ایم او یو پر عملدرآمد مسئلے کا حل 

09:24 AM, 21 Aug, 2026

ماہ اگست قریب ختم ہونے کے قریب ہے ستمبر میں اسی طرح موسم تبدیل ہوتا ہے جس طرح فروری مارچ میں فرق بس اتنا ہوتا ہے ایک تبدیلی کے بعد موسم گرما جبکہ دوسری تبدیلی کے بعد موسم سرما قدرے قریب ہو جاتاہے پاکستان میں موسم کبھی کلینڈر پر درج ہوتے تھے اب دنیا بھر کے موسم کلینڈر کے محتاج نہیں رہے موسمیاتی تبدیلوں نے بہت کچھ بدل کے رکھ دیا ہے لیکن پاکستان میں بہت کچھ اب بھی موسموں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ماہ ستمبر میں پانی سے بھرے بادلوں کے پیٹ ہلکے ہوجاتے ہیں سیلابی پانی گزر جاتا ہے مٹی سے اٹے جھاڑ جھنکار پورے درخت بارشوں سے غسل کے بعد خوبصورت نظر آتے ہیں پھولوں کی رعنائیوں کے ساتھ چہروں کی رونقیں لوٹ آتی ہیں دنیا بھر میں لوگ گھروں سے نکلتے ہیں اور نئی دنیائیں دریافت کےلئے سفر اختیار کرتے ہیں ہمارے طور طریقے رسم ورواج اور شغل دنیا سے بہت مختلف ہیں موسم خوشگوار ہوتے ہی شادیوں کا سیزن شروع ہوجاتا ہے جو شادی نہیں کرسکتے یا ان کی شادی کے راستے میں رکاوٹیں موجود ہوں وہ گھر سے بھاگنے کےلئے بھی اسی موسم کا انتخاب کرتے ہیں شادی یا گھر سے بھاگنے کا انجام مختلف نہیں ہوتا اس موسم میں زمین ودل بوجھ اترنے کے بعد ہلکے جبکہ صف نازک کے پاﺅں بھاری ہوتے ہیں۔
 جون جولائی میں اٹھائی گئی فصلوں کی آمدن جیبوں میں منتقل ہو چکی ہوتی ہے بس ستمبر میں مختلف قسم کے ادھار چکانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے پرانی دشمنیاں جاگ اٹھتی ہیں جان کے بدلے جان لینے کے واقعات اسی موسم میں زیادہ نظر آتے ہیں یوں تو قتل وغارت کا اب کوئی ایک موسم نہیں رہا جس طرح مہنگائی ہرموسم ہرمہینے بڑھتی رہتی ہے اسی طرح قتل وغارت گری بھی بڑھتی نظر آتی ہے گزشتہ دس برس میں جو نئی انڈسٹری وجود میں آئی ہے وہ اغواءبرائے تاوان اور سائبر ڈکیتیاں ہیں جبکہ روایتی ڈکیتیاں بھی کم نہیں ہوئیں اغوا ءہو جانے والوں یا گھر بیٹھے بٹھائے لٹ جانے والوں کی پہلی اور آخری امید اب سہیل ظفر چٹھہ اور انکا محکمہ ہے ۔ تندی بار مخالف نے احمدمحی الدین نامی ایک روشن چراغ گل کر دیا ہے ان کے نقش قدم پر چلنے کی خواہش رکھنے والے کئی اور دیوانے فرزانے سامنے آئے ہیں فی الحال تو ان کی کارکرد گی پوڈ کاسٹ تک نظر آتی ہے بقول سابق وزیراعظم پاکستان جناب محمد خان جونیجو پتہ تو اس وقت چلے گا جب مظلوموں کو ان کا حق اور انصاف ملتا نظر آئے گا انصاف اب بہت مہنگا ہوگیا ہے صرف انصاف ملنے سے کام نہیں چلے گا سستا اور فوری انصاف ہی زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کے زخموں پر اگر کسی نے مرہم رکھا ہے تواس ملک کا نام ایران ہے ایران ہمت اور حوصلہ نہ کرتا تو آج فلسطین ختم اور اس زمین پر اسرائیل بن چکا ہوتا مصر شام اور حجاز کا بیشتر علاقہ اس میں شامل کیا جاچکا ہوتا نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ قومی ہیرو کا درجہ پاکر اپنے اپنے آئین میں من پسند تبدیلیاں کرتے اور تاحیات وزیراعظم اور صدر بن جانے کا راستہ ہموار کرچکے ہوتے لیکن اپنے تاحیات عہدوں کے باوجود انہیں دنیا بھر میں موجود واہیات ترین افراد کی فہرست میں سرفہرست مقام دیا جاتا۔
