مفتی اعظم کے فتویٰ کا انتظار ہے

09:22 AM, 21 Aug, 2026

نہیں معلوم کہ مفتی اعظم عوامی مشکلات سے آگاہ بھی ہیں یا نہیں لیکن گمان غالب ہے کہ آج کی گلوبل ولیج میں وہ کس طرح ملکی حالات سے لا تعلق رہ سکتے ہیں، ان کے علم میں یقینا ہوگا کہ اس ملک کی قریباً45 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے،بین السطور اس کا مطلب یہ ہوا، سماج کی اس کلاس کی رسائی بنیادی ضروریات تک نہیں ہے،وہ صرف دو وقت کی روٹی کھا کرسوجانے والوں میں سے ہے، نہ تو انہیں کسی تفریح سے کوئی غرض ہے،نہ ہی ہوٹلنگ ان کے بچوں کا مقدر ہے،کسی بڑی سواری اور جہاز کا سفر ان کے نصیب میں کہاں، مفتی جی یہ بھی بخوبی جانتے ہونگے، قریباً 14 کروڑ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے،پھل کھانا، دودھ پینا اور انڈہ ناشتے کا حصہ ہونا ان کا خواب تو ہو سکتا ہے، مگر حقیت نہیں۔
 ریاست کے ہر صوبہ میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں،انصاف کی فراہمی کا معاملہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے، جب پارلیمنٹ کے اراکین یہ اعتراف کرتے ہوں کہ بغیر رشوت دیئے کوئی سرکاری کام ہونا ممکن نہیں، اعلیٰ افسر شاہی، عدلیہ اور عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، غربت کی وجہ سے ایک گھر اور مکان میں اوسطاً 10 سے 12 افراد رہنے پر مجبور ہیں، ان خاندانوں کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی، آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں، سودی نظام روا رکھا جا رہا ہے، تھانوں میں خواتین کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کی شکایات ہیں، ملک کی اقلیت کے پاس وسیع تر قومی وسائل ہیں، بے روزگاری نے نوجوانان کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔
جاگیر داری، سرداری، وڈیرہ شاہی اور گدی نشینی کا مربوط نظام قومی مسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ایسی ریاست جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام تر نعمتیں عطا کی ہوں، اس میں عوام الناس کی حالت زار خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ سیرت معلم انسانیت کے مصنف ڈاکٹر طارق سلیم رقم کرتے ہیں۔ عرب کا وہ معاشرہ جسے ”دورہ جاہلیت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ علم سے محروم نہیں تھا، بلکہ ہدایت سے دوری تھی، جھوٹ، سود، شراب نوشی، قمار بازاری۔ ظلم طبقاتی تفاوت، اخلاقی بے راہ روی عام تھی، طاقت ور کمزور کو دبا لیتا، حق صرف اس کا مانا جاتا جس کے پاس قوت ہوتی، کیا یہ سب کچھ ہمارے سماج میں نہیں ہو رہا ہے؟
نبی مہربان جب معبوث ہوئے تو آپ نے دلوں سے خوف، نفرت، جہالت، تعصب کے بت گرا دیئے، انسان کو رب سے جوڑا، عورت کو عزت دی، غلام کو وقار بخشا، یتیم کو سہارا دیا، عدل کو قوت پر اور تقویٰ کو نسب پر برتری دی، ایسی تہذب کی بنیاد رکھی کہ جس کی روشنی سے کروڑوں لوگ آج بھی مستفید ہو رہے ہیں، آپ کے عہد نبوی میں دنیا کی دو بڑی طاقتیں سلطنت فارس، اور روم اپنے اپنے علاقہ جات پر حکمران مگر باہمی رقابت کی وجہ اخلاقی قوانین سے عاری تھیں۔ عرب کا خطہ انکی براہ راست گرفت سے باہر تھا۔ مگر آپ نے اسلامی ریاست قائم کر کے آنے والے تمام مسلم حکمرانوں کے لئے وہ راہنما اصول مرتب کیے، جو قیصر و کسریٰ کی ریاستوں سے بالکل مختلف تھے، اس میں انسانیت کی بھلائی ہی بھلائی تھی۔
