شفاءمن جانب اللہ ہے 

09:23 AM, 21 Aug, 2026

پاکستان کی سیاست میں بعض کردار ایسے ہیں جو اقتدار میں ہوں تو عوام بحران سے دوچار رہتی ہے اور اقتدار سے باہر ہوں تو ریاست پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔ عمران نیازی بھی شاید پاکستانی سیاست کا ایسا ہی کردار بن چکے ہیں۔ ان کی سیاست کا بڑا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ”اصول“ کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا مگر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر انہی اصولوں سے بارہا انخراف کرتے رہے ۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست 2026 ءکو اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران نیازی کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفاءانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ، ان کے ذاتی معالج کی شمولیت اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ اب یہ سمجھنا پڑے گا کہ کیا یہ صرف طبی ریلیف ہے یا آنے والے سیاسی ریلیف کا ابتدائیہ؟فی الحال کسی ڈیل، این آر او یا سیاسی سمجھوتے کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ میں عدالت، بیماری، جیل اور سیاست کا باہمی تعلق اتنا پیچیدہ رہا ہے کہ ہر بڑے عدالتی ریلیف کے بعد سیاسی قیاس آرائیاں جنم لیتی ہیں۔عمران خان کے سیاسی سفر کا جائزہ لیا جائے تو سب سے دلچسپ تضاد یہی ہے کہ انہوں نے عوام کو تبدیلی کے نام پر جو خواب دکھائے، اقتدار میں آنے کے بعد ان خوابوں کی تعبیر اتنی مختلف نکلی کہ سب وعدے محض شیخ چلی کا خواب بن کررہ گئے۔
2018ءکے منشور میں تحریک انصاف نے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پولیس کو غیر سیاسی بنانے، اداروں میں اصلاحات، احتساب کو مضبوط کرنے، فوری انصاف، برآمدات بڑھانے، معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانے اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے جیسے وعدے بھی کیے گئے تھے۔اورپھر ”سو دن“ کا وہ تاریخی وعدہ بھی سامنے آیاتھا جس پرصرف ذہنی مریض ہی یقین کرسکتے تھے ۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی عمران نیازی کو معلوم ہو گیا کہ حکومت چلانا تقریر کرنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔جو سیاستدان برسوں تک سیاسی حکومتوں کے خلاف فوجی مداخلت اور طاقتور اداروں کی مداخلت پر تنقید کرتا رہا، اسی عمران نیازی کے دور حکومت میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ”اصول“ اور ”اقتدار“ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوئے اور اصول ہار گیا۔
پھر وہی عمران خان جب اقتدار سے باہر ہوا تو فوجی قیادت پر ان کے حملے پاکستانی سیاست کا روزمرہ موضوع بن گئے۔ ان کے حامی اسے ”حقیقی آزادی“ کہتے رہے، مخالفین اسے ریاستی اداروں کے خلاف مہم قرار دیتے رہے۔ 9 مئی 2023ءکے واقعات نے اس کشمکش کو ایک خطرناک مرحلے تک پہنچا دیا جب فوجی تنصیبات اور حساس مقامات پر حملے ہوئے۔ عمران خان اور تحریک انصاف نے ان واقعات اور ان سے متعلق مقدمات کے سیاسی محرکات سے انکار کیا جبکہ ریاست نے انہیں سنگین جرم قرار دیا۔ کل تک عمران نیازی کے حامی عدلیہ کے ہر فیصلے کو ” دباﺅ“ قرار دیتے رہے لیکن آج اگر عدالت عمران خان کو طبی سہولت فراہم کرتی ہے تو اسے عدلیہ کی آزادی کی دلیل کہا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عدلیہ اچھی صرف اس وقت ہے جب فیصلہ ہمارے حق میں آئے؟ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور ہر سیاسی جماعت کو ایک ہی معیار اپنانا ہوگا: عدالت کا فیصلہ پسند ہو یا ناپسند، ادارہ اسی وقت معتبر ہے جب اصول فیصلے سے بڑا ہو۔ عمران نیازی متعدد مقدمات میں سزا یافتہ ہو چکے ہیں، تاہم بعض سزائیں اپیل یا قانونی مراحل میں زیرِ بحث ہیں اور عمران خان مسلسل یہ م¶قف اختیار کرتے رہے ہیں کہ مقدمات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں۔ رائٹرز کے مطابق القادر ٹرسٹ کیس میں انہیں اور بشریٰ بی بی کو 2025ءمیں سزا سنائی گئی جبکہ سائفر کیس میں سنائی گئی سزا بعد ازاں اپیل میں ختم ہو گئی لیکن توشہ خانہ سمیت دیگر مقدمات ابھی مختلف قانونی مراحل سے گزرے ہیں۔ عمران خان نے پاکستانی سیاست میں ملک ریاض کو بارہا طاقتور سیاسی و کاروباری کردار کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ ان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں برطانیہ سے آنے والی تقریباً 190 ملین پا¶نڈ کی رقم اور زمین کے معاملے پر قانونی کارروائی ہوئی۔ امریکی سازش کے الزام سے لے کر ”Absolutely Not“ تک خارجہ پالیسی کو سیاسی مزاحمت کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ 
 عمران نیازی نے عوام سے کہا تھا کہ وہ ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک قانون ہوگا۔ آج خود ان کا مقدمہ اس وعدے کا امتحان بن چکا ہے۔اگر انہیں بیماری کی بنیاد پر علاج کی ضرورت ہے تو علاج ملنا چاہیے۔ ریاست کا اخلاقی قد اس بات سے بلند ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالف کے ساتھ بھی قانون اور بنیادی حقوق کے مطابق سلوک کرے۔ جیل میں بند شخص چاہے سیاسی مخالف ہو، مجرم ہو یا زیرِ سماعت قیدی، اس کے بنیادی انسانی حقوق ختم نہیں ہو جاتے۔عمران نیازی اگر واقعی اپنی سیاست کو ”اصول“ کی سیاست کہتے ہیں تو انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اصول صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کھونے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ انہیں اپنے ماضی کے بیانات، اپنے فیصلوں اور اپنے سیاسی تضادات کا سامنا کرنا ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم، ادارہ جاتی کشمکش اور عوامی بے یقینی کا شکار ہے۔ ہمیں ایک اور ایسا سیاسی تصادم نہیں چاہیے جس میں ہر فریق اپنے مخالف کو ملک کا دشمن اور اپنے آپ کو ملک کا واحد نجات دہندہ سمجھنے لگے۔
خاموش عمران خان تحریک انصاف کے لیے ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ علامت ہے مگر بولتا ہوا عمران خان ریاست کے لیے ایک سیاسی چیلنج کی اہمیت رکھتا ہے۔ کیا خاموش عمران نیازی اُس نسل کو قابل ِ قبول ہو گا جن کے دماغ غصیلی تقریروں کے عادی ہو چکے ہیں ؟ میں اپنے موقف پر قائم ہوں کہ قبر ایک ہے اور مردے دو سو فیصلہ اب صاحب اختیار نے کرنا ہے کہ پاکستان کو سری لنکا بنانے کی خواہش رکھنے والے کو ایک بار پھر تیاری کرواکر میدان میں اتارنا ہے یا اس سے بہترکوئی اور آپشن بھی موجود ہے ۔اگر کسی کے دماغ میں یہ غلط فہمی ہے کہ عمران نیازی کسی عہد کو ایفا ءکرئے گا تو اُسے سیاست نہیں علاج کی ضرورت ہے۔ اس ملک کو اب کسی ”مسیحا“ سے زیادہ ایسے نظام کی ضرورت ہے ۔باقی شفاءمن جانب اللہ ہی شفاءہسپتال تو تندرستی یا موت سے پہلے کی قیام گاہ ہے ۔

مزیدخبریں