دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ ایک خاص حد تک صہیونی اور امریکی دبائو میں کام کر رہے ہیں، پس خبر دی جا رہی ہے جو ان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے یا ان کی ناکامیوں پر پردہ ڈالتی ہے، سوشل میڈیا اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے وسائل محدود ہیں یوں وہ بین الاقوامی میڈیا اور ایک خاص لابی سے تعلق رکھنے والے میڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہ طریقہ کار امریکہ کی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لئے نیٹو فورسز کے تعاون سے عراق پر حملے کے موقع پر اختیار کیا گیا۔ سی این این واحد گروپ تھا جسے میدان جنگ کی کوریج کے لئے خصوصی سہولتیں اور مالی مدد فراہم کی گئی جب سے اب تک کسی بھی امریکی مہم جوئی میں میڈیا کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا ان کی منصوبہ بندی کا اہم جزو قرار پایا ہے۔
امریکی صدر کی پریس ٹاک میں اکثر ایک منظر دیکھنے کو ملتا ہے وہ مخالف لابی سے تعلق رکھنے والے یا آزاد میڈیا گروپ کے نمائندوں کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر برانگیخت ہو جاتے ہیں۔ صرف اس کے سوال کا جواب دینے سے ہی گریز نہیں کرتے بلکہ اس کی بے عزتی کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف جب وہ عالمی میڈیا نمائندوں کے سامنے یوکرین کے صدر زیلسنکی یا کسی اور کمزور ملک کے سربراہ کے ساتھ محفل سجاتے ہیں تو بھی ان کا رویہ جارحانہ ہوتا ہے لیکن حیرت کی بات ہے وہ روسی، بھارتی یا چینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں اور پریس ٹاک کے دوران انتہائی مہذب رہتے ہیں وہ تمام تر اختلافات اور رنجشوں کے باوجود طاقتور ممالک کے سربراہوں کو اپنا انتہائی قریبی دوست کہہ کر مخاطب کرتے ہیں حالانکہ دنیا جان چکی ہے ڈونلڈ ٹرمپ جسے اپنا دوست کہتے نظر آئیں اسے مزید کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔
دنیا کے مسلم متمول ترین ملکوں کو بہت دیر میں سمجھ آئی کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے لغوی معنی کے علاوہ اور کیا کیا مطلب ہو سکتے ہیں جب انہیں سمجھ آئی تو بہت دیر ہو چکی تھی، عراق لیبیا مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے، کویت مصر اور شام مغلوب، اردن پوچھ کر سانس لیتا تھا جبکہ خلیج کے ممالک کو کسی بھی وقت گلے سے پکڑنے، ان کی دولت اور تیل و گیس کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے وہاں امریکی فوجی اڈے قائم کر دیئے گئے۔ اس حوالے سے جس ملک کو سب سے پہلے ہوش آیا وہ پاکستان ہے، جس نے ملک ٹوٹنے کے بعد اسے ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا جبکہ ایک وفقے سے دنیا کے دیگر ممالک نے بھی امریکی و صہیونی تسلط سے نکلنے کے لئے ہاتھ پائوں مارنے شروع کر دیئے۔ جاری ایام کی بڑی خبر جس نے امریکہ، اسرائیل اور یورپ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور کسی کو اس پر بات کرنے کی اجازت نہیں، وہ یہ ہے کہ تمام تر پابندیوں کے باوجود دو اسلامی ملک نیوکلیئر طاقت بن چکے ہیں۔ دونوں نے اس حوالے سے ابھی تک بہتر حکمت عملی کے تحت اشارۃً بھی کوئی بات نہیں کی لیکن باخبر ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنا نام نہ لینے کی شرط بھی عائد کرتے ہیں، ان کے مطابق ایک ملک تو اگر کل چاہے تو ایٹمی دھماکہ کر سکتا ہے جبکہ دوسرے ملک کے یہاں تیاری یہاں تک پہنچ چکی ہے چولہے پر چائے بنانے کے لئے رکھا پانی جوش مار رہا ہے، اس میں حسب ضرورت پتی ڈالنے کے بعد دودھ ڈالا جا چکا ہے بس ایک ابالا اور آنے کے بعد چینی ڈالی جائے گی اور چائے تیار سمجھئے۔
