بلوچستان میں ریلوے سکیورٹی، پٹرولرز کی بحالی ناگزیر

09:03 AM, 20 Jan, 2026

پاکستان ریلوے محض ایک سفری نظام نہیں بلکہ یہ ملک کی معاشی شہ رگ، سٹریٹیجک نقل و حمل کا بنیادی ستون اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک ریلوے نے نہ صرف عوام کو ایک شہر سے دوسرے شہر جوڑنے کا فریضہ انجام دیا بلکہ دفاعی، تجارتی اور انتظامی سطح پر بھی ریاستِ پاکستان کو سہارا دیا۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں بالخصوص بلوچستان جیسے حساس اور دور دراز صوبے میں ریلوے نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن میں سب سے اہم مسئلہ سکیورٹی، پٹرولنگ اور بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں ریلوے لائنیں طویل فاصلے، دشوار گزار علاقوں اور حساس سکیورٹی زونز سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں ریلوے ٹریک، ٹرینوں اور مسافروں کی حفاظت ایک غیر معمولی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلوے کے اندر وہ شعبہ، جو کبھی ریلوے لائن اور ٹریک کی حفاظت پر مامور تھا، یعنی پٹرولرز کا شعبہ، بتدریج ختم کر دیا گیا۔ یہی فیصلہ آج قومی سلامتی، عوامی تحفظ اور ریلوے آپریشنز کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔ اگر گزشتہ چند برس کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر بارہا حملے ہو چکے ہیں۔ یہ حملے صرف ایک ٹرین پر نہیں بلکہ ریاستی رٹ، عوامی اعتماد اور قومی انفراسٹرکچر پر حملے کے مترادف ہیں۔ ٹریک کو نقصان پہنچانا، دھماکے، فائرنگ اور ٹرینوں کو روکنا ایسے واقعات ہیں جنہوں نے مسافروں میں خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خطرات واضح ہیں تو ریلوے لائن کی حفاظت کے لیے مستقل، تربیت یافتہ اور مقامی عملہ کیوں موجود نہیں؟۔
ماضی میں پاکستان ریلوے کے پاس پٹرولرز ہوتے تھے جو روزانہ کی بنیاد پر ریلوے لائن، پلوں، سرنگوں اور حساس مقامات کی نگرانی کرتے تھے۔ یہ افراد ٹریک پر پیدل یا مخصوص ذرائع سے گشت کرتے، کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا نقصان کی فوری اطلاع دیتے اور یوں بڑے سانحات کو روکنے میں کردار ادا کرتے تھے۔ پٹرولرز کا نظام دراصل ریلوے کی فرنٹ لائن ڈیفنس تھا۔ یہ لوگ 
نہ صرف ٹریک کی تکنیکی حالت پر نظر رکھتے تھے بلکہ مسافروں، ٹرین عملے اور قریبی آبادی کے لیے بھی حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرتے تھے۔ بلوچستان جیسے علاقوں میں جہاں فاصلے طویل اور رسائی محدود ہے، پٹرولرز کی موجودگی کئی حادثات اور تخریبی کارروائیوں کو روک سکتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پٹرولرز کے شعبے کو ختم کرنے کے بعد ریلوے لائنیں عملی طور پر غیر محفوظ ہو گئیں۔ آج ٹریک کی روزانہ نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی مشتبہ سرگرمی کی بروقت اطلاع کا مو¿ثر نظام موجود ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تخریب کار عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی اور جعفر ایکسپریس جیسے واقعات بار بار رونما ہوئے۔
اس تناظر میں پاکستان ریلوے کے معزز وزیر جناب حنیف عباسی صاحب اور چیف ایگزیکٹو، سینئر جنرل منیجر عامر علی بلوچ صاحب سے یہ پُرزور درخواست کی جاتی ہے کہ بلوچستان کے حساس ترین علاقوں میں پٹرولرز کے شعبے کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ کم از کم پانچ سو پٹرولرز کی بھرتی ایک عملی اور ناگزیر قدم ہے، جو نہ صرف ریلوے سکیورٹی کو بہتر بنائے گا بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ یہ پٹرولرز مقامی سطح پر بھرتی کیے جائیں۔ تاکہ وہ جغرافیہ، حالات اور سماجی ڈھانچے سے بخوبی واقف ہوں۔ انہیں مناسب تربیت، بنیادی سکیورٹی آلات اور ریلوے قوانین سے آگاہی دی جائے تا کہ وہ ایک مو¿ثر حفاظتی فورس کے طور پر کام کر سکیں۔
