’’افواج پاکستان سلیوٹ‘‘

09:08 AM, 20 Aug, 2025

پاکستان کی عسکری قوت کا آج پورا عالم مداح ہے تو ایسا بے وجہ بھی نہیں میدان جنگ ہو مفاہمت کی بات ہو عالمی منظر نامہ ہو سب سے بڑھ کر اقوام عالم میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اس مقام پر پہچانے کا سہرا ہوسب ہماری عسکری قیادت کے سرہے۔…
ایسا سیاست دانوں کے ہاتھوں کبھی بھی نہیںہوا کہ بیک وقت ایران امریکہ چین مشرق وسطیٰ اور روس سے بھی تعلقات کی نہج ایسی اعلیٰ ہوکہتے ہیں کہ فتح کا نعم البدل اور کچھ نہیں اپنی پوری زندگی میں ہم نے پہلی مرتبہ فتح کا نشہ محسوس کیا اور شکرگزاری کے عالم میں کہ تمام عمر یہی سنتے گزرچکی تھی کہ بھارت بڑا طاقت ور ہے اس سے قبل سارا بچپن یہ سنتے تھے کہ امریکہ ایک بٹن ہلائے گا اور ہمارا ’’سروناش‘‘ ہو جائے گا مگر گزرا ہوا 14اگست اور آنے والا 6ستمبرہمارے فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کے نام کی گواہی دے گا۔ جس نے ہمیں سربلند کیا اور گزشتہ کے تمام کمزوری کے مفروضوں کو خاک میں ملا دیا…
وہ اعتماد جو ہم تمام عمر نہ حاصل کرسکے اور رہی سہی کسر ہمارے مایوس ترین کالم نگاروں اور اینکروں نے پوری کررکھی تھی اس اندھے کنوئیں سے نجات ہمیں ہمارے سپہ سالار نے دی…
حافظ قرآن دبنگ لہجہ مکمل اعتماد اور بہادری وشجاعت کا دوسرا نام عاصم منیر ہے یہ وہ نام ہے جس سے بھارت کے نام نہاد تجزیہ نگارتو کانپتے ہی تھے آج ایک قدم اور بڑھ کر پوری دنیا کوامریکہ کی سرزمین پر کھڑے ہوکر پیغام دیاکہ اگرپاکستان کو خطرہ محسوس ہوا تو ہم آدھی دنیا کو لے کر ختم ہوں گے…
کیسی شاندار سپاہی کی زندگی اور کیسی دبنگ اعلان شہادت ہے یہ جرأت یہ ہمت صرف مسلمان سپائی کو حاصل ہے میں جب انہیں چھوٹے بچوں سے پیار کرتے اپنے لوگوں سے ملتے دیکھتی ہوں تو اقبال یاد آتے ہیں…
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن
جو مرد گھروں میں رعب کا مظاہرہ کرتے ہیں کمزوروں پر طاقت جماتے ہیں جن کا لہجہ اورآواز غریب پر حاوی ہوجاتی ہے وہ عاصم منیر کو دیکھیں اصل بہادری کیا ہے عورتوں بچوں مظلوموں یتیموں پر ظلم ڈھانے والے شرم سے ڈوب مریں کہ مرد آہن وہ ہوتا ہے جو ملک دشمن قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے۔ اور اپنے عوام سے محبت کرتا ہے۔ 
آج طاقتور ترین قوتیں نہایت پروقار انداز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کرتی ہیں تو سرفخر سے بلند ہوجاتا ہے کہتے ہیں ہمارے ہاں بلکہ پنجابی میںمحاورہ بھی ہے کہ ’’حسن وہ جس کی سوکن بھی تعریف کرے ‘‘ہمارے یہاں سے بھاگے ہوئے اینکرز جو باہر بیٹھے پاکستان کے خلاف بک بک کرتے رہتے ہیں ( یہاں تو دودن کی قید میں بچوں کی طرح چیخیں مارکر روتے تھے) ا ن میں سے ایک ایسا اینکرجو اپنے مرے ہوئے باپ کے انگوٹھے لگا کر جائیداد ہڑپ کر باہر بھاگ گیا۔ معید پیرزادہ ایک وقت تھا اس نے اس ساری فتح ہی کو ڈس کریڈٹ کردیا تھا آج ایک پروگرام میں کہہ رہا تھا کہ  عاصم منیر آخری حدتک نڈر اور بے خوف ہیں بہرطور شاہین کو تو اپنی پرواز سے کام ہے نہ وہ تعریفوںپر کان دھرتا ہے کہ ہرتعریف خدا کیلئے ہے اور اسی کے توسط سے انسان کا نصیب بنتی ہے اور نہ تنقید سے گھبراتا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے کنکراس کی پرواز میںمخل نہیںہوسکتے …
