہ پاکستان کے خلاف اس ”گریٹ گیم“ کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کی ترقی کو ہر صورت روکنا مقصود ہے۔ اس سارے کھیل کا ایک پس منظر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں طاقت کا 
توازن بدلتا ہے، جغرافیائی لحاظ سے اہم ممالک عالمی طاقتوں کی کھینچا تانی کا مرکز بن جاتے ہیں۔ انیسویں صدی میں وسطی ایشیا پر قبضے کے لیے برطانیہ اور روس کے درمیان ہونے والی رقابت کو ’گریٹ گیم‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اب ایک نئی گریٹ گیم کا آغاز ہو چکا ہے، اور اس مرتبہ اس کا مرکزی میدان پاکستان اور اس کے ارد گرد کا خطہ ہے۔ پاکستان کے خلاف اس نئی گریٹ گیم کے پیچھے چند گہرے محرکات اور عالمی طاقتوں کے سٹریٹجک مفادات چھپے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم ہونے سے روکنا ہے۔ سی پیک اور گوادر پورٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس گریٹ گیم کا سب سے بڑا محرک پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔ چین گوادر پورٹ کے ذریعے دنیا کی معیشت پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے جو کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں بشمول بھارت کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے گوادر پورٹ کی سٹریٹجک پوزیشن عالمی سمندری تجارتی راستوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کو ناکام بنانا اور چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا اس کھیل کا بنیادی ہدف ہے۔ اب روایتی جنگ و جدل کی جگہ ہائبرڈ وارفیئر اور اندرونی انتشار نے لے لی ہے۔ دشمن کو اندرونی چوٹوں کے زریعے زخمی کرنا مقصود ہوتا ہے چنانچہ جدید دور میں اب روایتی جنگیں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ’ہائبرڈ وارفیئر‘ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ 2013 سے پوری طاقت سے پاکستان کے خلاف اس ہتھیار کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ پراجیکٹ عمران خان اس کھیل کی اہم اکائی تھی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں میں مایوسی پھیلانا، ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا، اور لسانی و فرقہ وارانہ نفرتوں کو ہوا دینا اس گریٹ گیم کا اہم حصہ ہے۔ مقصد صرف ایک ہے کہ پاکستان کو اندرونی طور پر اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ بیرونی محاذ پر کھڑا نہ ہو سکے۔ بلوچستان میں بدامنی کا فروغ اس کڑی کا اہم ترین حصہ ہے بلوچستان اپنی جغرافیائی پوزیشن اور قدرتی وسائل کی وجہ سے اس گریٹ گیم کا سب سے حساس میدان بن چکا ہے۔ بیرونی قوتیں اندرونی شر پسند عناصر کو مالی اور عسکری تعاون فراہم کر کے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب رکھتی ہیں۔ اس سازش کا مقصد گوادر کو غیر محفوظ بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور بھگانا ہے۔ دوسری طرف پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان کا خطے میں واحد اسلامی ایٹمی ملک ہونا بھی کچھ عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور اسے مستقل دفاعی پوزیشن میں رکھنے کے لیے معاشی پابندیوں، ایف اے ٹی ایف جیسے معاملات اور سیاسی عدم استحکام کا دباو¿ مستقل برقرار رکھا جانا مقصود ہے تاکہ پاکستان سر ہی نہ اٹھا سکے۔ پاکستان کے پاس ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ بھارت مغربی بارڈر پر طالبان رجیم کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے میں ملوث ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس حوالے سے اہم ترین ثبوت ہے ۔ ٹی ٹی پی کے بیانات اور گرفتار دہشت گردوں کے بیانات سب واضح کر رہے ہیں کہ بھارت براہِ راست اور اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ 
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا یوم آزادی پر خطاب اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بلوچستان میں بھارت کس حد تک مداخلت کر رہا ہے۔ اب میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ بی ایل اے بلوچستان نہیں بھارتی لبریشن آرمی ہے جو بلوچستان میں بدامنی پیدا کر کے دراصل پاکستان کے خلاف اس گریٹ گیم میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ سی پیک اور گوادر پورٹ جیسے عظیم پراجیکٹس کو ناکام بنایا جا سکے۔ یہ بہت نازک وقت ہے۔ بالخصوص نوجوانوں کو ففتھ جنریشن وار اور اس کے اثر سے بچا کر حقائق سامنے رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے خلاف جاری یہ گریٹ گیم انتہائی خطرناک اور کثیر الجہتی ہے۔ اس کا مقابلہ روایتی ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ معاشی خود انحصاری، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔ جب تک پاکستان اندرونی طور پر مضبوط نہیں ہو گا، بیرونی سازشوں کے راستے بند کرنا ناممکن رہے گا۔ 

مزیدخبریں