بارش ہمیشہ رحمت کہلاتی ہے، لیکن جب یہ بادل ٹوٹ کر غضب ڈھاتے ہیں تو یہی رحمت انسانوں کے لیے زحمت اور عذاب میں بدل جاتی ہے۔ پچھلے دنوں خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں جو کچھ ہوا، وہ محض برسات نہیں تھی بلکہ قدرت کی ایک غضبناک جھلک تھی۔ ایک ہی دن میں ڈیڑھ سو ملی میٹر سے زیادہ بارش نے درجنوں بستیاں اجاڑ ڈالیں۔ پہاڑوں سے پتھروں اور مٹی کا سیلاب آیا، گاڑیاں، مکانات اور انسان لمحوں میں پانی کے ریلوں کے حوالے ہو گئے۔ کسی کو سنبھلنے، بھاگنے یا محفوظ مقام پر جانے کا موقع نہ مل سکا۔پاکستانی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس مون سون کی بارشوں اور فلیش فلڈز کے نتیجے میں اب تک ساڑھے چھ سو سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ حالیہ سیلاب میں خیبر پختونخوا میں تین سو سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ بونیر میں دو سو سے زیادہ لوگ موت کی وادی میں اتر گئے۔ ان میں بزرگ بھی تھے، مائیں بھی اور وہ بچے بھی جو اپنی کتابوں اور خوابوں کے ساتھ کل کا پاکستان بننے جا رہے تھے۔ سیکڑوںمکانات تباہ ہوئے، درجنوں پل بہہ گئے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں۔یہ سب کچھ ایک لمحے میں نہیں ہوا۔ یہ تباہی کئی برسوں کی لاپروائی، عاقبت نااندیشی اور فطرت سے بغاوت کا نتیجہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب کسی مغربی کانفرنس کی اصطلاح نہیں، یہ ہمارے دروازے پر کھڑا ایک کھلا چیلنج ہے۔ انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج کی چھٹی اور ساتویں رپورٹس بار بار خبردار کر چکی ہیں کہ جنوبی ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل ہے۔ کبھی ریکارڈ توڑ گرمی، کبھی ناقابلِ برداشت نمی اور پھر اچانک بادل پھٹنے کی کیفیت، یہ سب موسمیاتی تبدیلی کی براہ راست نشانیاں ہیں۔کلاؤڈ برسٹ دراصل اسی حقیقت کا نام ہے۔ جب حد سے زیادہ گرمی میں بھاری بادل اوپر جمع ہو جائیں اور اچانک ٹھنڈی ہواؤں سے ٹکرا جائیں تو وہ لمحوں میں ٹوٹ کر زمین پر آ گرتے ہیں۔ ایک ہی مقام پر چند گھنٹوں میں سو ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو جائے تو ندی نالے دریا بن جاتے ہیں اور بستیاں مٹ جاتی ہیں۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے اس بار خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات کے باسیوں نے بھگتا اور ہم سب نے اپنی آنکھوں سے یہ انتہائی تکلیف دہ مناظر دیکھے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچاؤ کے لیے کیا کیا؟ کیا ہمارے پہاڑ واقعی جنگلات سے بھرے ہیں؟ اگر اربوں درخت جوبلین ٹری سونامی کے نام پر لگائے گئے تھے تو یہ پہاڑ آج بھی ننگے اور کٹے ہوئے کیوں ہیں؟ ویڈیوز میں ہم نے دیکھا کہ مٹی اور بڑے بڑے پتھر پانی کے ساتھ بہہ رہے ہیں، تو یہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ جنگلات کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ درخت ہوتے تو یہ زمین کو باندھ کر رکھتے، پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھتے اور لوگوں کو بچانے کے لیے قدرتی ڈھال بنتے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر وہ مؤثر ہوتیں تو دریا کے کنارے بازار اور مکانات کیوں تعمیر ہوتے؟ اگر بروقت انتباہی نظام لگایا جاتا تو لوگ کیوں راتوں رات اپنے گھروں سمیت پانی کی نذر ہو جاتے؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب آج نہیں دئیے گئے تو کل پھر ایک اور آفت آ کر ہمیں بے بس کر دے گی۔ افسوس یہ بھی ہے کہ عالمی امداد کے آسر ے پر بیٹھے رہے اور خودکچھ نہیں کیا۔ 