کابل : کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان ساتواں سہ فریقی مذاکراتی اجلاس کا انعقاد ہورہاہے، جو گزشتہ اجلاسوں اسلام آباد (2023) اور بیجنگ (2025) کا تسلسل ہے۔ اس اجلاس میں خطے میں امن، سیکورٹی اور معاشی روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان نے اس فریم ورک میں مرکزی کردار ادا کیا ہے، جبکہ چین نے پاکستان اور عبوری افغان حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اجلاس میں خاص طور پر افغانستان کو چائنا-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) میں شامل کرنے پر پیش رفت کی گئی، جو مئی 2025 میں اصولی طور پر طے پایا تھا۔
CPEC کے ذریعے افغانستان کو علاقائی اقتصادی روابط میں شامل کرنے کا مقصد اسے تنہائی سے نکال کر جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان پل بنانا ہے، جس سے روزگار، تجارت اور انفراسٹرکچر میں بہتری آئے گی اور دہشت گردی کے عوامل کم ہوں گے۔
مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کو بھی بنیادی حیثیت دی گئی، جہاں تینوں ممالک نے ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم اور آئی ایس کے پی کے خلاف مشترکہ کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔ چینی سرمایہ کاری اور گوادر پورٹ کی حفاظت بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہی۔
یہ سہ فریقی اجلاس خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ایک عملی اور موثر فریم ورک کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان، چین اور افغانستان باہمی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں