غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، سیکڑوں فلسطینی شہید ، متعدد زخمی

02:53 PM, 20 Jul, 2025

غزہ : غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت مسلسل جاری ہے، جس کے باعث مذاکرات کے باوجود حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ تازہ بمباری میں کم از کم 116 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور کئی خاندان کے افراد شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے نہ صرف عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا بلکہ بے گھر افراد کے خیمے اور امدادی مراکز بھی تباہ کر دیے۔ خان یونس کے قریب ایک جگہ سے چار لاشیں نکالی گئیں جبکہ ایک ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ وسطی غزہ میں ایک گھر پر حملہ ہوا جس میں نصیرات پولیس کے ایک اہم افسر اور ان کے خاندان کے 11 افراد مارے گئے۔

غزہ کے مختلف علاقوں میں بھی فضائی حملے ہوئے، جن سے متعدد افراد جان سے گئے۔ اسرائیلی بحریہ نے تین فلسطینی ماہی گیروں کو گولی مار کر زخمی کرنے کے بعد گرفتار بھی کر لیا ہے۔ اسرائیل نے 2007 سے غزہ پر سخت محاصرہ لگا رکھا ہے، جو 2023 کی جنگ کے بعد اور بھی سخت ہو گیا ہے۔

الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ بھوک اور محاصرے کی وجہ سے ایک 35 دن کا بچہ بھی چل بسا ہے، جبکہ مزید دو افراد بھی بھوک کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہزاروں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔

امدادی مراکز کے قریب فائرنگ کے باعث 38 فلسطینی شہید ہو گئے، جنہیں اسرائیلی گولہ باری کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس بارے میں تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

بین الاقوامی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی عوام شدید قحط اور بحران کا شکار ہیں، اور کہا ہے کہ امدادی سامان مصر کے بارڈر پر رکا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محاصرہ ختم کرے تاکہ انسانیت کی خدمت کی جا سکے۔

مزیدخبریں