ماں باپ نے نہ جانے کیاسوچ کراس کانام ولی اللہ رکھالیکن اللہ کی شان اورقدرت کی مہربانی دیکھیں کہ وہ بچہ بڑاہوکرسچ مچ میں اللہ کا ایساولی بن گیاکہ اس کے کام اورکردارپراپنوں کے ساتھ بیگانے بھی اب رشک کررہے ہیں۔ولی اللہ کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ بتاناضروری ہے کہ پاکستان سمیت دنیابھرمیں ہرسال ہزاروں کی تعدادمیں لوگ لاپتہ ہوتے ہیں۔ان میں اکثریت بچوں کی ہوتی ہے جنہیں گھراورخاندان سے بچھڑنے کے بعدپھراپنوں کاپتہ ہی نہیں ہوتا۔ایسے بچے جوگھروں سے ماں باپ،بہن بھائیوں اوردیگررشتہ داروں کے ساتھ سیروتفریح کے لئے نکلتے ہیں یہ اکثر مصروف بازاروں، درباروں یاپھرپبلک پارکوں سے ایسے غائب ہوتے ہیں یالاپتہ کئے جاتے ہیں کہ جن کابعدمیں پھرڈھونڈنے سے بھی کوئی سراغ نہیں ملتا۔نہ صرف ہمارے اس ملک بلکہ دنیاکے دیگر ممالک میں بھی ایسے بدبخت اورسیاہ دل لوگ اورگروہ موجودہیں جوباقاعدہ طورپربچوں کواغوا کرنے کاگھناؤناکھیل کھیل کرہزاروں اورلاکھوں لوگوں کواپنوں کے بچھڑنے کی اذیت وتکلیف میں ڈال رہے ہیں۔ہمیں اچھی طرح یادہے آج سے تقریباًبیس سال پہلے اسلام آبادمیں ہمارے آبائی علاقے جوزسے ملحقہ بیڑگائوں کے رہائشی قاری عبداللہ مرحوم کابچہ وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں جمعرات کے دن مدرسے سے گھرکے لئے نکلااورپھروہ کبھی گھرنہیں پہنچا۔یہ صرف ایک قاری عبداللہ کابچہ نہیں نہ جانے اس دنیامیں ایسے کتنے بچے ہیں جوبرسوں پہلے سکول، بازار، پارک، دکان اورمدرسے سے گھروںکے لئے نکلے اور پھروہ آج تک کبھی گھرواپس نہیں پہنچتے۔اپنے کا بچھڑنا یا اپنوں سے بچھڑنایہ دونوں ایک ہی طرح کے عذاب ہیں،اس میں دونوں فریق ایک جیسی تکلیف،دکھ درداورپریشانی سے گزررہے ہوتے ہیں۔اللہ ہم سب کوایسی ہر آزمائش ،امتحان اورتکلیف سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ جن کاکوئی اپنا گم ولاپتہ ہویاجواپنوں سے بچھڑجائے ان دونوںپرپھرکیابیتی ہے یہ سوچتے ہوئے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گھرسے پالتوبلی اورمرغی بھی گم ہوجائے توانسان کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں پھرماں کا ممتا اگر غائب ہو تو خود سوچیں اس ماں پرکیاگزررہی ہوگی۔یہ زندہ غائب اور بچھڑجانے والوں کاغم بھی عجیب ہوتاہے۔ یہ انسان کو اندر اندرسے اس طرح کھاجاتاہے کہ انسان پھرنہ جینے کا قابل رہتا ہے اورنہ مرنے کا۔ایک پہلوان جیسا وجود رکھنے والے قاری عبداللہ کوہم نے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے بیٹے کے بچھڑنے کے غم میں چندسال کے اندرنہ صرف کمزور سے کمزورتربلکہ بچے کی گمشدگی کے اسی غم میںقبرکی پاتال میں اترتے دیکھا۔مرنے والوں کاغم انسان پھربھی بھول جاتا ہے لیکن یہ زندہ گم اورغائب ہونے والوں کاغم،دکھ اوردردپھرقبرتک انسان کاپیچھانہیں چھوڑتا۔بچھڑنے والوں کی زبان پرایک ہی صدااورایک ہی دعاہوتی ہے یارب اپنوں سے ملادے۔برسوں کی جدائی اورگمشدگی کے بعد اگر کوئی اپنوں کو مل جائے تویوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے ساراجہان ان کو مل گیا ہو۔ بچھڑوں کواپنوں سے ملنے ملانے کی بات آئی تواب کراچی کے اس ولی اللہ کاذکرخیرکردیں۔ولی اللہ یہ بے سروسامانی کے عالم میں نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش، انڈیا، سعودی عرب سمیت دنیاکے دیگرکئی ممالک میں بچھڑے ہوئے لوگوں کوان کے اپنوں سے ملانے کے راستے تلاش کر حقیقت میں اللہ کے ولی ہونے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔کراچی کایہ نوجوان اب تک تین سوسے زائدگمشدہ اورغائب انسانوں کو ڈھونڈ کر ان کے اصل ورثاسے ملا چکے ہیں۔لوگ اسے صرف ولی اللہ کہتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کے ولی ہونے کے ساتھ ایک بڑے مجاہدبھی ہیں کیونکہ جوکام یہ کررہے ہیں وہ اللہ کے ولی اور مجاہد ہی کر سکتے ہیں۔ ایسے دور اور حالات میں جب اپنے بے وقت دھڑکنے والے دلوں کی دواکوئی نہیں کرتاایسے میں دوسروں کے بے قراردلوں کوقراروسکون دینایہ جہاد نہیں تواورکیاہے۔؟اللہ کے اس ولی کے ہاتھوں اب تک درجنوں وسیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بے قراردلوں کو قرار ملا ہے۔ ولی اللہ یہ کراچی میں رہتے ہیں اورآن لائن قرآن ٹیوشن کے ساتھ یہ کسی مسجدکے امام وخطیب بھی ہیں۔امامت وتدریس کے ساتھ یہ دوبچھڑے ہوؤں کوآپس میں ملانے کاجوکام کر رہے ہیں وہ انسانیت کے لئے ایک مثال ہے۔کچھ دن پہلے ولی اللہ نے اسلام آبادکے رہائشی ایک ایسے نوجوان کوان کے والدین اورورثاء سے ملایاجوفقط دوسال کی عمرمیں برسوں پہلے بری امام دربار سے لاپتہ ہواتھا۔وہ نوجوان جب ماں کے گلے لگاتووہ لمحہ اوروقت دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔سوچنے کی بات ہے کہ دوسال کی عمرمیں اسلام آبادسے غائب ہونے والے اس نوجوان اوراس کے ورثاء پریہ تیس چالیس سال کیسے گزرے ہوں گے۔؟ماں توبچے کونہیں بھول سکتی۔پھردوسالہ بچہ ایک لمحے کے لئے بھی نظروں سے ادھر ادھر ہو تو ماں پرقیامت آجاتی ہے۔بچہ بھی ماں کی گوداورآغوش سے محروم ہوتواسے بھی چین نہیں آتا۔اسی لئے توبرسوں بعدجب ماں بیٹا گلے ملے توآہوں،سسکیوں اورآنسوئوں پرقابونہ رکھ سکے۔ معلوم نہیں اس دنیامیں ایسے کتنے بچے ہوں گے جو دواورتین سال کی عمرمیں لاپتہ ہونے کے بعدآج بھی ماں کی گوداورآغوش کے لئے ترس وتڑپ رہے ہوں گے۔نہ جانے کتنی مائیں ایسی ہوں گی گمشدہ بچوں کی یادمیں روتے روتے جن کی آنکھیں خشک اور بینائی ختم ہوئی ہوں گی۔ دو بچھڑوں کوآپس میںملانایہ صرف اصل انسانیت ہی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی عبادت بھی ہے۔ولی اللہ معروف نے اپنوں کی جدائی میں برسوں سے آنسوبہانے اوردل چیرنے والوں کے دامن میں خوشیاں رکھنے کاجوکام اورسلسلہ شروع کیاہے وہ بلاکسی شک وشبہ کے ایک عظیم جہاد ہے۔ ہمیں اس ملک میں ایسے مجاہدوں پر فخرہے۔ولی اللہ اس ملک اورقوم کااصل ہیروہے جوکام یہ کررہے ہیں،ایسے کام اللہ بڑے نصیب والوں سے ہی لیتاہے۔ہمیں ولی اللہ جیسے قومی مجاہدوں کی خدمات کااعتراف کرکے انہیں اعلیٰ قومی اعزازت سے نوازنا چاہئے کیونکہ ولی اللہ جیسے گمنام لوگ ہی ہمارے اصل ہیروہیں۔
ایک گمنام ہیرو
09:35 AM, 20 Jul, 2025