یہ عنوان میں نے قبلہ محمد صادق صاحب کی علم و حکمت افروز اور روح پرور گفتگو سے اخذ کیا ہے۔اگر محمد مارماڈیوک پکتھال کی زندگی کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہی ہے کہ یہ ایک حاکم قوم کے فرد کا شعوری طور پر غلامِ مصطفی ﷺ بن جانا تھا۔ یہ محض مذہب کی تبدیلی نہ تھی بلکہ فکر کی تبدیلی، زاوی نگاہ کے بدلنے اور سب سے بڑھ کر عشق میں ڈھل جانے کا وہ سفر تھا جس نے ایک مغربی دانشور کو امتِ محمدیہ ﷺ کا ترجمان بنا دیا۔
محمد مارما ڈیوک پکتھیال عیسائیت کے زمانے یعنی قبول اسلام سے پہلے بھی اللہ پر تو یقین رکھتے تھے پھر کیا وجہ بنی کہ اسلام قبول کرنے کے بعد خوف خدا ایسا ہوا، اللہ پر ایمان ایسا ہوا کہ دوران بندگی یا زندگی میں ایک لرزے کی کیفیت میں رہے۔ ایک باعمل اور صاحب مطالعہ ہستی تھے جنہوں نے یقینا پڑھ رکھا تھا۔ حضرت محمدﷺ کی آمد کی بشارت تورات، انجیل اور زبور میں موجود ہے۔ تورات میں نبی کی آمد کی نشانی ہے جو لوگوں کو ہدایت دے گا (تثنیہ: 18:18) انجیل میں مددگار کے آنے کی بشارت دی گئی ہے (یوحنا:17-14:16) اور زبور میں حق و نیکی کی روشنی کی بشارت ہے۔ قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری نبی اور سب انسانوں کے لیے ہدایت ہیں (الاعراف: 157)
پکتھال کی عبادت دیکھنے والوں پر ایک عجیب ہیبت طاری کر دیتی تھی۔ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے دنیا اور اس کے تمام حوالوں سے کٹ کر براہِ راست اللہ کے حضور حاضر ہو گئے ہوں۔ چہرہ سرخ، بدن بے چین اور دل خوفِ خدا سے لرزاں، یہ کیفیت کسی رسمی عبادت کی نہیں بلکہ شعوری یقین کے ساتھ کھڑے ہونے کی علامت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ وہ کس کے سامنے کھڑے ہیں اور شاید یہی شعور ان کی عبادت کو بوجھل بھی بناتا تھا اور باوقار بھی۔یہ کیفیت کسی پیدائشی مسلمان کی نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی تھی جس نے اسلام کو سوچ سمجھ کر، دلیل کے ساتھ اور دل کی گہرائی سے قبول کیا تھا۔ ان کا یہ جملہ:”میں مسلمان اپنی مرضی سے ہوا ہوں، آپ پیدائش سے ہیں“۔
درحقیقت ان کے ایمان کی گہرائی اور جواب دہی کے احساس کو پوری طرح بیان کر دیتا ہے۔ منتخب ایمان انسان کو لاپروا نہیں بلکہ زیادہ محتاط اور زیادہ ذمہ دار بنا دیتا ہے اور یہی ذمہ داری پکتھال کی زندگی کا مرکزی وصف تھی۔اصل حیرت یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ پکتھال اس قوم سے تعلق رکھتے تھے جو اس وقت برصغیر پر حاکم تھی۔ سماجی حیثیت، علمی وقار اور تہذیبی برتری، سب کچھ ان کے پاس موجود تھا۔ وہ مغرب کے ممتاز ادبی اور فکری حلقوں میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ ڈی ایچ لارنس، ایچ جی ویلز اور ای ایم فاسٹر جیسے نامور ادیب ان کے معترف تھے۔ وہ صحافی تھے، ناول نگار تھے، تعلیمی اداروں کے سربراہ تھے اور اعلیٰ سرکاری و فکری حلقوں تک ان کی رسائی تھی۔ مگر ان تمام سماجی اور علمی مرتبوں کے باوجود جس چیز نے ان کے دل کو مسخر کیا، وہ آقا کریم ﷺ کا کردارِ مبارک تھا۔
