پنجاب حکومت کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران کم آمدنی والے چالیس لاکھ مستحق خاندانوں میں رمضان نگہبان پروگرام کے تحت چالیس ارب روپے کی تقسیم بلا شبہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ یہ رقم بینک آف پنجاب کے جاری کردہ اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے تقسیم کی جا رہی ہے۔ مستحق خاندانوں کے تعین کے لیے جہاں پچھلے برسوں کے مستحق خاندانوں کی فہرست کو سامنے رکھا گیا ہے وہاں پنجاب حکومت کی طرف سے حال ہی میں گھر گھر میں جا کر کرائے جانے والے سوشیو اکنامک سروے کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔ بینک آف پنجاب کی طرف سے جاری کردہ اے ٹی ایم کارڈز کی تقسیم کے لیے فول پروف لائحہ عمل اختیار کیا گیا ہے کہ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو تقسیم کے عمل کا نگران اور ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف تعریف کی مستحق ہیں کہ اس سارے پروگرام کو مستحسن انداز میں ترتیب دلوانے اور پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے میں ان کی ذاتی کاوشوں، دلچسپی اور نگرانی کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے رمضان المبارک کے دوران اشیائے خورونوش ارزاں نرخوں پر بہم پہنچانے اور گراں فروشی ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو روکنے کے لیے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگرانی اور مانیٹرنگ کے ایک جامع لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال ہوں گی۔ پیرا کے اہلکار پورے پنجاب میں گراں فروشی ، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے لیے آپریشن جاری رکھیں گے۔ جو مہنگا سامان دے گا اس کی دکان تین دن کے لیے سِیل ہو گی۔ ان کے علاوہ پنجاب بھر میں رمضان سہولت بازاروں کا انعقاد ہو گا ، جن میں اشیائے خورونوش رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے ایک اور انقلابی اقدام یہ بھی اٹھایا ہے کہ شفافیت اور بر وقت امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے "مریم کو بتائیں ایپ" 1000 کا اجرا بھی کیا ہے۔ بلا شبہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے یہ سارے اقدامات قابلِ تحسین ہیں ۔ تاہم اہم بات ان فیصلوں ، اقدامات اور اعلانات پر عمل درآمد کی ہے کہ کِس حد تک ان ہر
عمل ہوتا ہے اور کہاں تک محض خانہ پُری اور سب اچھا ہے کہنے سے کام چلایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں خانہ پُری کے لیے سب اچھا ہے کہنے کا جو انداز ہے ، جواب دہی اور مانیٹرنگ میںجو تساہل برتا جاتا ہے اور پھر اعلیٰ سطح پر سستی شہرت کے لیے بلند بانگ دعوے اور وعدے تو کر دئیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل در آمد میں کوتاہی برتی جاتی ہے، یہ سب ایسے عوامل ہیں جن کی بنا پر بعض اوقات ہمیں نیک نیتی اور پورے جذبے اور ولولے سے کیے جانے والے فیصلوں اور اقدامات سے وہ نتائج حاصل نہیں ہوتے جن کو سامنے رکھ کر یہ فیصلے اور اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اللہ کرے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے رمضان نگہبان پیکیج اور سہولت بازاروں کے انعقاد کے فیصلوں کے ساتھ ایسا نہ ہونے پائے۔
