ایران میں اضطراب کے پیچھے کون ؟

09:04 AM, 20 Jan, 2026


ایران نہایت نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے ابھرنے والے عوامی احتجاج، معاشی دباو¿، سیاسی بے چینی اور بین الاقوامی کشیدگی نے ایرانی ریاست کو اندرونی و بیرونی سطح پر شدید مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ اگرچہ ایران ماضی میں بھی ایسی صورتحال سے بارہا گزر چکا ہے مگر حالیہ بحران کی شدت، نوعیت اور علاقائی اثرات اسے غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔ یہ محض داخلی عوامی ناراضی کا معاملہ ہی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی سازشی سیاست، خطے کی تزویراتی بساط اور مستقبل کے امکانات اس سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
ایران میں حالیہ بے چینی کی بنیادی وجوہات میں سب سے نمایاں معاشی مشکلات ہیں۔ امریکی پابندیوں، تیل اور گیس کی برآمدات میں نمایاں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فقدان اور کرنسی کی شدید گراوٹ نے عام ایرانی کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی اشیائے ضرورت کی قلت نے متوسط اور نچلے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ جب ریاست عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام نظر آئے تو عوامی غصہ لازمی طور پر احتجاج کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مظاہروں میں نوجوانوں، خواتین اور شہری متوسط طبقے کی شمولیت نمایاں رہی۔
معاشی عوامل کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی وجوہات بھی اس بحران کو ہوا دے رہی ہیں۔ ایران کا سخت گیر سیاسی و سماجی ڈھانچہ، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور بعض مذہبی و ثقافتی ضوابط نوجوان نسل کے لیے قابلِ قبول نہیں رہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان، جو عالمی دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ آج کا ایرانی نوجوان زیادہ آزادی، بہتر مواقع اور شفاف طرزِ حکمرانی کا خواہاں ہے۔ جب یہ خواہشات دباو¿ میں آتی ہیں تو ریاست اور عوام کے درمیان خلیج گہری ہو جاتی ہے، جس کا اظہار سڑکوں پر نظر آتا ہے۔
 یہ درست ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور یورپی طاقتیں ایران میں جاری بے چینی کے پیچھے کسی منظم “رجیم چینج” منصوبے پر کاربند ہیں۔ ایران کے حکومتی حلقے اور حامی تجزیہ کار اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ بیرونی طاقتیں داخلی اختلافات کو ہوا دے کر مذہبی قیادت کے نظام کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے تزویراتی مفادات کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتے ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا اثرورسوخ اور مزاحمتی بلاکس کی سرپرستی ان طاقتوں کے لیے ناقابلِ قبول رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے حوالے سے یورپ کا کردار نسبتاً پیچیدہ ہے۔ بظاہر یورپی ممالک سفارتی حل اور جوہری معاہدوں کے حامی نظر آتے ہیں، مگر عملی طور پر وہ بھی امریکی دباو¿ سے آزاد نہیں۔ پابندیوں میں یورپ کی شمولیت اور ایران سے معاشی فاصلے نے داخلی بحران کو مزید گہرا کیا۔ تاہم یہ کہنا کہ تمام احتجاج صرف بیرونی سازش کا نتیجہ ہے، زمینی حقائق سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا۔ داخلی عوامل، عوامی ناراضی اور حکمرانی کے مسائل اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
 ایران میں کسی ممکنہ نظامی تبدیلی کی کوشش دراصل خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے یا اس کا موجودہ نظام گرتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے جہاں نئی راہیں کھل سکتی ہیں وہاں نئی سے نئی پیچیدگیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔ ایران میں رجیم چینج ہونے سے اسرائیل کو ایک مضبوط مخالف سے نجات مل گئی تو امریکہ کیلیے توانائی کے وسائل اور تجارتی راستوں پر اثرانداز ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اسی لیے ایران کے بحران کو صرف داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی بساط کا ایک اہم مہرہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ایران میں مذہبی علما پر مبنی نظام کو واقعی گرایا جا سکتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ایرانی ریاست نے شدید دباو¿، جنگ اور پابندیوں کے باوجود اپنی ساخت برقرار رکھی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب، مضبوط ریاستی ادارے اور ایک خاص نظریاتی وابستگی اس نظام کو سہارا دیتی رہی ہے۔ اگرچہ عوامی ناراضی حقیقت ہے، مگر یہ ناراضی کسی واضح متبادل قیادت یا نظام میں ڈھلتی دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ فوری طور پر نظام کے انہدام کا امکان کم نظر آتا ہے، البتہ طویل المدتی اصلاحات کے بغیر بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
ایران میں جاری اس صورتحال کے اثرات صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان، جو ایران کا پڑوسی اور ایک حساس جغرافیائی مقام پر واقع ملک ہے، اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی کے منصوبے اور علاقائی استحکام سب داو¿ پر لگ سکتے ہیں۔ اگر ایران میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو سمگلنگ، غیر قانونی نقل و حرکت اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ پاکستان کو بھی اٹھانا پڑے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی معیشت، جو پہلے ہی دباو¿ میں ہے، کسی نئی علاقائی کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایران سے ملحقہ پاکستانی صوبہ بلوچستان براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ علاقائی سطح پر ایران کی کمزوری کا فائدہ انتہا پسند عناصر اور غیر ریاستی طاقتیں بھی اٹھا سکتی ہیں، جس سے پورے خطے میں عدم استحکام پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن سفارت کاری اختیار کرے، ایران کے ساتھ روابط مضبوط رکھے اور کسی بھی بڑے تصادم سے خود کو دور رکھے۔ خطے میں امن پاکستان کے معاشی اور سکیورٹی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔
ایران میں موجودہ بحران محض وقتی احتجاج نہیں بلکہ گہرے معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کا عکاس ہے۔ بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور دباو¿ اپنی جگہ ایک حقیقت ہو سکتی ہے، مگر داخلی اصلاحات کے بغیر کسی بھی ریاست کے لیے استحکام ممکن نہیں۔ ایران کیلیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ عوامی ناراضی کو سنجیدگی سے لے، معاشی ریلیف فراہم کرے اور نظام میں لچک پیدا کرے۔ دوسری جانب، عالمی طاقتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے مفاد میں یہی ہے کہ ایران ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن ریاست کے طور پر قائم رہے، کیونکہ ایران کا امن درحقیقت پورے خطے کا امن ہے۔ امریکہ ماضی میں مختلف قوموں کو انکے حکمرانوں سے آزادی دلوانے کے نام پر "مدد" دیتا رہا ہے اور جب اسی "مدد" کی وجہ سے عراق, لیبیا اور شام جیسے ملکوں میں حکومتیں گریں تو خانہ جنگی اور داخلی انتشار نے ان ممالک کو گھیر کر برباد کر دیا۔ اب امریکہ کا یہی "مدد" والا آزمودہ منصوبہ ایران کیلیے ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران میں "مدد" پہنچانے کے نام پر عراق, لیبیا اور شام کی طرح خوفناک تباہی چاہتے ہیں۔

مزیدخبریں