امریکی صدر نے ایک موقع پر آبنائے ہرمز کو اپنا علاقہ قرار دینے کا خیال ظاہر کیا تھا اب ایران کی طرف سے اس کا جواب آیا ہے اور طنزیہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا علاقہ کہا گیاہے ایک طرف ایرانی فوج اور عوام نے امریکہ واسرائیل کے خلاف محاذسنبھال رکھا ہے تو دوسری طرف ایرانی سائبر ماہرین حیران کن کارنامے انجام دے رہے ہیں چند ہفتے قبل امریکہ کی چھ ریاستوں میں پانی کی ترسیل کے آٹومیٹک نظام کو جام کر دینے کی خبر آئی امریکی ماہرین صبح سے شام تک اسے بحال کرنے کی کوششیں کرتے رہے مگر ناکام رہے بالآخر انہوں نے اپنے پرانے مینوئل نظام کے مطابق بحال کیا ایسا ہی ایک سائبر حملہ ایک امریکی ڈیزاسٹر کیا گیا جس کے بعد اس کی بجلی اور بجلی سے چلنے والی ہر شے بند ہوگئی ہائیڈارلک سسٹم ناکارہ ہوگیا ایئرکنڈیشنگ ختم ہوگئی سمندر کے سفر میں حبس اور نمی سے مقابلہ رہتا ہے دونوں میں اضافہ ہو جائے تو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے امریکی جنگی جہاز پر موجود فوجیوں کادم گھٹنے لگا تو انہوں سمندر کے پانی میں چھلانگیں لگانی شروع کردیں جہاز پر تین روز تک بجلی بند رہنے سے خوراک کا ذخیرہ تلف ہونا شروع ہوگیا جہاز کی بجلی بحال کرانے کےلئے اسے قریب ترین ساحل پر لنگر انداز ہونا پڑا نظام بحال ہوا تو فوجیوں کی جان میں جان آئی یہ سائبر حملے اتنے ہی شرانگیز تھے جتنے شدید حملے مشرق وسطیٰ کے قریب دس فوجی اڈوں پر کئے گئے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں موجود چالیس ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کو یہاں سے منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے فوجی سازوسامان اور فوج کو ڈیگوکارشیا اور اسرائیل کے مختلف اڈوں پر رکھا جارہا ہے یہ سب کچھ اسرائیل اور امریکہ میں موجود یہودی لابی کی تسلی کےلئے کیا جارہا ہے تاکہ انہیں باور کرایا جاسکے کہ امریکہ انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جارہا بلکہ ان کے ساتھ کھڑا ہے اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں یہودیوں کی زیادہ سے زیادہ مدد حاصل کی جاسکے۔
 ایران کی طرف سے جاری ایک پیغام نے پورے امریکہ اور امریکی فیصلہ سازوں کوہلاکر رکھ دیا ہے اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایران 2029 تک جنگ جاری رکھے گا یعنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زمانہ اقتدار میں جنگ بند نہیں ہوگی اور انہیں جنگ بندی کا کریڈٹ نہیں دیا جائے گا جبکہ دوسری صورت میں امریکہ کو ایران کے تمام مطالبات تسلیم کرنا ہونگے جن میں کوئی ایک مطالبہ بھی ناجائز نہیں بدلتے موسم اور بدلتی بین الاقوامی صورتحال میں ایرانی قیادت اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ بہت اہمیت کا حامل ہے امریکی صدر ہرقیمت پر مڈٹرم الیکشن سے قبل ایک معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ ایران ایم او یو پر عملدرآمد چاہتا ہے مسئلے کا واحد حل اس پر عملدرآمد ہی ہے۔

مزیدخبریں