علماءکرام کو انبیاءکا وارث کہا جاتا ہے، کیا انکے فرائض میں نہیں ہے، کہ وہ عوام کی اس بے بسی پر اپنا تعمیری کردار ادا کریں؟ کہا جاتا ہے کہ جنوری1951 میںسید سلیمان ندوی ؒکی صدارت میں تین روزہ جو اجتماع کراچی میں منعقد ہوا، اس میں 31 علماءکرام نے 22 دستوری نقاط متفقہ طور پر منظور کئے، ایک نقطہ یہ تھا کہ مملکت بلا امتیاز رنگ ونسل، مذہب عوام الناس کی بنیادی ضرویات ،یعنی غذا،لباس، مسکن، علاج معالجہ، تعلیم کی کفیل ہوگی، خواہ اکتساب رزق کے قابل نہ ہو، یا نہ رہے یا عارضی بے روزگار ہو جائے،حدود قانون کے اندر تحفظ جان و مال آبرو مملکت کی ذمہ داری ہوگی۔ اسی قبیل کی کاوشوں سے بعد ازاں آئین پاکستان میں وہ تمام حقوق شامل کر وادیئے،جنہیں بنیادی حقوق مانا جاتا ہے،اگر آئین میں درج حقوق عوام الناس کو نہیں مل رہے ،تو کیا مفتی اعظم کے فرائض منصبی میں شامل نہیں کہ وہ ارباب اختیار کو اس بابت متوجہ کریں، اگرچہ ان کے پاس انتظامی اختیار نہیں۔ ہماری پارلیمنٹ میںایسا کوئی عہد نہیں تھا، جب علماءکرام اس کا حصہ نہ رہے ہوں، دیگر کی طرح یہ مراعات نہ لیتے رہے ہوں، انکی کارکردگی کا اگر تقابلی جائزہ لیں تو مسٹر اور ملا ءمیں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا یہی تلخ اور زمینی حقائق ہیں۔
محترم مولانامفتی منیب فرماتے ہیں کہ اس سرزمین پر ایسی دینی جماعتیں بھی ہیں لاکھوں افراد انکے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں، ان کو اس لئے قبول کیا گیا کہ وہ نظام کو کچھ نہیں کہتے ظالم کو ظالم نہیں کہتے ،قاتل کو قاتل نہیں کہتے، لٹیرے کو لٹیرا نہیں کہتے، لوگوں کے حقوق غصب کرنے والوں کو غاصب نہیں کہتے، نماز کی دعوت دینا تو بہت آسان کام ہے لیکن وقت کے ظالم کو ظالم کہنا، قاتل کے ہاتھ روکنا مشکل ترین کام تو یہی ہے۔ جابر اور ظالم کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کو افضل جہادکہا جاتا ہے، اب تو جرائم پیشہ لوگوں نے جنت کے حصول کا آسان راستہ اپناتے ہوئے آخری دعا میں شرکت کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔ اقبالؒ نے فرمایا تھا۔
رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم
عصا نہ ہو توکلیمی ہے کار بے بنیاد
 انبیاءکرام نے ساری حیاتی لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنے میں صرف کی ہے،جس ریاست میں98فیصد سے زائد مسلمان ہوں، اخلاقی اعتبار سے وہ عالم میں پچھلی صفوں میں ہو، تو علماءکرام کو اپنے اعمال کا جائزہ نہیں لینا چاہیے،روایت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی نماز عید میں بانی پاکستان نے بھی شرکت کرنا تھی،وہ تاخیر سے پہنچے،اگرچہ انہیں نماز کا وقت بتا دیا گیا، حکام کے کہنے کے باوجود امام صاحب مولانا ظہور الحسن نے بانی پاکستان کا انتظار کرنے سے انکار کر دیا، قائد اعظم پہنچے انتظامیہ نے انہیں اگلی صف میں پروٹوکول کے تحت لے جانا چاہا تو قائد نے انکار کیا اور پچھلی صف میں نماز ادا کی، انہوں نے انتظار نہ کرنے پر مولانا کی تحسین کی اور کہا علماءکو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہئے۔ہم منتظر ہیں کہ کب مفتی اعظم ارباب اختیار کی بد انتظامیوں اور شاہ خرچیوں اور عوام الناس کی بے بسی پر فتویٰ جاری کریں، شریعت کورٹ کب ،معاشی، سماجی اور قانونی نا انصافی کا نوٹس لے گی، بانی پاکستان جیسے زیرک حکمران اور مولانا ظہورالحسن ، ارباب اختیار کی خوشامد سے مبرا ایسے علماءکرام کب ہمارا مقدر ہوں گے۔

مزیدخبریں