پکتھال نے غلامی کو کمزوری نہیں سمجھا بلکہ اسے عشق کی اعلیٰ ترین صورت جانا۔ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ محمدﷺ کی غلامی اختیار کرنا دراصل انسان کو ہر غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہی سبب تھا کہ وہ اقتدار کی نفسیات سے نکل کر اخلاق کی بلندیوں تک جا پہنچے اور علم کو تفوق کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت کا وسیلہ بنا لیا۔یہی خدمت ان کی علمی زندگی کا محور بنی۔ قرآنِ مجید کا انگریزی ترجمہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ضرور ہے مگر یہ ان کی واحد خدمت نہیں۔ پکتھال نے مذہبی، ادبی اور تحقیقی تصانیف کے ذریعے بھی اپنی گہری بصیرت کا اظہار کیا۔ ان کی نمایاں تصانیف The Cultural Side of Islam، اسلام کی تہذیبی و اخلاقی جہات Islam and the Modern World، اسلام اور جدید دنیا کا تعلق Tolerance in Islam، رواداری اور اعتدال پر مبنی مطالعہSaid the Fisherman، Enid، The Valley of the Kings، House of War، ناول و افسانے جو مشرقی معاشرت اور انسانی نفسیات کی عکاسی کرتے ہیںانہوں نے صحافت کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بمبئی میں Bombay Chronicle کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اور حیدرآباد دکن میں Islamic Culture کے مدیر کے طور پر انہوں نے علم، فکر اور تحقیق کو فروغ دیا۔ تعلیم کے شعبے میں بھی انہوں نے طلبہ کی کردار سازی اور تعلیمی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی، بالخصوص چادر گھاٹ ہائی اسکول میں ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔
عشقِ رسول ﷺ محض ان کے الفاظ میں نہیں بلکہ ان کے عمل میں بولتا تھا۔ وہ علم بانٹتے تھے، خیر بانٹتے تھے اور اسلام کی خوبصورتی کو اپنے کردار کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے۔ اسی لیے محمد مارماڈیوک پکتھال محض ایک مسلمان نہیں تھے، وہ اخیار تھے، یعنی خیر بانٹنے والے اور خیر بانٹنے والوں کے سرخیل۔آج تاریخ انہیں اس شخص کے طور پر یاد رکھتی ہے جو حاکم تھا مگر غلام بننے میں فخر محسوس کرتا تھا، جو سماجی و علمی بلندی پر کھڑا ہو کر بھی عاجزی کا پیکر تھا اور جو مسلمان بنا تو اس طرح بنا کہ اس کی عبادت، عشقِ رسول ﷺ، علم اور کردار سب مل کر اسلام کی سب سے خوبصورت گواہی بن گئے۔واقعی، ایمان اگر شعوری ہو تو انسان خود چراغ بن جاتا ہے اور پکتھال اسی چراغ کا نام ہے۔اخیار انسانیت کا حسن، تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور ہر معاشرت کا قیمتی اثاثہ ہوا کرتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا درحقیقت ہمارا اخلاقی ،قلمی و کلامی اور فکری فرض ہے۔
مفتی محمد امین البرہان میں جو معجزات، حوالہ جات سے شان سرکارﷺ بیان فرماتے ہیں اور قرآن عظیم بذات خود نبی کی اطاعت اور بیعت کو اللہ کی بیعت اور اطاعت قرار دیتا ہے، نہ جانے کس گہری سطح پر محمد مارما کے روح و قلب، شعور و ہستی میں عشق و تعین، خوف اور ایمان، مو¿دت و اتباع سرایت کر چکی تھی کہ تاریخ میں کوئی دوسرا محمد مارما پکتھال (1875-1936) نہ ہوا۔ 1930 میں انہوں نے قرآن مجید کا معروف انگریزی ترجمہ (The Meaning of the Glorious Koran) کیا۔ ادبی اور تحقیقی کام بھی کیے۔ مشرق وسطیٰ کی سیر کے دوران اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوئے۔ انگلینڈ میں 1936 میں وصال ہوا۔
درسگاہِ اخیار! محمد مارما ڈیوک پکتھال!!!
09:03 AM, 20 Jan, 2026