کبھی سوچتی ہوں اصل امارت کسے کہتے ہیں تو کہیں اندر کا انسان کہتا ہے وہ امیر ہے جوزمانے کو مطلوب ہے جس کی طلب میں زمانے دیوانہ وارمتلاشی رہتے ہیں خیروہ تو کبھی کبھی کی بات ہے اس حدتک محبوب ہونا تو بڑے اہم اور خود سے بیگانہ لوگوں کا نصیب تھا …ہم لوگ بڑے نہیں اتنے بڑے نہیں کہ وقت کی ترتیب سے ایک پتہ بھی ہلا سکیں مگر ’’گھٹی‘‘ میں کوئی چھوٹی موٹی سی انا ملی ضرورہوئی ہے جو اپنے غیر اہم ہونے کا احساس سے بھی بہت قبل کئی قدم پیچھے ہٹا لیتی ہے ہم کسی کو اتنا موقع نہیں دیتے کہ وہ ہمیں چھوڑے ہم اس اعلان ترک تعلق سے بہت پہلے اپنے حجرے میں بوریا نشین ہوجاتے ہیں۔
یہ گھمنڈ نہیں نہ غرور ہے البتہ اپنی بری بھلی شخصیت پر ایک ناز سایوں ہے کہ بہت مادی مفاد کو اپنے ہاتھوں سے ٹھکرایا ہے ہمارے ماتحت کام کرنے والے کرنسی کے لحاظ سے ہم سے کہیں امیر ہیں مگر وہ مطمئن اور آسودہ حال کسی صورت نہیں ،میں قطعاً پیسے کی مخالفت نہیں کررہی پیسہ بہت عمدہ اور بڑا سورس ہے اپنی اور اپنے لواحقین کی ضروریات پوری کرنے کا اور کیوں نہیں عیش وعشرت کاسبب بھی ہے آرام وآسائشیں کا ذریعہ بھی۔ مگر پیسے پیسے پہ انحصار الگ طرح کا ہے، وہ پیسہ جس میں کوئی گلٹ کا احساس نہ ہو بہت راحت کا سامان ہے۔ میں نہیں مانتی کہ ضمیر مکمل طورپر سوسکتا ہے بہت بے حسی پر بھی یہ ترازو تھوڑا بہت ڈولتا ہی رہتا ہے ۔ ایک چبھن رہتی ہے کہ یہ ٹھیک نہیں یہ کاغذ کی کرنسی اپنے ساتھ خوشی نہیں لائے گی گہری نیند نہیں لائے گی ،نیب اینٹی کرپشن سکینڈ لز اور بدنامی کی سرسراہٹ خوف دہشت اور رشوت کی ایک طویل زنجیر کو لائے گی جس کی صفائی دیتے دیتے آپ ہانپ جائیں گے بلڈپریشر اوپر نیچے ہوتا رہے گا …بول بول کے حلق خشک ہو جائے گا میں نے اپنے ذاتی مشاہدے میں قریبی لوگوں کو دیکھا جنہوں نے بدحالی سے خوشحالی جھونپڑی سے محل کا سفر ایک ہی جست میں تمام کیا شدید بیمار ہوگئے …اپنے نئے مکانوں میں پربیش بھی نہیں کرپائے ایسے لوگ آپ کو اپنی دولت کی صفائیاں دیتے ملیں گے ہروقت حساب کتاب سناتے رہیں گے کہاں سے پیسے آئے کون سادادا کا بھائی مرکر حصہ چھوڑ گیا۔ قابل ترس حالت ہوجاتی ہے ان کی اس سے کہیں بہتر ہوتا مناسب سا زندگی کا انتظام کرکے آٹھویں نسل تک کمانے کا خیال چھوڑ دیا جائے زیادہ وقت احباب میں گزارا جائے جم ،گراؤنڈیں، واک، ٹی پارٹیاں اور میل ملاپ ہم توخیر خوش قسمت ہیں کہ ہماری تنہائی رونق سے کہیں زیادہ سجی ہوتی ہے… ایک تو)
دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے
دوسرا ساری سوچ کا آراستہ وپیراستہ سازو سامان تنہائی میں اور بھی چمکنے لگتا ہے آشنائی کے سائے ہمراہ چلتے ہیں، قدموں کی آہٹ سرگوشیاں اور خوشبو تنہائی ناچتی گاتی ہے تو کبھی لبریز آنسوؤں سے انتہائی امیر کردیتی ہے۔ منیر نیازی صاحب نے کہا تھا
غم کا وہ زور اب مرے اندر نہیں رہا
