سیاست دانوں سے صحافیوں کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، کبھی کبھی میں بھی ان کی خواہش، اصرار یا دعوت پر ان سے ملنے چلے جاتا ہوں اور کبھی کبھی انہیں بھی مدعو کر لیتا ہوں یا اکثر وہ خود ہی اس خواہش کا اظہار فرما دیتے ہیں وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں، مگر میں حکومتی سیاست دانوں سے ملنے ان کے دربار میں جانے سے ہر ممکن حد تک گریز کرتا ہوں۔ حکومتی سیاست دانوں کے ناز نخرے مجھ سے برداشت نہیں ہوتے۔ تکبر، پروٹوکول انتظار کرانے اور ہٹو بچو کا جو کلچر ان سے جڑا ہوتا ہے مجھے اس سے گھن آتی ہے۔ میری ایک عادت یہ بھی ہے جب تک کوئی ذاتی طور پر مجھ سے ملنے کے لیے نہ کہے، یعنی خود دعوت نہ دے، اپنے سٹاف وغیرہ کے ذریعے کہلوائے میں نہیں جاتا، اگر کوئی عزت محبت سے خود بلائے میں پوری کوشش کرتا ہوں چلے جاﺅں، عزت اور محبت دو طرفہ عمل ہے، یکطرفہ محبت صرف اللہ اپنے بندوں سے کرتا ہے، انسان اللہ کے احکامات پر عمل کریں نہ کریں، نمازیں پڑھیں نہ پڑھیں دیگر مذہبی فرائض پورے کریں نہ کریں اللہ انسانوں کو نوازتا رہتا ہے، کم از کم رزق کے دروازے ان پر ہرگز بند نہیں کرتا، کہیں نہ کہیں سے کچھ نہ کچھ کھانے کو انہیں مل ہی جاتا ہے، دوسرا یک طرفہ محبت کا رشتہ والدین کا اپنی اولاد سے ہوتا ہے، آپ اپنے والدین کی فرمانبرداری کریں نہ کریں، ان کی عزت کریں نہ کریں، ان سے محبت کریں نہ کریں، وہ آپ سے محبت ہی کرتے ہیں آپ کو دعائیں ہی دیتے ہیں، باقی سب رشتے دو طرفہ عزت اور محبت سے جڑے ہیں، میں عزت کے معاملے میں بڑا حساس ہوں، عزت انسان کو اللہ دیتا ہے اگر اللہ کی دی ہوئی یا بخشی ہوئی عزت کی ہم قدر نہیں کرتے یہ کفران نعمت ہے، عزت سے بڑھ کر نعمت کوئی نہیں ہوتی، بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب لوگ عزت اور شہرت میں فرق بھول چکے ہیں، عزت کو اہمیت نہیں دیتے، اکثر دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں، شہرت چاہے کسی کے کپڑے اتار کے ملے یا اپنے کپڑے اتار کے ملے کوئی فرق نہیں پڑتا، حمزہ شہباز شریف سے متاثر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے 1999ءمیں جب تقریباً پورا شریف خاندان جنرل مشرف سے اپنی جان چھڑا کر سعودی عرب چلا گیا تھا انہوں نے پاکستان میں رہ کر مشرف کی انتقامی کارروائیوں کا بڑی ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کیا تھا، اس دوران ایک طرف ا±نہوں نے اپنے بچے کھچے کاروبار کو سنبھالا دیا، دوسری طرف مسلم لیگی کارکنوں کے ساتھ اپنا رابطہ بھی نہیں توڑا، ان کے ارد گرد آج بھی زیادہ تر وہی کارکن نظر آتے ہیں جو جنرل مشرف کی آمریت میں ا±ن کے ساتھ تھے، کارکنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کا شوق یا وصف اصل میں ان کے تایا میاں محمد نواز شریف کا تھا، وہ جب وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پنجاب تھے کارکنوں کے ساتھ ان کا مکمل رابطہ رہتا تھا، اب ان کی یادداشت عمر کے ساتھ ساتھ کمزور ہو گئی ہے، تب ایک ایک کارکن کا نام انہیں یاد ہوتا تھا، وہ اکثر کارکنوں کے گھروں میں بھی چلے جاتے تھے، ان سے گپ شپ لگاتے انہیں لطیفے سناتے، کسی کا بازو پکڑ لیتے، کسی کا ہاتھ پکڑ لیتے، کسی کے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اپنائیت کا احساس دلاتے، گزشتہ الیکشن میں نون لیگ نے جو نشستیں جیتی ہیں اس میں دو باتوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، ایک میاں محمد نواز شریف کی کارکنوں کے ساتھ پرانی محبت اور وابستگی، دوسرے بطور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی کارکردگی بے شمار لوگوں کے دلوں سے آج بھی نہیں نکل سکی۔ یہ درست ہے بطور وزیراعظم وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جو بطور وزیراعلیٰ پنجاب وہ دکھاتے رہے، دوسری طرف یہ بھی درست ہے وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کے معاملات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، وزارت اعلیٰ میں اتنی مداخلت نہیں ہوتی جتنی وزارت عظمیٰ میں ہوتی ہے۔ وزیراعظم کے ماتحت کئی محکمے وزیراعظم نہیں کوئی اور ہی چلاتا ہے، ان محکموں میں کوئی اچھا کام ہو جائے وہ خود بخود خفیہ قوتوں کے کھاتے میں پڑ جاتا ہیں اور کوئی برا یا خراب کام ہو جائے وہ خود بخود وزیراعظم اور اس کی ٹیم کے کھاتے میں پڑ جاتا ہے اور بیچارہ وزیراعظم یا اس کی ٹیم یہ کہنے کی جرات بھی نہیں کرتے اس خرابی کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں، حمزہ شہباز شریف کو بھی کچھ عرصے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب بنایا گیا تھا، اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق جو بھاگ دوڑ وہ کر سکتے تھے اس دوران کرتے رہے انہیں بخوبی اندازہ تھا اس طرح کے سیاسی حالات میں وہ زیادہ عرصے تک اس عہدے پر قائم نہیں رہ سکیں گے، اس کے باوجود مختصر عرصے میں انہوں نے کچھ ایسی پالیسیاں بنانے یا اپنانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور ملتے رہے، لیگی کارکنوں کے ساتھ ان کا رابطہ اور تعلق تب بھی جڑا رہا جیسے آج جڑا ہوا ہے، دن میں ان کی چاہے کتنی ہی اہم مصروفیات کیوں نہ ہوں جب تک ماڈل ٹاﺅن میں کارکنوں کے ساتھ وہ ملاقات نہیں کر لیتے انہیں سکون نہیں ملتا، ایک زمانے میں ان سے یہ تاثر بڑی مضبوطی سے جڑا ہوا تھا وہ کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے یا وہ ہاتھ نہیں صرف دو انگلیاں ہی ملاتے ہیں، جب تک یہ تاثر ان سے جڑا رہا اپنی کوئی خواہش ان سے ملنے کی نہیں رہی، یقینا ان کی بھی نہیں رہی ہو گی، مگر کچھ عرصے سے یہ تاثر بتدریج ان سے الگ ہو رہا ہے، میں اکثر محسوس کرتا تھا اب وہ پہلے والے حمزہ شہباز شریف نہیں رہے، ان کے ایک کزن میاں خالد سراج مرحوم کے صاحبزادے بلال خالد سراج ایف سی کالج میں میرے سٹوڈنٹ تھے، وہ بھی اکثر مجھے بتاتے تھے حمزہ شہباز شریف سے جڑا ہوا تکبر کا تاثر غلط ہے، وہ اندر سے بہت ہی مٹے ہوئے ایک انسان ہیں، کچھ اسی طرح کے قصے میرے محترم بھائی احمد سلیم بٹ بھی مجھے سناتے تھے جو تقریباً ہر وقت ان کے ساتھ ہوتے ہیں، ایک روز میں جناب مجیب الرحمن شامی کی والدہ محترمہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا، اچانک کچھ لوگ اندر ڈرائنگ روم میں آئے انہوں نے بتایا ”کچھ دیر میں وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف تشریف لا رہے ہیں“، میں نے فوراً اجازت چاہی، میں جب باہر نکلا عین اسی وقت وہ اندر داخل ہو رہے تھے، بڑی محبت سے وہ مجھ سے ملے، میرا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ مجھے ڈرائنگ روم میں لے گئے اور اس وقت تک اپنے ساتھ بٹھائے رکھا جب تک وہ خود وہاں بیٹھے رہے، میرے لیے ان کا یہ روپ بڑا نرالا اور حیران کن تھا، کیونکہ میں ان دنوں ان کی بطور وزیراعلیٰ کچھ پالیسیوں کے بہت خلاف لکھ رہا تھا، میرا خیال تھا وہ مجھے دیکھ کر منہ پرے کر لیں گے، مگر جس طرح اپنی بانہیں انہوں نے میرے لیے پھیلائیں مجھے بڑی حیرت ہوئی، تب پہلی بار مجھے یہ احساس ہوا وہ واقعی ایک تبدیل شدہ شخص ہے ۔(جاری ہے)
بدلا ہوا حمزہ شہباز شریف
09:06 AM, 21 Feb, 2026