اے این ایف ،منشیات کے خلاف جنگ — طلبہ کا تحفظ اولین ترجیح

09:05 AM, 21 Feb, 2026

شیخوپورہ کی فضا میں اٹھتا ہوا دھواں کسی صنعتی چمنی کا نہیں تھا، یہ ا±س ناسور کو جلانے کا منظر تھا جو ہماری نسلوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ انٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کی جانب سے منعقدہ سالانہ منشیات تلفی تقریب محض ایک سرکاری کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھا—ریاست اپنی نوجوان نسل کو منشیات کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
اٹھارہ ٹن سے زائد مختلف اقسام کی منشیات اور ایک لاکھ انہتر ہزار لیٹر سے زیادہ شراب کو جدید انسینیریٹر میں نذر آتش کیا گیا۔ چرس، ہیروئن، آئس، پوست اور بھنگ—یہ وہ نام ہیں جو کسی لغت کا حصہ نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کے اطراف منڈلاتے خطرات کی علامت بن چکے ہیں۔ مگر اس بار یہ سب شعلوں کی نذر ہو گئے۔
یہ تقریب Sheikhupura میں منعقد ہوئی، جہاں ریجنل ڈائریکٹوریٹ کمانڈر ANF پنجاب برگیڈیئر سکندر حیات چوہدری کی زیر نگرانی اس عزم کی تجدید کی گئی کہ منشیات سے پاک معاشرہ محض نعرہ نہیں، عملی جدوجہد کا عنوان ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سی این ایف پنجاب بریگیڈیئر مظہر، آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل امجد، بشپ آف لاہور بشپ ندیم کامران اور وائس چانسلر میاں عمران کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ جنگ صرف ایک ادارے کی نہیں، پورے معاشرے کی ہے۔
مگر اس رپورٹ کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے ہمیں سرخیوں سے آگے لے جانا ہوگا—طلبہ کا تحفظ۔
ریجنل ڈائریکٹر اینٹی نارکوٹکس فورس ڈاکٹر ماریہ علی کا کردار یہاں خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ ا±ن کی قیادت میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنے کی مہم کو باقاعدہ تحریک کی شکل دی گئی۔ ایک ہزار سے زائد اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آگاہی سیمینارز کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ANF صرف گرفتاریوں اور مقدمات تک محدود نہیں بلکہ ذہنوں کی اصلاح کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بنا چکی ہے۔
اعداد و شمار خود بولتے ہیں۔ رواں برس 590 منشیات اسمگلرز کی گرفتاری اور 463 مقدمات کا اندراج محض فائلوں کی کارروائی نہیں بلکہ قانون کی عملداری کا اظہار ہے۔ مزید برآں، 35 خطرناک اسمگلرز کو عمر قید اور 132 کو سخت سزائیں دلوانا اس عزم کا عملی ثبوت ہے کہ ریاست اب سمجھوتے کے موڈ میں نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا منشیات کو جلانا ہی کافی ہے؟
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ منشیات کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا چیلنج نہیں بلکہ ایک سماجی بحران ہے۔ تعلیمی اداروں کے باہر کھڑے مشکوک چہرے، سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی خفیہ ترسیل، اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ذہنی دباو¿ کی کیفیت—یہ سب عوامل مل کر ایک ایسی فضا بناتے ہیں جہاں منشیات کو راستہ مل جاتا ہے۔
 ریجنل ڈائریکٹر اے این ایف ڈاکٹر ماریہ علی کی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ طلبہ کو بچانا ہے۔ کیونکہ اگر نوجوان نسل محفوظ ہو گئی تو معاشرہ خود بخود محفوظ ہو جائے گا۔ آگاہی سیمینارز میں ماہرین نفسیات کی شمولیت، والدین کی کونسلنگ، اور اساتذہ کی تربیت—یہ وہ پہلو ہیں جنہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ منشیات کا کاروبار صرف جرائم پیشہ عناصر تک محدود نہیں، اس کے پیچھے بین الاقوامی نیٹ ورکس بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ایسے میں ANF کی کارروائیاں قومی سلامتی کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ جب اٹھارہ ٹن منشیات جلتی ہیں تو دراصل اربوں روپے کے اس مکروہ کاروبار کو خاکستر کیا جاتا ہے جو ہماری سرحدوں اور ہمارے شہروں کو نشانہ بناتا ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے بچاو¿ کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید انسینیریٹر کا استعمال کیا گیا۔ کیونکہ ایک طرف ہم زہر کو ختم کر رہے ہوں اور دوسری طرف فضا کو آلودہ کریں، تو یہ دانشمندی نہیں ہوگی۔ اس پہلو پر بھی ANF کی پیشہ ورانہ سنجیدگی قابل تحسین ہے۔
مگر بحیثیت قوم ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اساتذہ کو چاہیے کہ وہ صرف نصاب تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار سازی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی کے بجائے آگاہی کو فروغ دے۔
میں یہ بات پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر بریگیڈیئر سکندر حیات چوہدری جیسے افسران کی قیادت میں یہ مہم اسی تسلسل سے جاری رہی تو آنے والے برسوں میں تعلیمی اداروں کے گرد منڈلاتے یہ سائے کمزور پڑ جائیں گے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس جنگ کو وقتی خبر نہ سمجھیں بلکہ قومی بیانیے کا حصہ بنائیں۔
منشیات کا خاتمہ صرف قانون کا تقاضا نہیں، نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ آج شیخوپورہ میں جلنے والی منشیات دراصل ایک امید کی علامت ہیں—یہ امید کہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، یہ امید کہ ہم ایک صحت مند اور باشعور معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
اور اگر یہ امید زندہ رہی، تو یقین جانیے، کوئی آئس، کوئی ہیروئن، کوئی زہر ہماری نسلوں کو شکست نہیں دے سکے گا۔

مزیدخبریں