غزہ امن بورڈ کا افتتاحی اجلاس اور حماس

09:02 AM, 21 Feb, 2026

غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا جس میں غزہ سکیورٹی منصوبہ پیش کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔ اجلاس میں عالم اسلام کی سب سے بڑی عسکری طاقت پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف شریک ہوئے۔ عالم اسلام کی سب سے محترم مملکت سعودی عرب نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ درجنوں اہم عرب مسلم ممالک کے سربراہان و نمائندے بھی شریک تھے۔ اس بورڈ کے 26 بنیادی و اساسی ممبران ہیں جبکہ مجموعی طورپر 60 کے قریب ممبران پر مشتمل یہ بورڈ غزہ میں مکمل امن و امان قائم کرانے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کے ممبر ممالک میں اسرائیل بھی شریک ہے جس پر ہمارے ہاں بہت تنقید کی جاتی رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بورڈ میں پاکستان کے ساتھ اسرائیل بھی بیٹھا ہو گا اور ایسا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا تو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے وقت بھی ہوتا ہے کہ وہاں اسرائیلی نمائندہ بھی ہوتا ہے کبھی کبھی نیتن یاہو بھی موجود ہوتا ہے اور وہاں پاکستانی نمائندہ بھی شریک اجلاس ہوتا ہے۔ کیا اسے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنا سمجھ لینا چاہئے؟ جی نہیںایسا نہیں ہوتا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اسرائیلی نمائندگی کے باوجود اگر ہم وہاں شریک ہوتے ہیں اور ہمارا مو¿قف اسرائیل کے بارے میں متاثر نہیں ہوتا تو امن بورڈ میں اسرائیل کی موجودگی کے باوجود ہماری شرکت سے ہمارا مو¿قف متاثر نہیں ہوگا۔ وہاں اسرائیل ہی نہیں سعودی عرب بھی موجود ہے دیگر کئی ایسے ممالک موجود ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شرکت نہ صرف فلسطینیوں کے حق میں مو¿ثر لابنگ کا باعث بنے گی بلکہ بحیثیت مجموعی قیام امن کے لئے کی جانے والی کاوشوں کے ثمربار ہونے میں بھی ممدومعاون ثابت ہو گی۔
امریکی صدر نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران اپنی قیام امن کی کاوشوں کا ذکر کیا، گن کر بتایا کہ انہوں نے اب تک اتنی جنگوں کو رکوایا اور ایک اور بڑی جنگ رکوانے جا رہے ہیں۔غزہ میں پائیدار امن کا قیام اور اس کی تعمیرنو ان کے اہداف میں شامل ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک مکمل طور پر غیرروایتی سیاستدان ہیں انہوں نے دوسری بار انتخاب ہارنے کے بعد تیسری بار انتخاب جیت کر دوسری مرتبہ صدر بننے کا ریکارڈ قائم کر دکھایا ہے وہ بالکل غیرروایتی انداز میں امریکی مفادات کے لئے کام کرتے جا رہے ہیں۔ امریکی عظمت رفتہ اقتدار کی بحالی، امریکی معیشت کا استحکام اور عالمی چودھراہٹ کی بقا کے لئے وہ غیرروایتی انداز میں آگے بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ ان کا غیرروایتی انداز تھا اور ہے کہ وہ پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں اور پاکستان کی بھارت پر برتری کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہاتھوں بھارتی رافیل گرنے کاذکر انہوں نے اتنی بار کیا ہے کہ یہ اب مودی سرکار کی چھیڑ بن چکی ہے۔ مودی کی زبان کو تالا لگ چکا ہے وہ کسی ایسی تقریب میں شریک نہیں ہوتے جہاں ٹرمپ کی موجودگی یقینی ہو کیونکہ انہیں دھڑکا لگا رہتا ہے کہ انہیں دیکھ کر کہیں ٹرمپ پھر پاکستانی فتح اور بھارتی شکست کا ذکر نہ کرنا شروع کردیں۔ افتتاحی خطاب میں ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خوب تعریف کی۔ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شرکت پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ 
ہاں ایک بات اور بڑی اہم ہے وہ ہے اس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہ ہونا۔ یہ بات فی الاصل حیران کن بھی ہے اور پریشان کن بھی کہ قیام امن میں شریک دو فریقوں (اسرائیل و حماس) ، (اسرائیل و فلسطین) میں سے ایک فریق کی عدم موجودگی۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک فریق کی عدم موجودگی کے باعث کیا قیام امن کی کاوشیں کامیاب ہو سکتی ہیں؟ پھر ایک اور سوال بھی اہم ہے کہ فلسطینیوں کا حق نمائندگی کس کے پاس ہے؟ فلسطینیوں کے حقیقی نمائندے کون ہیں فلسطینی اتھارٹی یا حماس؟۔ پھر ایک اور سوال بھی اٹھتا ہے کہ قیام امن میں کلیدی کردار کون ادا کر سکتا ہے۔ حماس یا فلسطینی اتھارٹی؟۔ ویسے غزہ امن بورڈ گزشتہ سال اسرائیل، حماس امن معاہدے کے نتیجے میں قائم کیا گیا ہے تو اس طرح قیام امن میں اسرائیل کے مدمقابل فریق تو حماس بنتا ہے۔ امن بورڈ میں حماس کی عدم موجودگی، قیام امن کی کاوشوں کی کامیابی کو مشکوک بناتی ہے۔ ویسے قیام امن کے لئے ٹرمپ کا حماس کو غیرمسلح کرنے شرط پر اصرار بھی قیام امن کی کاوشوں کی کامیابی کو مشکوک بناتا ہے۔
1917 میں اعلان بالفور سے لے کر 1948 میں ریاست اسرائیل کے قیام اور اس کے بعد جاری عرب ، اسرائیل اور اسرائیل، فلسطین جنگ و جدل تک، اسرائیل ہر مقام پر اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے کوشاں ہے۔ اس کے پاس فکری و نظری رہنمائی بھی ہے۔ منزل و نشان منزل بھی ہے اور اس منزل تک پہنچنے کا منصوبہ و لائحہ عمل بھی ہے۔ وہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے سردھڑ کی بازی لگا رہا ہے اسے کامیابی بھی مل رہی ہے۔ ہم مسلمان، عرب اور فلسطینی سب حالت انکار میں ہیں افتراق و تفریق کا شکار ہیں۔ فلسطینی ستر سال سے ایک وطن کی تلاش میں ہیں وہ صدیوں سے اس سرزمین کے باسی تھے جہاں اسرائیل قابض ہے۔ جب ہزاروں سال قبل ابراہیمؑ ارض فلسطین میں تشریف لائے تھے تو فلسطینی اس وقت بھی یہاں آباد تھے پھر جب موسیٰؑ بنی اسرائیل کو ارضِ موعود کی طرف لے جانے والے تھے تو اس وقت بھی فلسطینی یہاں آباد تھے جہاں آج اسرائیل قابض ہے۔ فلسطینی اپنی شناخت تلاش کر رہے ہیں۔ اپنی زمین تلاش کر رہے ہیں۔

مزیدخبریں