محض بہادری بے خوفی اور شوق شہادت ہی کی بات نہیں بلکہ اعلیٰ جنگی وسیاسی حکمت عملی نے بھارت کے چھکے چھڑارکھے ہیں۔ آج ایران کے سربراہ فخر سے پاکستان آتے ہیں صدر ٹرمپ پوری دنیا میںچن کر ہمارے ہی فیلڈمارشل چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کوپوری عزت سے کھانے پر بلاتے ہیں مقصد یہ کہ ان سے مشاورت کرتے ہیں دنیا بھر میں پاکستان کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور وہ کیا شاندار لمحہ ہے جب ابھی بھارتی کارٹون وزیراعظم مودی اور انتہائی پست انڈیا میڈیا ابھی فیلڈمارشل صاحب کے امریکی دورے اور عزت افزائی کا غم بھی ہضم نہیں کرپایا کہ دوسری مرتبہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی باوقار شخصیت کو امریکہ دعوت دی گئی۔ استقبال ہو اور تاریخ گواہ ہے کہ آج تک اتنا دلیر سپہ سالار کسی جگہ کم ہی ہوگا جیسا بیان ہمارے سپہ سالار نے امریکہ کی سرزمین پر دے کر پاکستان کا بیٹا ہونے کا حق ادا کردیا … اگر ہمیں خطرہ محسوس ہوا تو ہم آدھی دنیا لے کر جائیں گے۔ ایسی بہادری ایسی جواں مردی صرف مسلمان مائیں اپنے بیٹوں کو گھٹی میں دیتی ہیں ایک بات توواقعی طے ہے جیسا کہ قائداعظم نے بھی کہا کہ مسلمان موت سے گھبرایا نہیںکرتا حالیہ جنگ میں ہم نے دیکھ لیا ہمارے ہاں کابوڑھا جوان عورت بچہ کوئی ایک بھی نہ صرف گھبرایا نہیں بلکہ ہم سب کا دل چاہتا تھا محاذ پر جاکر اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
 ہرلحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان 
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
جس سے جگرلالہ میں ٹھنڈک ہووہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
 آج قوم کی مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے سپاہیوں کو سلام کہتی ہے
بیٹی ہوں سوہنے دیس کی مٹی کی باس ہوں
راوی کبھی چناب ہوں ستلج بیاس ہوں
خداگواہ ہے کہ اس مرتبہ جو جشن آزادی منانے کا لطف آیا ایسا آبرومندانہ فخر پہلے کبھی نہ ملا تھا اس موقع پر میں نے افواج پاکستان کیلئے پاکستان ٹیلی وژن پراپنا کلام ریکارڈ کروایا جو بہت پسند کیا گیا۔ 
اپنی پاک افواج کیلئے یہاں درج کرتی ہوں۔ 
ہم چیرکے رکھ دیں گے جگر ذہن میںرکھنا
   گوامن کے داعی ہیں مگر ذہن میں رکھنا
 شاہین جھپٹتے ہیں تو پھر کچھ نہیںبچتا
تم اپنی ہزیمت کا سفر ذہن میں رکھنا
اک  ہاتھ سے خیبر کواڑادیتے تھے حیدر
ہم وارث حیدر ہیں یہ ڈر ذہن میں رکھنا 
ہم بیٹوں کو گھٹی میں پلاتے ہیں شہادت 
ہم جنتی ماؤں کا نگرذہن میں رکھنا 
رافیل سی چڑیا کو اڑانا ہے تو سن لو
مسکن ہے عقابوں کا ادھر ذہن میں رکھنا

مزیدخبریں