2022 کے بدترین سیلاب کے بعد جب جنیوا کانفرنس میں پاکستان کو نو ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد کا وعدہ ملا تو پوری دنیا نے سمجھا کہ شاید اب پاکستان اپنے لوگوں کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے منصوبے شروع کرے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر فنڈز قرضوں کی شکل میں تھے، اور وہ بھی آئی ایم ایف کی ہاں سے مشروط۔ صرف پانچ فیصد رقم گرانٹ تھی۔ وعدوں کے برخلاف لگ بھک 45 فیصد لون گرانٹ موصول ہوئی۔ جس کا ایک بڑا حصہ تیل یا دیگر سہولتوں کی شکل میں آیا لیکن جو ملا اس سے نہ جدید موسمیاتی پیش گوئی کا نظام نصب ہوا اور نہ ہی پہاڑوں اور دریاؤں کی حفاظت کے منصوبوں پر کام شروع کیا گیا تو سوچیں دنیا ہم پر کیوں اعتبار کرے؟2018 میں عالمی بینک نے 118 ملین ڈالر کا سافٹ لون منظور کیا تاکہ پاکستان ایڈوانسڈ ویدر پریڈکشن سسٹم نصب کرے۔ یہ نظام ہمیں 6 سے 8 ماہ پہلے سے خبردار کر سکتا تھا کہ کب، کہاں اور کتنی بارش ہو گی۔ لیکن بیوروکریسی کی سست روی اور فائلوں میں رکاوٹوں نے وہ منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہونے دیا۔ یہ
صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔ ہم نے اب تک موسمیاتی تبدیلی کو ایک سائنسی اصطلاح یا عالمی کانفرنس کا موضوع سمجھ رکھا ہے، حالانکہ یہ براہ راست ہماری زندگی، ہماری معیشت اور ہماری بقا سے جڑا ہے۔پاکستان کے پڑوسی ممالک بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال نے گلوبل کلائمٹ فنڈنگ سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ وہاں نجی شعبہ، مقامی کمیونٹیز اور حکومتیں ایک پلیٹ فارم پر آ کر بڑے بڑے منصوبے چلا رہی ہیں۔ 2017 کے ایکٹ کے مطابق پاکستان کو ’’کلائمٹ چینج فنڈ‘‘ قائم کرنا تھا لیکن وہ صرف کاغذوں تک محدود ہے۔یہ مسئلہ صرف محکمہ ماحولیات کا نہیں، یہ ہر شعبے کا ہے۔ کسان کی زمین پانی پر ہے، صنعت کا پہیہ توانائی پر ہے اور معیشت کی بنیاد قدرتی وسائل پر ہے۔ اگر ہم نے موسمیاتی ایڈاپٹیشن، پانی کے بہتر استعمال اور کمیونٹی ریزیلینس پر کام نہ کیا تو آنے والی نسلوں کو ہم ایک تباہ حال سرزمین ورثے میں دیں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں۔ ریزرو فاریسٹ کو محفوظ علاقہ قرار دے کر سختی سے اس پر عمل درآمد کرانا ہو گا۔ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر فوری شجرکاری کی جائے۔ دریاؤں کے کناروں پر حفاظتی بند تعمیر ہوں اور ہر علاقے کی کمزوری کے مطابق ’’ایریا ٹو ایریا‘‘ حل نکالے جائیں۔ چھوٹے چھوٹے پائلٹ پروجیکٹس فوری شروع کیے جائیں تاکہ لوگوں کو امید ملے کہ تباہی کے بعد تعمیر بھی ممکن ہے۔اس آفت نے ہمیں ایک اور سبق دیا ہے کہ قدرت سے بغاوت کا نتیجہ ہمیشہ تباہی ہے۔ جنگلات کاٹیں گے تو مٹی اور پتھر ہمارے گھروں میں آئیں گے۔ دریا کے راستے روکیں گے تو وہ ہمیں اپنے راستے سے بہا لے جائیں گے۔ پہاڑوں پر سڑکیں بنائیں گے مگر ان کی حفاظت نہیں کریں گے تو وہ ہمارے قدموں کے نیچے سے سرک جائیں گے۔یہ لمحہ فکریہ ہے۔ ہم کب تک صرف لاشیں گننے اور امدادی خیمے لگانے تک محدود رہیں گے؟ کب تک عالمی اداروں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہیں گے مگر اپنی زمین پر درخت نہیں لگائیں گے؟ کب تک منصوبوں کے اعلان کریں گے مگر بیورو کریسی کی سستی اور کرپشن انہیں کھا جائے گی؟ وقت کم ہے اور خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی غفلت برتی تو آنے والے برسوں میں صرف سیلاب نہیں، خشک سالی اور ہیٹ ویوز بھی ہماری زمین کو اجاڑ دیں گی۔پاکستان کو فیصلہ کرنا ہو گا۔ یا تو ہم قدرت کے ساتھ چل کر اپنے بچوں کو ایک محفوظ سرزمین دیں گے یا پھر کل جب بادل ٹوٹیں گے تو صرف بارش نہیں برسے گی، ہمارے خواب اور ہماری امیدیں بھی بہہ جائیں گی۔
قدرت سے بغاوت کا نتیجہ!
09:08 AM, 20 Aug, 2025