لاہور : لاہور کی سپیریئر یونیورسٹی میں پاکستان کے مستقبل سے متعلق ایک اہم اور بصیرت افروز سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع تھا: "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں"۔ یہ سیمینار ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔
اس موقع پر معروف تعلیمی رہنما اور چیئرمین پنجاب گروپ، میاں عامر محمود مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جب کہ APSUP کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمن نے بھی خصوصی شرکت کی۔
میاں عامر محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت گورننس اور قیادت کے سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے، اور اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر صوبائی نظامِ حکومت میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی 33 ڈویژنز کو صوبے بنا دیا جائے، تو عوامی مسائل مقامی سطح پر زیادہ بہتر انداز میں حل ہو سکیں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چھوٹے صوبے نہ صرف انتظامی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ وہاں کرپشن کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسا گورننس ماڈل اپنانا ہوگا جو عوامی مسائل کو جلد اور مؤثر طریقے سے حل کر سکے۔
سیمینار میں شریک طلباء و طالبات نے بھی بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور سوال و جواب کے سیشن میں قومی مسائل پر کھل کر گفتگو کی۔ طلبہ نے اس سیمینار کو ایک قیمتی تجربہ قرار دیا جس سے انہیں سوچنے اور سمجھنے کا نیا زاویہ ملا۔
آخر میں پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمن نے میاں عامر محمود کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یادگاری تحفہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سیمینارز نوجوان نسل کو ملکی مسائل سے آگاہ کرنے اور انہیں حل کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