عمران خان کے دور حکومت میں وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے پٹرولرز کو برطرف کیا تھا جس کی پریم یونین نے ملک بھر میں شدید مخالفت کی تھی۔ بلوچستان میں ریلوے کا ایک اور اہم مسئلہ ٹرین سروسز کا غیر مستقل ہونا ہے۔ بولان ٹرین اور اکبر بگٹی ٹرین بلوچستان کی پہچان ہوا کرتی تھی میں پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ان کو روزانہ کی بنیاد پر دوبارہ چلایا جائے تاکہ ٹرین آپریشن کو مستقل رکھا جا سکے، یہ صوبے کے دور دراز علاقوں کو مرکزی دھارے سے جوڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان ٹرینوں کا بند ہونا عوامی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کا ریلوے پر اعتماد بحال ہو گا بلکہ تجارتی سرگرمیوں، تعلیمی سفر اور مریضوں کی نقل و حرکت میں بھی آسانی پیدا ہو گی۔ ریلوے کی باقاعدہ سروس دراصل ریاست کی موجودگی اور ذمہ داری کا عملی اظہار ہوتی ہے، جو بلوچستان جیسے حساس صوبے میں نہایت اہم ہے۔ کوئٹہ ریلوے سٹیشن بلوچستان بھر میں ریلوے کی شناخت سمجھا جاتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سٹیشن بنیادی عوامی سہولیات سے محروم ہے۔ پانی کی شدید قلت، بیت الخلا میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور صفائی کی ناقص صورتحال مسافروں کے لیے اذیت کا سبب بن رہی ہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ روزانہ سیکڑوں مسافر، بزرگ، خواتین اور بچے اس سٹیشن سے گزرتے ہیں۔ ایسے میں صاف پانی اور بنیادی صفائی کی سہولت فراہم نہ کرنا انتظامی غفلت کی واضح مثال ہے۔ مطالبہ ہے کہ کوئٹہ ریلوے سٹیشن میں فوری طور پر پانی کی فراہمی، بیت الخلا کی مرمت، صفائی کے انتظامات اور مسافروں کے لیے بنیادی سہولیات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ یہ اقدامات زیادہ وسائل نہیں بلکہ سنجیدہ نیت اور انتظامی توجہ کے متقاضی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بلوچستان میں پاکستان ریلوے کے مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ قومی اہمیت کے حامل ہیں۔ پٹرولرز کی بحالی، پانچ سو نئی بھرتیاں، شیڈوں،کیرج سٹاف، ٹریفک یارڈ سٹاف، انجینئرنگ سٹاف میں شدید کمی، اکبر بگٹی ٹرین کی بحالی، بولان ٹرین کی روزانہ سروس اور کوئٹہ ریلوے سٹیشن کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ایسے مطالبات ہیں جو کسی ایک طبقے نہیں بلکہ پورے صوبے اور ملک کے مفاد میں ہیں۔ ریلوے کے ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، ملازمین کے تین سال سے بند ٹی اے، جی پی ایف اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے، شدید سردی میں سٹیشنوں پر کوئلہ اور ڈی ایس آفس، ریلوے سٹیشن اور ریلوے ہسپتال میں گیس کی بندش کا نوٹس لیا جائے۔ پاکستان ریلوے کے ذمہ داران سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کو محض ایک درخواست نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری سمجھ کر دیکھیں گے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف ریلوے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید کمزور ہو گا، جس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑے گا۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان ریلوے کو دوبارہ اس کے اصل مقام پر لایا جائے، خاص طور پر بلوچستان جیسے حساس اور اہم صوبے میں، تاکہ ریلوے واقعی قومی یکجہتی، سلامتی اور ترقی کا ذریعہ بن سکے۔

مزیدخبریں