(گزشتہ سے پیوستہ)
ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خالی جگہ پر عمارت تعمیر کر دی جائے۔ کبھی کبھی کسی جگہ کو خالی چھوڑ دینا بھی دانش مندی ہوتی ہے کیونکہ قدرتی حسن کی اپنی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ایک درخت جو سو سال میں تیار ہوتا ہے، چند گھنٹوں میں کاٹا جا سکتا ہے مگر اس کے سائے، اس کے ماحول اور اس کے وجود کی کمی پوری کرنے میں نسلیں لگ جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری منصوبہ بندی میں اکثر کتنا بنایا جا سکتا ہے؟کا سوال تو شامل ہوتا ہے، مگر کتنا برداشت کیا جا سکتا ہے؟ کا سوال غائب ہوتا ہے۔ ہر علاقے کی اپنی ایک برداشت کی حد ہوتی ہے۔ ایک پہاڑی شہر کتنی گاڑیاں برداشت کر سکتا ہے؟ ایک وادی میں کتنی عمارتیں مناسب ہیں؟ ایک جنگل کتنے انسانی دباﺅ کو سہ سکتا ہے؟ ایک چشمہ کتنی آبادی کو پانی فراہم کر سکتا ہے؟ اگر ان سوالات کے جواب تلاش کیے بغیر تعمیرات جاری رہیں تو پھر مسائل کا پیدا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔قدرت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس کی تباہی فوری طور پر ہمیشہ نظر نہیں آتی۔ ایک درخت کاٹنے سے شاید اسی لمحے کوئی بحران پیدا نہ ہو، ایک عمارت بنانے سے شاید اسی دن کوئی نقصان محسوس نہ ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے زخم بڑے مسائل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔پہاڑوں میں پانی کا نظام، جنگلات، مٹی اور موسم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ایک عنصر متاثر ہوتا ہے تو پورا نظام متاثر ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات صرف خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی تحفظ کا مسئلہ بھی ہے۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ سیاحتی علاقوں میں بڑھتی تعمیرات نے مقامی آبادی کے لیے بھی کئی نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ جہاں کبھی زمین مقامی لوگوں کی زندگی کا حصہ تھی، وہاں اب زمین کی بڑھتی قیمتوں نے
کئی سماجی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ پانی، صفائی، ٹریفک اور روزمرہ سہولیات پر دبا بڑھا ہے۔ سیاحت سے فائدہ ضرور پہنچا مگر اس فائدے کی تقسیم ہمیشہ متوازن نہیں رہی۔ اصل کامیاب سیاحت وہ ہے جس میں مقامی لوگ صرف تماشائی نہ ہوں بلکہ اس ترقی کے حقیقی شریک ہوں۔ یہ وقت ہے کہ ہم سیاحت کو صرف کاروبار نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری سمجھیں۔ ہمارے پہاڑ، جنگلات اور دریا ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہماری امانت ہیں۔ اور امانت کا حسن یہی ہے کہ اسے استعمال بھی کیا جائے اور محفوظ بھی رکھا جائے۔
لیکن سوال پھر وہی ہے...کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو وہی پاکستان دکھا سکیں گے جو ہمیں قدرت نے دیا تھا؟یا ہم انہیں صرف پرانی تصویروں میں وہ وادیاں دکھائیں گے جہاں کبھی درخت ہوا سے باتیں کرتے تھے، ندیاں گیت گاتی تھیں اور پہاڑ خاموشی میں بھی زندہ محسوس ہوتے تھے؟قوموں کی پہچان صرف ان کی بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور جدید منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی قدرتی امانتوں کے ساتھ کتنا انصاف کرتی ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے یہ راز بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ قدرت کو شکست دے کر کوئی قوم حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ جو معاشرہ اپنے جنگلات، دریاں اور پہاڑوں کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ آنے والے وقت کے چیلنجز کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ہمیں بھی اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے سیاحتی مقامات کو صرف کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہتے ہے یا انہیں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ قدرتی ورثہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیاحت کی پالیسی کو نئے زاویے سے دیکھا جائے۔ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس میں تعمیرات ہوں، مگر فطرت کی قیمت پر نہ ہوں۔ ہوٹل بنیں، مگر جنگلات کی قربانی دے کر نہیں۔ سڑکیں تعمیر ہوں، مگر پہاڑوں کے قدرتی توازن کو نقصان پہنچائے بغیر۔ترقی اور تحفظ کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھنا ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ اگر ماحول محفوظ ہوگا تو سیاحت محفوظ ہوگی اور اگر سیاحت محفوظ ہوگی تو معیشت بھی مضبوط ہوگی۔پہاڑی علاقوں کے لیے سب سے پہلے واضح حدود کا تعین ضروری ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قوانین موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنائے۔ غیر قانونی تعمیرات، جنگلات کے نقصان اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف یکساں کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون کی طاقت صرف کتابوں میں نہیں بلکہ زمین پر نظر آنی چاہیے۔اسی طرح سیاحتی منصوبوں میں ماہرین ماحولیات، مقامی افراد اور شہری منصوبہ سازوں کی رائے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ فیصلے صرف دفاتر میں بیٹھ کر نہیں بلکہ زمین کی حقیقت کو سمجھ کر کیے جانے چاہئیں کیونکہ پہاڑوں کے مسائل فائلوں میں نہیں، پہاڑوں کے درمیان کھڑے ہو کر سمجھے جا سکتے ہیں۔ سرمایہ کاری یقینا ضروری ہے مگر ایسی سرمایہ کاری جو قدرت کو نقصان پہنچائے، طویل مدت میں خود کاروبار کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ آج دنیا کے سیاح ماحول دوست مقامات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ ایسی جگہیں تلاش کرتے ہیں جہاں قدرت اپنی اصل حالت میں موجود ہو۔
پاکستان کے پاس قدرتی حسن کی کمی نہیں، کمی صرف اس شعور کی ہے کہ اس حسن کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو ایسا پاکستان دینا ہے جہاں وہ پہاڑوں کی تصاویر کتابوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں دیکھ سکیں۔ جہاں جنگلات صرف ماضی کی کہانیاں نہ ہوں بلکہ زندہ حقیقت ہوں۔ جہاں ندیاں صرف نقشوں پر نہ ہوں بلکہ اپنی روانی کے ساتھ بہتی نظر آئیں کیونکہ قدرت ہمیں بار بار ایک موقع دیتی ہے مگر ہمیشہ نہیں دیتی۔
سیاحت کے نام پر جنگلات کی بربادی
09:56 AM, 20 Jul, 2026