وفاقی حکومت کی 8,404 ارب روپے کی ادائیگیاں: وزیراعلیٰ کے بقایاجات کے دعوے کو مالی اعداد و شمار نے غلط ثابت کر دیا

03:32 PM, 20 Dec, 2025

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کو 2010 سے 2025 تک 8,404 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں، جس سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے 2200 ارب روپے کے بقایاجات کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس رقم میں مختلف قسم کی مالی معاونت شامل ہیں، جن میں این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) کے تحت 5,867 ارب روپے، دہشت گردی کے اثرات کے لیے 705 ارب روپے، نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 704 ارب روپے اور آئی ڈی پیز کے لیے 117 ارب روپے کی رقم شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق  خیبر پختونخوا حکومت کو 2010 سے اب تک وفاق سے 5,867 ارب روپے کا سو فیصد حصہ مل چکا ہے، جو ہر 15 دن بعد باقاعدگی سے ادا کیا جاتا ہے۔ وفاق نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے اضافی بوجھ کی وجہ سے 705 ارب روپے فراہم کیے۔ 2019 سے لے کر اب تک وفاق نے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 704 ارب روپے منتقل کیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو آئی ڈی پیز کے لیے 117 ارب روپے اضافی فراہم کیے۔ وفاق نے خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 115 ارب روپے مختص کیے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت فنڈز کسی صوبے کے لیے واجب الادا رقم نہیں ہوتے، بلکہ یہ منصوبوں کی پیش رفت اور مالی کارکردگی پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس لیے PSDP فنڈز کی عدم اجرائی کو این ایف سی بقایاجات یا وفاقی واجبات کے طور پر پیش کرنا مالی قواعد کی غلط تشریح ہے۔


اعداد و شمار کے مطابق، وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے مالی حقوق کو پورا کیا ہے اور اس پر کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو شفاف، منصفانہ اور کارکردگی پر مبنی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، وفاقی حکومت این ایف سی کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے اپنے مالی اقدامات میں شفافیت، صوبوں کے ساتھ مشاورت اور کارکردگی پر مبنی معاونت کو ترجیح دی ہے تاکہ خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ اعداد و شمار واضح طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے 2200 ارب روپے کے بقایاجات کے دعوے کو غلط ثابت کرتے ہیں اور وفاقی حکومت کے مالی اقدامات کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں۔

مزیدخبریں