اسلام آباد: پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ 14 سال کے طویل وقفے کے بعد ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہو گیا ہے، جس کی تصدیق عالمی مالیاتی ادارے (IMF) نے بھی کر دی ہے۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے معاشی استحکام کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستانی معیشت کے بہتر ہوتے ہوئے اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کا مشن 25 فروری سے پاکستان کا باضابطہ دورہ شروع کرے گا۔ اس دورے کے دوران ای ایف ایف (EFF) کے تیسرے اور آر ایس ایف (RSF) کے دوسرے جائزے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پر مہنگائی اب قابو میں رہی ہے، جو کہ معاشی پالیسیوں کے درست سمت میں ہونے کی علامت ہے۔
14 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ کا مثبت ہونا بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں بڑی کمی کی نوید ہے۔ آئی ایم ایف کا اعتراف بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت پیغام ثابت ہوگا۔ 25 فروری کا دورہ پاکستان کے لیے اگلے معاشی اہداف اور قسط کے حصول کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس ہونا اور مہنگائی کا گراف نیچے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت پٹڑی پر لوٹ رہی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے ساتھ آنے والے مذاکرات میں پائیدار ترقی کے لیے مزید اصلاحات پر بھی غور کیا جائے گا۔
معاشی بحالی کا سنگِ میل: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس، آئی ایم ایف وفد کی آمد کا شیڈول جاری
08:07 PM, 20 Feb, 2026