تم اپنی طاقت کھو چکے ہو۔ تمہارا خیال ہے کہ ریاستیں طاقت سے ڈرتی ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ریاست تو خود طاقت کا وہ منبع ہوتی ہے جہاں سے ریاست کے ہر فرد کو طاقت فراہم ہوتی ہے اور پھر عوام کی اجتماعی طاقت ریاست کوواپس مل جاتی ہے ۔ ریاست طاقت سے نہیں تعداد سے ڈرتی ہے کہ انسانوں کا سب سے بڑا گروہ ہی تو ریاست کو طاقت فراہم کر رہا ہوتا ہے ۔ یہ صرف میری ریاست کی بات نہیں یہی اصول دنیا کی ہر ریاست پر لاگو ہوتا ہے۔ شرپسند عناصر شہریوں کو ورغلا سکتے ہیں ¾ اداروں میں شر پسند عناصر پیدا کرسکتے ہیں لیکن شر کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی عمر طویل نہیں ہوتی کہیں نو مولود دم توڑ دیتا ہے اورکہیں جواںہو کر موت کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔ سقراط نے زہر کا پیالہ پینے سے پہلے ¾ جس رات کو اُس کے ساتھیوں نے جیل ملازمین سے ساز باز کرکے اُسے ایتھنز چھوڑ کرسپارٹا بھاگنے کا مشورہ دیاتو اُس نے تاریخی الفاظ کہے کہ ” میں اپنی ریاست کے قانون کو بدلنا چاہتا ہوں اِسے توڑنا نہیں ۔ “ سقراط ریاست کے قانون کو تبدیل نہ کرا سکا لیکن آج ہزاروں سال بعد بھی وہ ابدی زندگی لئے انسانوں کے درمیان موجود ہے کیونکہ اُس نے شر کا رستہ اختیار نہیں کیا ۔ وہ اپنے سماج کا عقلی رہنما تو بنا لیکن اُس نے ریاست میں انارکی کا رستہ اختیار نہیں کیا ۔ کسی تنظیم کے بغیر انقلاب یا تبدیلی کا خواب دیکھنا ہی سب سے پہلی غیر عقلی کاوش ہوتی ہے کہ انسانی تاریخ میں تنظیم کے بغیر انقلاب کا کوئی تصور موجود ہی نہیں ۔ طاقت کے بل بوتے پر مافیا تو بن سکتا ہے جو غیر قانونی اورغیراخلاقی کارروائیوں میں ملوث رہے یا بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بن کر ریاست کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے۔اپنا وطن انسان کی پہلی اور آخری پناہ گاہ ہوتی ہے اسے بہتر سے بہتر بنانے کیلئے تو ہر قربانی دی جا سکتی ہے لیکن اسے برباد کرنے کیلئے کام کرنے والی قوتیں محب وطن نہیں غیر ریاستی عناصر کہلاتی ہیں خواہ ریاست انہیں اپنے مفاد کیلئے ہی استعمال کیوں نہ کرئے ۔ یہ ایسے بچے ہوتے ہیں جن کو ولدیت نہیں دی جا سکتی اوردنیا کی ہر ریاست نے ایسے بن باپ کے بچے پال رکھے ہیں ۔ میں ایک مکمل سماجی حیوان ہوں اور سماج کی پرت میں میرا جانا ہوتا ہے ۔ انہیں سنتا ہوں ¾ دیکھتا ہوں اور پھر اُن کے مشاہدے کے عمل سے گزرتا ہوں کہ یہی میری سب سے بڑی ذمہ داری ہے جو مجھے میرے ضمیر نے عطا کر رکھی ہے ۔ یہ ضمیر بھی قدرت کا عجیب کھلونا ہے کہ یہ جس وجود میں بس رہا ہو اُس کے خلاف بھی فیصلہ دینے میں دریغ نہیں کرتا ۔ یہ ساری زمین جو کبھی بلیک اینڈ وائٹ تھی اسے کلر ڈ کرنے میں روشن خیالوں کا کوئی ہاتھ نہیں البتہ اسے موجود دنیا بنانے میں روشن ضمیروں کا کردار کلیدی ہے ۔ کسی روشن خیال کیلئے لازمی نہیں کہ وہ روشن ضمیر بھی ہو لیکن روشن ضمیر ہمیشہ روشن خیال ہی ہوتا ہے اور یہ خیالات کی روشنی ہی ہوتی ہے جو انسانی حیات کو منور کر تی ہے تاریک خیالات تو خود روشنی کے عدمِ وجود سے پیدا ہوتے ہیں اور خود روشن خیالات کی تلاش میں بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔ انسانی تاریخ روشن ضمیروں کی تاریخ ہے لیکن افسوس کہ تاریخ شاہوں کے مورخین نے لکھی۔ کاش روشن ضمیر لکھتے تو آج ہمارے ہیروز اور ولنز مختلف ہوتے اور کچھ بعید نہیں کہ ولنز ہی ہماری تاریخ کے ہیروز اور ہیروز ہی ولنزکہلا تے ۔
