معیشت کے بڑے بڑے اعداد و شمار، کھربوں روپے کے بجٹ، ترقی کے بلند بانگ دعوے اور معاشی اشاریے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ریاست کی اصل کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ عام آدمی کا چولہا جل رہا ہے یا نہیں۔ اگر مزدور سارا دن مشقت کے بعد بھی اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہ کھلا سکے تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشی نظام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک تحریر نے عوام کی توجہ حاصل کی، جس میں یہ بتایا گیا کہ اگر ایک روٹی کی قیمت 25 روپے ہو اور چھ افراد پر مشتمل خاندان روزانہ 36 روٹیاں استعمال کرے تو صرف روٹی پر روزانہ 900 روپے اور ماہانہ تقریباً 27 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس تحریر نے ایک اہم حقیقت کی نشاندہی ضرور کی ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آٹے، گھی، چینی، دالوں، سبزیوں، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف بجلی، گیس، پٹرول اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ بھی عوام کے لیے ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔
اگر کم از کم اجرت کو سامنے رکھا جائے تو ایک دیہاڑی دار مزدور یا کم تنخواہ لینے والا ملازم سب سے پہلے مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے، پھر بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی اور گیس کے بل، سفری اخراجات اور دیگر ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر صرف خوراک ہی اس کی آمدنی کا بڑا حصہ کھا جائے تو باقی ضروریات کے لیے اس کے پاس بہت کم وسائل بچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں خاندان قرض لینے، ضروریات کم کرنے یا بچوں کی تعلیم اور علاج پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔بار بار بجلی کی لوڈشیڈنگ دراصل غریب کی جیب پر حملہ ہے۔ بلکہ چھوٹے کاروبار، ورکشاپیں، درزی، ویلڈر، نانبائی اور دیگر روزگار سے وابستہ افراد بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔ جب روزگار متاثر ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر گھر کے چولہے پر پڑتا ہے۔ اس لیے توانائی کا بحران صرف بجلی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف قیمتیں مقرر کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ زرعی پیداوار میں اضافہ، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، ٹیکس نظام میں اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں کا فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہوتے ہیں۔ اگر پیداوار کم اور طلب زیادہ ہو تو قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان اس وقت بیرونی قرضوں، مالی خسارے اور ادائیگیوں کے دبا کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومتیں مختلف اوقات میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے مالی تعاون حاصل کرتی رہی ہیں تاکہ معیشت کو سنبھالا جا سکے۔ لیکن قرض لینا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔ مستقل حل یہ ہے کہ ملک میں ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کی جائیں جن سے سرمایہ کاری بڑھے، صنعتیں چلیں، برآمدات میں اضافہ ہو، زراعت مضبوط ہو اور نوجوانوں کو روزگار ملے۔ جب عوام کی آمدنی بڑھے گی تو مہنگائی کا بوجھ نسبتاً کم محسوس ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں کم آمدنی والے طبقات کے لیے سبسڈی، فوڈ سپورٹ، ہیلتھ انشورنس اور سماجی تحفظ کے پروگرام متعارف کراتی ہیں تاکہ کوئی خاندان بھوک یا شدید غربت کا شکار نہ ہو۔ پاکستان میں بھی احساس پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر فلاحی اقدامات کیے گئے، لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ان پروگراموں کی افادیت پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امدادی پروگراموں کے ساتھ ساتھ مستقل روزگار اور معاشی استحکام پر توجہ دی جائے۔
سوشل میڈیا پر جذباتی تحریریں اکثر عوامی احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں، لیکن پالیسی سازی ہمیشہ مکمل حقائق، مستند اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر ہر خاندان روزانہ 36 روٹیاں استعمال نہیں کرتا، اسی لیے ایسے اعداد کو عمومی مثال کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ ہر گھر کی حقیقی تصویر سمجھنا چاہیے۔ تاہم اس مثال کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ خوراک کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کی زندگی کو کس حد تک متاثر کیا ہے، اور اس مقصد میں یہ تحریر کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ حکومت، اپوزیشن، ماہرینِ معیشت، صنعتکار، تاجر اور سول سوسائٹی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات تجویز کریں جن سے مہنگائی کم ہو، روزگار بڑھے، سرمایہ کاری آئے اور عام آدمی کی زندگی آسان بنے۔
مہنگائی نے زندگی کا حساب بدل دیا
09:19 AM, 21 Aug, 2026