ہم تھانہ کلچر کے بارے میںجب سے ہوش سنبھالی ہے سنتے آ رہے ہیں، تھانہ کلچر اور کرپشن کو چولی دامن کا ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ ہر حکومت نے اس تھانہ کلچر کی مذمت کی ہے، عدلیہ تک اس تھانہ کلچر سے نالاں رہی ہے، یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ سالانہ سیکڑوں شہری عدالت ہائے عالیہ کے جج صاحبان کے حکم پر پولیس کے حبسِ بے جا سے نجات پاتے ہیں، اکثر مقدمات کی ناقص تفتیش کی بنا پر جج پولیس اہلکاروں کی سرزنش بھی کرتے رہتے ہیں لیکن پولیس ہے کہ اپنے معمولات میں تبدیلی لانے پر تیار نہیں ہے۔ لوگوں کو شکایت ہے کہ ایف آئی درج نہیں ہوتی، غیر قانونی حراستوں اور ذہنی و جسمانی تشدد کا سلسلہ عام ہے، رشوت لے کر جھوٹی ایف آئی آر درج کی جاتی ہیں، تفتیش کا عمل غیر شفاف اور ناقص ہے، عوام تھانوں کے نام سے ہی خوفزدہ رہتے ہیں۔
پولیس کا محکمہ جو جرائم کو روکنے اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے بنا اسے اختیارات دینے کا بنیادی مقصد امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنا ہے ۔ اس کے لئے پولیس کا فرض بنتا ہے کہ وہ تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے لیکن ہماری پولیس کا حال سب جانتے ہیںکہ وہ بجائے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے کہ ان کے لئے مصائب کھڑے کرنے میں مشہور ہے۔ پولیس اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والی قتل و غارت گری جرائم میں اضافہ اور دہشت گردی کے واقعات کو دیکھا جائے تو اس میں زیادہ کردار پولیس کا ہی نظر آتا ہے۔عموماً پولیس قتل کے مجرموں کو بھاری رشوت لے کر گرفتارکرنے کی بجائے بے گناہ قرار دے کر انہیں گرفتاری سے مستثنیٰ قرار دے دیتی ہے۔ جس سے جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بلند ہوتے ہیںاور ان کو سزا کا خوف جاتا رہتا ہے جس سے آہستہ آہستہ وہ عادی مجرم کی شکل اختیار کر لیتے ہیںجو کہ معاشرے کے امن و سکون کو غارت کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف سازشی عناصر سے مل کر بے گناہ لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ظلم اور زیادتی کرتے ہیں اور کبھی کبھار اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے بے گناہ اور نہتے شہریوں پر ظلم کر کے اپنی انا کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ پولیس جوکہ شہریوں کے جان و مال کی محافظ ہے اس کے کچھ اہلکاروں کا ایسا رویہ نہ صرف محکمہ بلکہ شہریوں کے لئے عذاب کے مترادف ہے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ ایسے ظلم کے رد عمل کو طور پر امن پسند شہریوں نے جرائم کا راستہ اختیار کر لیا اور معاشرے کے لئے ناسور کی حیثیت اختیار کر لی۔اس قسم کے واقعات بڑے تشویشناک ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تھانہ کلچر جرائم میں اضافے کا سبب ہے، ہر کوئی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ جب تک پولیس میں بامعنی اور بامقصد اصلاحات نہ لائی جائیں تھانہ کلچر میں بہتری نہیں لائی جا سکتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس قومی اتفاقِ رائے کے باوجود تھانہ کلچر پوری طرح جاری و ساری ہے کیونکہ سیاسی، مذہبی اور سرکاری اشرافیہ تھانہ کلچر کے ذریعے اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ ماضی میں ہمارے ہاں اربابِ اختیار نے اپنے دورِ اقتدار میں میرٹ کو نظر انداز کر کے پولیس میں اپنے اپنے لوگ بھرتی کرائے، ان غیر قانونی بھرتیوں میں کسی کا کردار دیکھا گیا نہ ان کا بیک گراؤنڈ، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بھر میں پولیس سیاست میں ملوث ہو گئی ہے۔ پولیس افسروں کے تقرر و تبادلے سیاسی بنیادوں پر ہوتے رہے، تمام اراکینِ اسمبلی کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے علاقے کے تھانوں میں ان کی مرضی کے ایس ایچ او تعینات کئے جائیں تا کہ وہ انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکیں اور پولیس افسران اپنی مرضی کی پوسٹنگ لینے کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
جب تک پولیس فورس کو کسی چیک اینڈ بیلنس کے تحت نہیں لایا جاتا ہے اسے کسی صورت سیاسی اثر و رسوخ سے آزادی حاصل نہیں ہو سکتی ہے اور جب تک پولیس سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد نہیں ہوتی عوام سے انصاف کر سکے گی نہ قانون کے مطابق برتاؤ اور یوں جہاں ظلم و جبر عوام کا مقدر بنے گا وہاں ملک و قوم اور نظام کی بے توقیری کا سامان بھی موجود رہے گا۔ ملک میں امن و امان اور پولیس کو اپنی حدود کے اندر رکھنے کے لئے پولیس نظام کی اصلاح بے حد ضروری ہے اور یہ اصلاح اس وقت تک نہیں ہو سکتی ہے جب تک آئینی طور پر آپ پولیس کو عوام کے سامنے جوابدہ نہ بنائیں، وہ محض مخصوص مفادات کی محافظ نہ رہے بلکہ عوام کی خادم ہو، تھانے میں ہر انسان کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جائے، پولیس افسروں کا بھی احتساب ہو، تھانے امن و عافیت کے مرکز بن جائیں اور انسانی حقوق کی پامالی کا تصور ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔
اس تناظر میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے پولیس اصلاحات کا بیڑا اٹھایا ہے۔ جو صوبے کی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ بنے گا۔ عموماً پولیس اصلاحات نافذ ہوتی ہیں تو ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کو بہتر تحفظ ملے، شفافیت بڑھے اور پولیس زیادہ پروفیشنل ہو، بالخصوص اگر پولیس کے اختیارات کا بہتر نگرانی کے ساتھ توازن بنایا جائے تو کرائم کی روک تھام اور عوام کا اعتماد دونوں بڑھ سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پولیس کی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے عوامی اعتماد میں کمی آئی تھی لیکن اب یہ اصلاحات اس خلا کو پر کرنے کے لئے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے پولیس کو عوام کی خدمت گزار اور احترام کرنے والی فورس بنانا ضروری ہے اور کرپشن بد تمیزی یا طاقت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ جس کے لئے حکومتِ پنجاب نے شفاف بھرتی کے عمل کا نفاذ، پولیس کی تربیت میں بہتری، کمیونٹی کے ساتھ رابطے بڑھانا اور احتساب کا مٔوثر میکانزم بنانا جیسے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی جیسے کیمرے اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ سسٹمز کو بھی فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جوابدہی بہتر ہو سکے۔ یہ اقدامات نہ صرف پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی بحال کریں گے۔ پنجاب حکومت چاہتی ہے کہ پولیس کو خوف کی علامت نہیں، احترام کی علامت بننا چاہئے، جو پنجاب پولیس اصلاحات پراجیکٹ کا بنیادی مقصد ہے۔
پنجاب پولیس اصلاحات: درست سمت قدم
09:07 AM, 20 Feb, 2026