پاکستان میں بھی ایک تاریک خیال کو روشن خیال سمجھا جا رہا تھا۔ ایک ایسا تاریک خیال جس کی تاریکی ہر لمحہ بڑھ رہی تھی۔ جو اب زندگی کے ہراُس موڑ پر برہنہ ہو رہا ہے جسے چند سال پہلے اُس لیول کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا کہ تاریخ کے بدترین ججوں نے رسالت مآب صلی علیہ والہ وسلم کے القاب ”صادق و امین “اُسے عطا کردیئے لیکن جب آپ تاریکی میں پھنس جا تے ہیں تو پھر آپ کوکچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ آج وہی ”صادق و امین “اپنے سیاہ کردار اور بدترین اعمال کی وجہ سے پسِ زندان ہے اوردوسری طرف اُس کے کلٹ کا قلعہ مسمار ہو رہا ہے ۔ اُس تاریک کردار پر پڑنے والی روشنی اُس کی حقیقی تصویر عام آدمی کے سامنے لا رہی ہے۔ اُس کے چیلے چماٹوں کے پا س بے پناہ وسائل اورحکومتی طاقت ہے لیکن عوام اُنہیں کہیں خوش آمدید نہیں کہہ رہے۔ منشیات فروش ¾ اسلحہ کے سمگلر ¾ بردہ فروش ¾ دہشتگردوں کے سہولت کار اوروطن دشمن کچھ وقت کیلئے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے ناراض لوگوں کو سبز باغ دکھا کر اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں لیکن حقیقت پسند ¾ وطن دوست اُس جال سے جلد نکل آتے ہیں ۔ کراچی سے لے کر ہری پور تک آئس کے ڈیلر وں اور طالبان کے و ہ ساتھی جو پاکستانیت کا نقاب لگائے ہمارے جغرافیے میں گھوم رہے ہیں انہیں کہیں پذیرائی نہیں مل رہی ۔ وہ قابل ِ نفرت ہو چکے ہیں ۔ کے پی کے کی غیور عوام وادی تیراہ (جو منشیات فروشوں اور دہشتگردوں کی جنت بن چکا ہے ) سے لے کر قلعہ سیف اللہ تک دہشتگردوں کا تعاقب چاہتی ہے ۔ سوائے ”عمرانی نازیوں“ کے ¾ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو طالبان کے خلاف آپریشن نہ چاہتا ہواوراِس کی زندہ مثال آپریشن کی مخالفت کرنے والے کے پی کے میں بھی اپنی حمایت کھو چکے ہیں ۔ ہری پور میں صرف سہیل آفریدی کی پروٹوکول گاڑیوں نے سڑک بند کی جب
کہ کاروبار حیات ویسے ہی چلتا رہا ۔ عمران نیازی تم نئی نسل کی بات کرتے ہو تو نئی نسل نئی دنیا کے ساتھ جڑنا چاہتی ہے کسی پرانے فرسودہ خیالات کی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتی ۔ ¾ تمہارا حقیقی چہرہ روشنی میں آچکا۔ جو اتنا گھناﺅنا اور قابل ِ نفرت ہے کہ اُسے دیکھنے سے بھی گھن آنا شروع ہو جاتی ہے ¾ کیونکہ روشنی کی صفت یہ ہے کہ وہ چہروں کی حقیقی تصویر انسانی عقل کی مومی تختی پر ثبت کردیتی ہے اور یہیں سے روشن ضمیروں کا سفر شروع ہو جاتا ہے جو کبھی غیر قانونی دھندے کرنے والوں کے حمایتی نہیں ہوتے ۔نیازی اپنی مقبولیت سمیت ماضی کا مزار بنتا جا رہا ہے۔اُس کے ساتھی صفت جام تاریکی کی مشعل لیے گھوم رہے ہیں ۔ وہ ایک ناکارہ سوچ اور ناقابل ِعمل ریاست کا خواب دیکھ رہے ہیں جو خواب میں بھی ممکن نہیں ¾ یاد رکھیں ! مقبولیت کو پسِ زنداں نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ محبوبیت اُسے ہر حال میں باہر نکال لیتی ہے ہیوگوشاویز کی مثال ہمارے سامنے ہے جبکہ اڈیالے کی فضاﺅں سے گزرنے والے پرندے بھی اب وہاں سے رستہ بدل کر گزرتے ہیں کہ اُس مکروہ چہرے پر نظر نہ پڑ جائے ۔ نئی نسلوں کی سائنسی تقسیم کرنے والوں کے علم میں ہونا چاہیے کہ نئی نسل صرف جدیدیت کو پسند کرتی ہے اور نیازی جدیدیت کا نمائندہ نہیں۔
عمرانی نازی اور خیبر پختونخوا آپریشن
09:04 AM, 20 Jan, 2026