قائد کا پاکستان اور سیاسی تربیت کی اہمیت

09:04 AM, 20 Feb, 2026

بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میڈیکل کالج کھولے بغیر معاشرے میں ڈاکٹر پیدا کیے جا سکیں یا پھر انجینئرنگ یونیورسٹی کے بغیر معاشرے میں انجینئرز کا وجود بھی نظر آئے ۔ تربیت کے بغیر تو آپ رنگروٹ نہیں بنا سکتے چہ جائیکہ آپ جرنیل بنانے کا سوچنا شروع کردیں۔ یہ سب کچھ انسانی تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہوتاہے کہ سماج میں ہمیں ہر شعبے کا ماہر میسر آتا ہے ۔ زندگی کے عام مسائل کو حل کرنے کیلئے بھی ہمیں تربیت یافتہ ہنر مند لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ان ہنر مند لوگو ںنے اپنا ہنر یا تو کسی ادارے سے سیکھا ہوتا ہے یا پھر یہ نسل در نسل اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ اگر معاشرہ تربیت یافتہ انسانوں کے بغیر نہیں چل سکتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کاروبارِ ریاست بغیر تربیت یافتہ افراد کے چلایا جا سکے اسی غرض سے ریاست نے افسروں کی فوج تیار کرنے کیلئے امتخانات ٗ انٹرویوز ٗ میڈیکل ٹیسٹ ٗ نفسیاتی ٹیسٹ اور اکیڈمیاں بنا رکھی ہیں تاکہ یہ افسر شاہی عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت کے نمائندوں سے ہر کام آئین اورقانون کے مطابق کروا سکے ٗ اور یہیں سے وہ بدقسمتی شروع ہوتی ہے جو پاکستان کے ہر گھر تک پہنچ جاتی ہے کیونکہ ووٹ عوام حکومتی نمائندوں کودیتے ہیں جو غیر مستقل ہوتے ہیں اور اُنہوں نے پانچ سال بعد پھر عوام سے جا کر دوبارہ ووٹ لینا ہوتا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی ایک اسمبلی میں سو فیصد وہی نمائندے منتخب ہو کر نہیں آئے جو گزشتہ اسمبلی میں خدمات سرانجام دے چکے ہوتے ہیںجبکہ سرکاری افسران ریاست کے مستقل نمائندے ہوتے ہیں اور اگلی حکومت کو بھی خدمات دے رہے ہوتے ہیںصرف اُن کے غیر تربیت یافتہ آقا بدلتے ہیں۔ پاکستان میں اشرافیہ بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیاست کا رخ کرتی ہے اور ازاں بعد اعلیٰ تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے جلد کاروبار ریاست و حکومت سمجھ لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی مٹی سے گہرا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے وہ عام آدمی کے حقیقی مسائل اور اُن کے حل سے واقف نہیں ہوتے۔دیکھنے میں تو یہاں تک بھی آیا ہے کہ تعلیم و تربیت تو دور کی بات عمر بھر سیاسی امور سے لا تعلق رہنے والے لوگ بھی ’’ مقدس شجروں کی وجہ سے اُس اسمبلی کا حصہ بن جاتے ہیں جس نے اگلے پانچ سال کیلئے کروڑوں انسانوں کی فلاح کیلئے قانون سازی کرنا ہوتی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اس کام کی کبھی ذمہ داری نہیں لی اور بائیں بازو کے جن جماعتوں نے کبھی اس ملک میں تربیت کا ذمہ لیا وہ ہمیشہ زیر عتاب رہیں ٗ جس کی وجہ سے وطن عزیز کو چلانے کیلئے تخلیقی صلاحیت سے مالا مال سیاستدان میسر نہ آ سکے اور قیادت سے لے کر ورکرز تک غیر تربیت یافتہ سیاسی ورکروں کا ایک ایسا ہجوم منظرِ عام پر آ گیا جو اپنے اپنے سیاسی مزاروں کے مجاور تو بن گئے لیکن کاروبار یاستِ و حکومت چلانے کی صلاحِیت سے اُن کا دور دور تک کا واسطہ نہ تھا ۔جس کے نتیجہ میں بعض اوقات ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملے جو ریاست کی بدنامی کا سبب بنے اوردیر تک ملکی معیشت اور عام آدمی کو مصیبت میں رہنا پڑا ٗ اداروں کی بدنامی ہوئی ٗ عالمی سطح پر جگ ہنسائی اور ہمارے دشمن ممالک کو پروپیگنڈا کا موقع ملا ۔ سیاسی تربیت افراد یا گروہوں کو سیاسی زندگی ٗفنِ حکمرانی اور اپنے ریاستی امور کو مکمل سمجھنے میں موثر طریقے سے حصہ لینے کے لیے تعلیم و تربیت کے ایک منظم عمل کا نام ہے۔جس میں سب سے پہلے انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ انسانی معاشرہ کیسے تشکیل پایا اور انسانی معاشروں میں وقت کے ساتھ ساتھ ادارے بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ ابتدائی قبائلی نظام سے دنیا جدید ریاستوں تک کیسے پہنچی اور مختلف ریاستوں میں چلنے والے نظام ِ حکومت کیا ہیں ؟ان ریاستوں میں مضبوط معیشت کا کیا کردار ہوتا ہے اور اس سارے عمل کو معاشرہ ٗ ادارے ٗ حکومت اور ریاست کا ارتقائی عمل کہتے ہیں جس سے جانکاری سیاسی قائدین اور ورکرز کیلئے انتہائی اہم ہوتی ہے ۔ ورنہ جنرل باجوہ اور فیض حمید عمران نیازی اور میاں محمود الرشید کی تربیت سی ایس ایس اکیڈمی سے کراتے رہے ہیں لیکن بچے کو کہانی درمیان سے سنائیں تو انہیں کبھی سمجھ نہیں آتی اور نہ ہی لیڈر ریڈیمیڈ تیار ہوتے ہیں ۔
برادرم شعیب صدیقی پنجاب اسمبلی کے ایم پی اے ہیں لیکن چودہ کروڑ انسانوں کی یہ اسمبلی تو ایم پی ایز سے بھری پڑی ہے لیکن شعیب صدیقی اس کے ساتھ استحکام ِ پاکستان پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں ۔2004ء میں صدر اور کینٹ کے علاقے سے وہ پہلی بار ایم پی اے کے الیکشن میں اترے تو عمر سرفراز چیمہ(سابق گورنر پنجاب) اُن کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار ٗ اور میں بطور جنرل سیکرٹری لاہور عمر سرفراز کا کمپئین انچارج تھا ۔ لیکن سیاست کی دوستیاں اور اختلافات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہم نے آج تک اپنے بچوں کو یہ نہیں بتایا کہ سیاست میں اختلاف کرتے ہیں مخالفت نہیں ٗ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کلٹ کا شکار ہو گئے اس کیلئے میں کبھی پاکستانی بچوں کو اِس کا جرم وار نہیں ٹھہراتا کیونکہ جن کی ذمہ داری تربیت کرنے کی تھی انہوں نے اپنا فرض پورا نہیں کیا ۔شعیب صدیقی جنرل سیکرٹری آئی پی پی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے سیاسی ورکروں کی تربیت کے ایک مستقل پروگرام کا ذکر کیا اور پھر ہم نے اس پر گھنٹوں بات کی ۔ شعیب صدیقی ایک سیاسی تربیتی نصاب کو ٗ نظریہ ٗ اداروں ٗ قیادت ٗ پالیسی اور مشق سے ترتیب دینا چاہتا ہے،جو متوازن فکری، اخلاقی اور عملی ترقی کو یقینی بنا سکے۔ وہ سیاسی تربیت کے ذریعے پہلے مرحلے میں ماسٹر پولیٹکل ٹرینر پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ مرکز سے لے کر یونین کونسل تک وہ حقیقی استاد میسر ا ٓ سکیں جو پاکستان اور اِس اداروں کی اہمیت ٗ نظریہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کیلئے جمہوریت کے فروغ اور اسلامی نقطہء نظر کی خوبصورت وضاحت کرسکیں ۔جس کا واحد مقصد ہرحال میں حب الوطنی اور آئین کے دائر ے میں رہتے ہوئے احتجاج اور اپنے مطالبات پیش کرنے کا طریقہ کار سیکھنے کے بعد سیاسی ورکر سماج میں بہترین خدمات سرانجام دے سکیں ۔ شعیب صدیقی کا خیال ہے کہ اس سے آئی پی پی کے نظریاتی ورکرز بھی پیدا ہوں گے اورمستقبل کی جوان قیادت بھی ٗ جس سے پاکستان زیادہ بہتر اور محفوظ ہاتھوں میں ہو گا اور اِن تربیت یافتہ ورکروں کو جعلی نعروں اورنا قابل ِ عمل پالیسیوں سے سبز باغ دکھا کر گمراہ بھی نہیں کیا جا سکے گا۔ میں دیر تک شعیب صدیقی کی گفتگو سنتا رہا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ کسی سیاسی جماعت کے تنظیمی عہدہ دار کے دماغ میں یہ عظیم منصوبہ آیا تو سہی ۔ کہ اس کے بغیر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اقبال اور قائد کا پاکستان بنایا ہی نہیں جا سکتا ۔

مزیدخبریں