اس عمر میں میں اتنا ثمرورنہیں رہا
یہ چھلکتے نینوں کے پیالے اصلی امارت ہیں جب یہ سوتے سوکھ جاتے ہیں بندہ غریب ہوجاتا ہے یہ لبوں سے ’’ ڈھلتے ہاسے ‘‘ یہ چھپائے نہ چھپنے والی ہنسی ہی اصل دولت ہے۔
آج بات امارت اور غربت کی ہورہی ہے تو یہ ذکر بہت اہم ہے کہ ذہنی ایج بڑے وژن اور خاندانی وراثتی ذہانت اور محنت سے بنایا ہوا مقام بھی خاص زمرے میں آتا ہے جبکہ یہ بات بہت واضح طورپر مشاہدے میں آئی ہے کہ فیلڈ میں کم ذہنی سطح کمزور وژن اور کمزور اعتماد کے حامل لوگوں کا آپسی اتحاد بڑا شاندار اور زبردست ہوتا ہے آپ نے دیکھا ہوگا دیوار پر چڑھنے والی ’’ کیڑیوں‘‘ (ان میں مکوڑوں کوبھی شامل کرسکتے ہیں) کا اتحاد اورہم سفری دیدنی ہوتی ہے جبکہ طاقت ور حکمران، بادشاہ سقراط (ذہنی امیر ترین) تنہا ہوتا ہے اور سارے کوڑھ مغز مل کر اسے زہر کا پیالہ پیش کرتے ہیں۔
دوذہین بندوں میں اختلاف رائے ہوسکتا ہے مگر کمزور علم کم ترین فنی سطح والوں کا آپس میں شاندار اتحاد ہوتا ہے کیونکہ نالائقی کو لیاقت بے ہنر کو ہنرمند اور کم ظرف کو اعلیٰ ظرف سے جنگ کرنا ہوتی ہے۔
اس لیے وہ اپنی کمک تیار، پورے اسلحے سے لیس رہتا ہے کچھ اچھے لوگوں سے بات ہوتی ہے تو میں کہتی ہوں آپ ہی بتائیے آپ کو خداداد دولت چاہئے کہ کم ترعلمی سطح کے ساتھ موافقت کیونکہ ’’ذہانت‘‘ تو سواسے تنہا ہے، اس کی شدید اپوزیشن ہے ۔
کچھ بھی کہہ لیں اپنے اندر دنیا آباد کرنے کے اپنا ہی لطف ہے یہ کبھی نہیں اجڑتی کیونکہ …
چناب غرق کرے گرمجھے محبت میں
میں سومنات کے مندرمیں جانکلتی ہوں
تمہارے پیار میں ساتوں جہنم کی بندش سے
میں راکھ ہوتے ہوئے جسم سے نکلتی ہوں
یاپھر
میں کبھی مرتی نہیں جسم بدل لیتی ہوں
ہرزمانے میں محبت کی کہانی بن کر
آج اتفاق سے کچھ دانشوروں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی تو بڑے شعراء کا تذکرہ چل نکلا ایک شاعر جو بزعم خود بڑا تصور کرتے تھے ان کے ہاں نہ لفظوں کی کمی تھی نامہارت کی مگر بات پھر بھی جی کو نہ لگتی تھی وجہ استفسار ہوئے تو انہوں نے کہا کہ لفظوں کا پہاڑتو ہے کاریگری بھی مگر ان کے دل میں خاک اڑا کرتی ہے تو یہ ہے سارا فلسفہ جب دل میں لبریز سمندر موجزن نہیں تو شاعری کو حساب کا سوال بناکر ہروقت دست سوال دراز کرتے رہنا بے توقیری کی بات ہے ہم تو جہاں حق ہو وہاں بھی طلب نہیں کرتے شعر یاد آگیا وہ بھی اپنا
طلب نہیں ہے محبت کی صوفیہ اس سے
بخیل دل کا ہے وہ شخص مجھ کو کیا دے گا
آپ کو خود ہی اتنا بھراپڑا ہونا چاہے کہ مدد اور آسرا طلب نہ کرنا بڑی ذہنی امارت کی بات ہے۔
اور آتی ہوئی بے توقیر دولت کو ٹھکرا دینا تو بہت اونچے مقام والوں کا مرتبہ ہے مگر عام معنی میں یہ اصلی دولت مند ہونے کی نشانی ہے ایک حجرہ ،چٹائی، مٹی کا پیالہ اور مطمئن دل…
دل کی ریاست…
09:42 AM, 20 Jul, 2025