غلام بین الاقوامی میڈیا جس دوسری اہم خبر پر پردہ نہیں بلکہ دبیز کمبل ڈال رہا ہے وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے۔ اتنی خبر تو دی گئی کہ روس، چین اور ایرانی بحریہ نے اس علاقے میں بحری مشقیں شروع کی ہیں اور امریکہ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا کہا۔ بحری بری یا فضائی مشقیں ایک منصوبہ بندی کے تحت شروع کی جاتی ہیں، ان کا دورانیہ مہینوں یا سالوں پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ یہ چند ہفتوں کی ہوتی ہیں۔ انہیں اپنے شیڈول کے مطابق ختم ہونا ہوتا ہے۔ پس یہ مشقیں ختم ہو گئیں لیکن مشقیں ختم ہونے کے بعد روس اور چینی جہاز آبدوزیں حملہ کرنے کی صلاحت اور دفاع کرنے والی برق رفتار موٹربوٹس کہاں گئیں۔ یہ کوئی نہیں بتا رہا، اصل خبر یہی ہے یہ تمام جہاز ان کے اٹیک اور دفاع سے سجے لوازمات اپنی اپنی پوزیشن پر پہنچ چکے ہیں۔ ایک ٹرمپی حماقت کے بعد کچھ عجب نہیں دنیا کو ایک مختلف منظر دیکھنے کو ملے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے میں شامل ائیرکرافٹ کیرئیر یقینا بہت خطرناک ہیں لیکن جو ہتھیار انہیں ڈبو سکتے ہیں وہ ان سے زیادہ خطرناک ہیں۔
ہالی وڈ نے ’’ٹائی ٹینک‘‘ نامی خوبصورت فلم بنائی، اس فلم میں پہلی مرتبہ ایک دیوہیکل مسافر بحری جہاز کو برف کے تودے کے ساتھ ٹکرانے کے بعد ٹوٹتے پھوٹتے اور ڈوبتے دکھایا گیا، عین ممکن ہے اب امریکی صدر مہمانی فلموں کے شوقین فلم بینوں کو ایک ائیرکرافٹ کیرئیر تباہ ہوتے اور ڈوبتے ہوئے دیکھنے کا موقعہ دیں۔ یہ جہاز ڈوبنے کا مطلب امریکہ کی ناک اور دم کٹنا ہے۔ امریکہ اور یورپ آبنائے ہرمز بند ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایران دنیا کو بتائے گا کہ جغرافیہ بطور ہتھیار کیسے استعمال کرتے ہیں۔ ہم تو آج تک چا ر موسموں، زرخیز زمینوں، اناج کے انباروں اور معدنیات کے خزانوں حتیٰ کہ اپنے ایٹم بم سے بھی اپنے دشمنوں کو نہ ڈرا سکے۔ آج ہم پر سوا سو ارب ڈالر کا قرض ہے اور ہم ہیں دوستو، راتوں کا پچلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو!۔۔۔ آبنائے ہرمز وہ تنگ بحری راستہ ہے جو خلیج فارس کو بحرعمان اور بحر عرب سے جوڑتا ہے۔ یہ دنیا میں تیل اور گیس تجارت کا حساس ترین راستہ ہے، یہاں سے روزانہ قریباً بائیس ملین بیرل خام تیل ایک طرف سے دوسری طرف جاتا ہے۔ دنیا کو جانے والے اس تیل کی مالیت چھ سو ارب ڈالر سے قدرے زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ایل این جی کا بیس فیصد اسی راستے دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے، جس کی مالیت چار سو ارب ڈالر ہے، گویا اس راستے سے صرف تیل اور گیس کی تجارت کا حجم ایک کھرب ڈالر سالانہ ہے۔ دنیا کی بڑی اقتصادی قوتوں کا انحصار اس بحری راستے پر ہے جن میں امریکہ چین جاپان جنوبی کوریا بھارت اور نصف سے زائد یورپی ممالک شامل ہیں، جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے ساتھ ہی ان ممالک کی اقتصادی سانسیں ناہموار ہونا شروع ہو جائیں۔ یہی ایران کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جبکہ اس سے قبل ایرانی میزائل اسرائیل تک پہنچ چکے ہوں گے اور امریکہ جن بحری جہازوں پر نازاں ہے ان میں کوئی بدقسمت جہاز اپنے ہزاروں فوجیوں سمیت زیر آب جاتا نظر آئے۔ یہ ایک واقعہ قیام اسرائیل، غزہ میں پیس بورڈ اور امریکی عزائم کو خاک میں ملا سکتا ہے، اس کے علاوہ کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں، ان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
ایک واقعہ اور عزائم خاک
09:04 AM, 20 Feb, 2026