یہاں پنجاب حکومت، بلکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ایک اور اہم اقدام جو عوامی سطح پر بہت اہمیت کا حامل سمجھا جاسکتا ہے کا تذکرہ کچھ ایسا بے جا نہیں ہو گا۔یہ وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کے فوٹو سے آویزاں بینروں کے ساتھ لوڈنگ گاڑیوں پر آٹے کے تھیلوںکی فروخت ہے۔ یہاں راولپنڈی میں اپنے گھر سے اپنے فرائضِ منصبی کے ادارے میں آنے جانے میں چار پانچ کلومیٹر مسافت کے دوران روزانہ ہی سڑک کی مرکزی جگہوں پر کم از کم دو یا تین لوڈنگ گاڑیاں ضرورنظر آتی ہیں، جن میں دس کلو اور بیس کلو کے آٹے کے سبز رنگ کے تھیلے لدے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی کپڑے کے بینر وںجن پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی فوٹو بنی ہوتی ہے پر آٹے کے تھیلوں کا نرخ دس کلو 905 روپے اور بیس کلو1810 روپے لکھا ہوتا ہے ۔ ان گاڑیوں سے لوگ آٹے کے تھیلے خریدتے نظر آتے ہیں لیکن کوئی زیادہ ہجوم یا رَش نہیں ہوتا۔ بلا شبہ ان گاڑیوں پر بیچے جانے والے آٹے کے تھیلوں کے نرخ سبسڈائزڈ سمجھے جاسکتے ہیں۔ آٹے کے تھیلوں کو رعایتی نرخوں پر مہیا کرنے کے لیے پنجاب حکومت کو کیا کرنا پڑا ہے اِ س حوالے سے پچھلے دنوں اخبارات میں چھپنے والی ایک خبر کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مارکیٹ میں گندم کی سپلائی اور ڈیمانڈ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے پنجاب حکومت نے پاسکو سے پانچ لاکھ ٹن گندم 4000 روپے چالیس کلو گرام کے نرخوں پر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر میںیہ بھی بتایا گیا تھا کہ پنجاب حکومت مارکیٹ میں یا فلور ملوں کو 3000 روپے چالیس گلو گرام کے حساب سے گندم مہیا کرے گی تا کہ لوگوں کو سستے داموں آٹا مہیا کیا جا سکے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت کو چالیس کلوگرام گندم پر ایک ہزار روپے سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔
پنجاب حکومت کے عوام کو سستے نرخوں پر آٹا مہیا کرنے کے لیے اضافی اخراجات خود برداشت کرنے کے اس فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کو یہ یاد دہانی کرانا کوئی ایسی غیر مناسب با ت نہیں ہو گی کہ پنجاب حکومت جس نے پچھلے دو سال کے دوران، گندم کے کاشتکاروں اور کسانوں سے سرکاری سطح پر گندم کی خریداری سے گریز کیا اور نہ ہی گندم کے امدادی نرخ مقرر کیے ، کیا اُس کے لیے یہ زیادہ مناسب نہیں کہ وہ آئندہ ہر سال خود گندم کی سرکاری سطح پر خریداری کرے تاکہ اس کے پاس گندم کا وافر سٹاک موجود ہو اور اُسے کسی اور ادارے سے مہنگے داموں گندم خرید کر عوام کو سستا آٹا مہیا کرنے کے لیے کسی طرح کی سبسڈی نہ دینا پڑے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پنجاب حکومت نے اس سال کے لیے گندم کی 3500 روپے چالیس کلوگرام جس امدادی قیمت کا اعلان کر رکھا ہے اُس کو بھی بڑھایا جائے اور اسے سندھ حکومت کے اعلان کردہ 4000 روپے چالیس کلوگرام امدادی قیمت کے مساوی یا اِس سے بھی کچھ زیادہ مقرر کیا جائے۔ میں ایک چھوٹا سا کسان ہوں اور بتا سکتا ہوں کہ گندم کی فصل کی کاشت کے لیے کتنے بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ ہل چلائی اور زمین کی تیاری اور ہمواری کے لیے ٹریکڑکا خرچ، مہنگے داموں بیج کی خریداری، مہنگی کھاد، فصل کی آبیاری ، جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے لیے مہنگے سپرے اور ان کی مزدوری ، فصل کے تیار ہونے پر کٹائی اور گاہنے کے اخراجات یہ سب اِتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کا کوئی شمار نہیں اور پھر پچھلے کئی سال سے گندم کی فصل پکنے کے موقع پر نا مناسب موسم وغیرہ کہ جس سے فصل کی پیداوار متاثر ہوتی ہے ۔ ان سب کو سامنے رکھا جائے تو پھر یہ کہنا نامناسب نہیں ہو گا کہ گندم کی 3500 روپے چالیس کلوگرام امدادی قمیت ہر لحاظ سے ناکافی ہے۔
میڈم چیف منسٹر صاحبہ.... تحسین و آفرین!
09:04 AM, 21 Feb, 2026